چلے آ رہے ہیں
11 اپریل 2018 2018-04-11

پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے سیاسی لوگ آنے والے حالات کو دیکھ کر ہی جناب عمران خان کے ہم قدم ہو رہے ہیں کہ انہیں صاف نظر آ رہا ہے مستقبل میں سیاسی منظرنامہ روایتی نہیں غیر روایتی ہو گا جس میں اس کے بر عکس عمل پیرا سیاسی جماعتیں اور سیاستدان اپنی سیاست کاری ٹھیک طور سے جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ لہٰذا سیاسی موسم کے بدلتے تیور کو ملحوظ رکھتے ہوئے نئے سیاسی راستے کا انتخاب لازمی ہے۔۔۔
سوال یہ ہے کہ ان حضرات سے کیا یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ پی ٹی آئی کے ’’منشور‘‘ سے مکمل طور سے متفق ہیں ۔ لگ رہا ہے کہ چیئر مین تحریک انصاف نے جب انہیں اپنے ہمراہ کیا ہے تو ان سے یہ وعدہ بھی لیا ہو گا کہ وہ پی ٹی آئی کی سیاست و پروگرام سے پہلوتہی نہیں کریں گے۔ اور زندگی جو تلخ سے تلخ تر ہوئی جا رہی ہے کو پر سکون و پر آشائش بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔ مگر نا قدین کا خیال ہے کہ یہ جو دھڑا دھڑ آ رہے ہیں پرانی ڈگر پر چلیں گے انہیں عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار کرنا کافی مشکل ہو گا۔ کیونکہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں رہ کر جو پایا ہے اور سیکھا ہے اس کے مطابق عوام کے لیے زیادہ سنجیدہ نہیں ہواجاتا۔ ذاتی مفادات کو ہی مقدم جانا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کی جاتی ہے اور پھر اسے ملک سے باہر منتقل کر دیا جاتا ہے۔
بلا شبہ عادتیں یکسر تبدیل نہیں ہوتیں لہٰذا پی ٹی آئی کی منڈیر پر بیٹھنے والے ببر شیروں سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ عوامی توقعات پر سو فیصد پورا اُتریں گے مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر چیئر مین عمران خان نے کوئی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ہر صورت اپنی جماعتی پالیسیوں پر عمل درآمد کریں اور کرائیں گے تو بات دوسری ہے وگرنہ ان کے گرد جتنے بھی اب تک بڑے لوگ جمع ہو چکے ہیں ۔وہ عوامی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ کل تک وہ مسلم لیگ (ن) کے مؤقف میں ہلکان ہوئے جا رہے تھے۔ شاید یہ ان کی مجبوری تھی مگر وہ خاموشی تو اختیار کر سکتے تھے۔ ایسا انہوں نے نہیں کیا۔ جس سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے پروگرام میں رکاوٹ ڈالیں گے۔۔۔؟
بہر حال جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ عمران خان نے ان سے یہ وعدہ لیا ہو گا کہ وہ پی ٹی آئی کی لائن آف ایکشن کو فالو کریں گے بصورت دیگر ان کے ساتھ کاررواں میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو اچھی بات ہے مگر فی الحال وہ ان کی مرضی و منشا کے مطابق نہیں چل سکیں گے۔ عین ممکن ہے جب ان کی ضرورت محسوس ہو تو وہ ان سے الگ ہو جائیں۔ ایسے لوگوں کا کچھ علم نہیں ہوتا کہ کب نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔۔۔؟
یہ باتیں قبل از وقت ہیں ابھی تو وہ دھیرے دھیرے طوعاً و کرہاً ساتھ چلیں گے یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ واقعتا خود کو تبدیل کر چکے ہوں کیونکہ انہیں بھی تو دکھائی دے رہا ہے کہ اب نئی منزلیں ہیں ، نئے راستے ہیں جو اس امر کے متقاضی ہیں کہ بنیا دی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔ وگرنہ وہ تھک سکتے ہیں اور اپنی پہچان کھو سکتے ہیں لہٰذا ان سے متعلق قیاس آرائی ہی کی جاسکتی ہے، قطعی کچھ نہیں کہا جا سکتا خیر جس جماعت سے یہ آئے ہیں اور آ رہے ہیں اب وہ انہیں فالتو کہہ رہی ہے اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے جانے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔؟
یہ تو خود کو دلاسا دینا ہے وگرنہ مسلم لیگ کی اجتماعی طاقت کمزور ہو گئی ہے اور اس کی کامیابی کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں اس کے باوجود وہ بضد ہے کہ جیت اس کا مقدر ہے۔ میاں نواز شریف ہی آئندہ کے وزیر اعظم ہیں اپنوں کی دنیا میں رہنا ہر کسی کا حق ہے اس سے کوئی نہیں روک سکتا۔
