کیا ریاست بچوں کی ذمہ دار نہیں ؟
11 اپریل 2018 2018-04-11

میں جب کبھی غلامی کے عہد کو سوچتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ کیسے کسی بچے کو اٹھا کر ماں باپ ، بہن بھائیوں اور دوسرے عزیز و اقارب سے ہمیشہ کیلئے دور کر دیا جاتا تھا ۔ یہ اتنا کرب ناک ہے کہ صدیوں پرانے اس جرم کو دل ہی دل میں آج کے عہد پر لاگو کر کے سوچنے کے بعد اپنے بچوں کی طرف دیکھتا ہوں اور تصورکرتا ہوں کہ اگر موت کے علاوہ کوئی شے مجھے اِن سے دور کردے تو شاید میں پاتال تک انہیں ڈھونڈنے چلے جاؤں ۔ میں اتنی دیر تک کبھی گھر واپس نہ آؤں جب تک میرا وجود ختم نہ ہو جائے یا پھر مجھے میرے بچے واپس نہ مل جائیں ۔ یہ جرم میرے نزدیک قتل سے گھناونا اور زیادہ قابلِ تعزیز ہے لیکن میں قانون ساز نہیں سو موجودہ قوانین پر ہی گزارہ کرنا پڑے گا ۔ لاہور کے شہر مناواں میں تین بچے کینڈیاں کھانے سے زندگی سے ہاتھ دو بیٹھے ۔اب بھلا کینڈی کھانے سے بھی کسی کی موت ہوتی ہے
اوراگر ہوتی ہے تو پھر کینڈی میں زہر ملا ہو گا یا غیر معیاری فارمولے پر بنی ہو گی ۔ ویسے بھی اپنے ملک میں مقامی سطح پر بننے والی کینڈیز اس قابل نہیں ہو تیں کہ انہیں بچوں کو کھلایا جا سکے کیونکہ اُن کی تیاری میں جو کچھ استعمال ہو تا ہے اور جہاں تیار ہوتی ہے ارگرد زہر ہی بکھرا ہو تا ہے لیکن چونکہ یہ سب کچھ عام آدمی کے بچوں نے کھانا ہوتا ہے سو کسی کو اس کی فکر نہیں کہ کو ن جیتا ہے کون مرتا ہے اُن کی بلا سے ، مرنے والے انسان کے بچے تھوڑی ہیں ! میں آج سوچتا ہوں تو مجھے وہ یونانی انتہائی رحم دل محسوس ہوتے ہیں جو اپاہج بچوں کو پہاڑ کی چوٹی سے گرا کر ہلاک کردیتے تھے کہ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ اپاہج سماج پر بوجھ ہوتے ہیں لیکن ہم تو اپنے تندرست بچوں کو قتل کر رہے ہیں ، انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔
ابھی زینب کے ماتم سے فارغ ہوئے ہیں تو قصور میں سے معصوم فائق گزشتہ 19 دن سے غائب ہے ۔ماں باپ کی بری حالت ہے اور پولیس پھر ناکام ہے ۔بچے کے ماموں ذوہیب کی مجھے کال آئی تو اُس نے بتایا کہ قصور میں ہونے والے پے درپے واقعات نے ہر ماں باپ کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ۔ بچہ ایک لمحے کیلئے آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو ماں باپ کی جان نکل جاتی ہے چہ جائیکہ بچہ 19 دن سے غائب ہو اور کوئی پرسانِ حال نہ ہو ۔ جس صوبے کا وزیر اعلیٰ بچوں سے زیادتی کے بعد ملنے والی لاشوں کی بازیابی پر ملزم کے گرفتار ہونے پر تالیاں پیٹتا رہے وہاں پولیس پھر زندہ بچے کے بجائے مردہ بچے کا ہی انتظار کرے گی اور یہ ذہنی سفاکیت کی انتہا ہے ۔ میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ فائق اپنے ماں باپ کی پاس خیریت سے پہنچ جائے کہ اس سماج میں تو اب بچے بھی سانجھے نہیں رہے ۔ جڑانوالہ میں بچوں کی ویڈیو بنانے والا ’’بلا ڈان‘‘ سامنے آیا ہے جو ایم ۔ ایس ۔ایف کا لیڈر اور طلال چوہدری کا کارِ خاص ہے لیکن پولیس اسے بچا لے گی کیونکہ یہاں قانون عام آدمی کیلئے ہے اور بلا ڈان تو عام آدمی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ طلال چوہدری کو تو میں اُس زمانے سے جانتا ہوں جب جڑانوالہ میں یہ سمیں بیچتا تھا اوراس کی چھوٹی سے دکان تھی لیکن پھر اُس نے یہ سارا سفر کیسے طے کیا ۔سو ایسا شخص جس نے زندگی کا رستہ خود مشکوک طریقے سے تلاش کیا وہ کسی مشکوک آدمی کا سفارشی کیوں نہیں ہو گا ؟ لاہور میں عسکری 13 کے علاقے میں ماں نے تین بچوں کو خود قتل کردیا ۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ قاتلہ کوکین کا نشہ کرتی تھی پولیس کے مطابق وہ ذہنی مریضہ ہے ۔ اب