مگر حقائق کافی مختلف ہیں ۔ رُت بدل چکی ہے۔ حالات نے انگڑائی لے لی ہے لہٰذا جو کوئی ایک ہی مقام پر ایک ہی کیفیت میں کھڑا رہنا چاہتا ہے وہ دانا و بینا ہر گز نہیں۔ کیونکہ اس خطے میں ایک بہت بڑی اقتصادی و معاشی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے جس میں روایتی سیاست اور روایتی حکمت عملیوں کی اب گنجائش نظر نہیں آ رہی۔ ہٹ دھرمی اور ذاتی خواہشات کی بھی کوئی جگہ نہیں۔ اب دنیا بھی اجتماعیت کی طرف جا رہی ہے۔ سرمایہ داری نظام میں دراڑیں پڑ رہی ہیں جن سے اب تک مختلف انداز سے لوگوں کو اپنا اسیر بنائے رکھا ہے۔ ان کو ضروریات زندگی بآسانی مہیا نہیں کر سکا۔ ایک ایسی خوف کی فضا قائم کیے رکھی ہے جو ہر کسی کو پریشان اور ہراساں کرتی چلی آئی ہے۔ لہٰذا جو وقت کے دھارے میں نہیں آئے گا وہ پیچھے رہ جائے گا۔ اس کا مستقبل روشن نہیں ہو سکے گا جبکہ آنے والے دنوں میں مسائل کی یلغار ہو گی۔ آبادی میں اضافے سے ایک خوفناک دباؤ بڑھے گا۔ صورت حال تو اس وقت بھی خطرناک حدود کو چھو رہی ہے۔ تعلیم و صحت اور سماجی انصاف کا زبردست فقدان ہے۔ معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دو چار ہے۔ احساس ذمہ داری اور فرض کی ادائی کا جذبہ ناپید نظر آتا ہے۔ ایسے میں دور اندیشی سے کام نہ لینا اور اپنی بپتا سنائے جانا۔۔۔ اقتدار کے لیے سہاروں کی تلاش میں رہنا کسی طور بھی درست نہیں۔ مگر مجال ہے کوئی سیاستدان بھی اس پہلو سے متعلق غور و فکر کرے۔ بس اقتدار اقتدار ہی الاپا جا رہا ہے۔
جناب میاں نواز شریف تو اس حوالے سے بہت ہی سنجیدہ ہیں ۔ انہیں اب ووٹ کا تقدس بھی یاد آ گیا ہے اور نظر یہ بھی۔ اے کاش وہ برس دو برس پہلے ان دو باتوں کو اپنی تقریروں کا موضوع بناتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ مگر وہ تو سب کچھ بھول گئے تھے۔
عوام نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جس کو بھوک بھی لگتی ہے۔ جس کا ایک دماغ اور ایک دل بھی ہوتا ہے۔ اس کے اندر کچھ خواب اور خواہشیں بھی ہوتے ہیں ۔ اب جب وہ کہتے ہیں کہ کسی کے لیے بند گلی اور کسی کو کھلی چھٹی اس صورت میں وہ انتخابات کے نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔ بڑا عجب معلوم ہوتا ہے۔ بہر کیف پانی پاؤں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ چڑیاں کھیت چگ چکی ہیں ۔ لہٰذا شور مچانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کی جماعت سکڑنے سمٹنے جا رہی ہے۔ مگر قابل غور بات یہ ہے کہ ادھر سے اُدھر آنے جانے والے سیاستدان کسی کا ساتھ چھوڑنے میں دیر نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ اقتدار کے مزے لوٹنے والوں میں موجود رہتے ہیں ۔ اور حالات کی گردش کو دیکھیے کہ وہ اس کے دائرے میں محو ہو جاتے ہیں ۔ یعنی ان کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے اور خوش دلی سے ان کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ عمران خان نے بھی اپنی سیاسی مضبوطی کی خاطر انہیں قبول کر لیا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ اب وہ وزیر اعظم بن جائیں گے۔ یوں وہ عوام سے کیے ہوئے تمام وعدے بھی پورے کر دیں گے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اقتدار ایک کھیل ہے جو اسی طرح جاری رہے گا۔ کچھ ہی وعدے وہ پورے کر سکیں گے اگر وہ اقتدار میں آجاتے ہیں تو۔۔۔؟ حرف آخر یہ کہ وفاداریاں، جماعتی تعلق داریاں اور ہمدردیاں کسی کے بس میں بھی نہیں ہوتے کیونکہ معروضی حالات بعض اوقات انہیں تبدیل ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ لہٰذا پی ٹی آئی میں آنے والے ضروری نہیں کہ مخصوص مقاصد کے تحت ہی در آئے ہیں ۔ ہو سکتا ہے وہ مسلم لیگ (ن) میں خود کو مجبور سمجھ رہے تھے اور اب آزادی چاہتے ہوئے عمران خان کی جماعت میں ایک گہری سانس لینا چاہ رہے ہوں۔ مگر چیئر مین کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے اور اپنے دائیں بائیں پرانے کھلاڑیوں پر نظر رکھنی چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی سیاست دھڑام سے نیچے گر پڑے۔۔۔


ای پیپر