سوال یہ ہے کیا اُس کے ارگرد کوئی انسان نہیں رہتا تھا جسے یہ علم ہو کہ ایک پاگل روزانہ تین تندرست بچوں کے ساتھ سو رہا ہے یا ایک کوکین کی مریضہ جس کا ذہنی توازن درست نہیں وہ اس گھر میں رہتی ہے اور پھر کوکین کا نشہ لینے کیلئے جاتے یا اگر اُسے کوئی نشہ دینے آتا تھا توعلاقہ کی پولیس اس سے لا علم کیسے رہی؟ حقیقت تویہ ہے کہ شام ہوتے ہی تھانوں کے دروازے ملزم اور مدعی دونوں کیلئے بند ہو جاتے ہیں اور شہروں کے شہر ڈاکوؤں کے رحم و کرم پرہوتے ہیں۔ یہی سچ ہے جو ہم روز انہ دیکھتے ، سنتے اور پڑھتے ہیں ۔ بے یقینی کی ایسی صورت حال ہے کہ کوئی کسی پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ۔صرف وہی محفوظ یا خوشحال ہیں جو اپنے تھانے کے ساتھ رابطے میں ہیں یا تھانے کے کسی اہلکار سے اُن کے ہر طرح کے روابط ہیں ۔
ابھی ان حالات پر سوچ کر پریشان تھا کہ میرے سامنے چلانے والی بیس سے زائد سکرینوں پر چیچہ وطنی میں نور فاطمہ نامی بچی کو زیادتی کے بعد جلانے کی خبر بریک ہو گی ۔ میرا سرندامت سے جھک گیا اور میں سوچنے لگا کیا اس ملک کا کوئی والی وارث ہے ؟ میاں شہباز شریف زیادتی ہونے والی بچیوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر جتنے چیک بانٹ چکے ہیں اگر اتنے ہاتھ انہوں نے کاٹے ہوتے ، یا مجرموں کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچایا ہوتا تو آج یہ نوبت تو کم از کم نہ آتی ۔ اگر 1985 ء سے لے کر اب تک نواز شریف اور شہباز شریف کی زیادتی کیسوں میں بچیوں کے ساتھ اتاری گئی تصاویر اکٹھی کی جائیں تو پنجاب پبلک لائبریری سے بڑی لائبریری بن سکتی ہے لیکن دونوں بھائی پاکستان اور پنجاب کے مطلق العنان حکمران رہنے کے باوجود چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے کوئی اہم قانون سازی نہیں کر سکے اور پھر قانون سازی ہی کافی نہیں اس پر عملدرآمد اس سے بڑا مسئلہ ہے ۔ کاش ! پاکستان کو قرضہ دینے والی قوتیں قرضہ پاکستانی بچوں کی حفاظت سے مشروط کردیں تو کمیشن ایجنٹ حکمران پاکستان میں جانور کے بچے کو بھی حادثے کا شکار نہ ہونے دیں ۔
پنجاب کے حکمرانو !
بچوں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی پر فطرت تم سے ناراض ہے ۔ اِن بچوں کی بدعائیں تمہارے مقابل اور تعاقب میں ہیں اور وہ دن دور نہیں جب تم کو اِن میں سے ہر بچے کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور اُس کے بے گناہ قتل کا حساب دینا ہوگا اور اُس وقت یہ جنتی روحیں تالیاں پیٹ کر خوشی کا اظہار کریں گی کہ بچہ تالیاں پیٹتا اچھا لگتا ہے لیکن چیف منسٹر پنجاب کو زیب نہیں دیتا ہے وہ اپنی غفلت پر خود ہی تالیاں پیٹ رہا ہو ۔ مئی 2018 ء مسلم لیگ نون کی سیاسی تاریخ کے بدترین دن ہوں گے بہت سے ’’ کٹے ‘‘ کھل چکے ہوں گے اور اقتدار سے باہر تو رہیں گے ہی میں لکھ کردے سکتا ہوں کہ عوام کے دلوں میں بھی اِن کیلئے سوائے نفرت کے کوئی جگہ نہیں ہو گی ۔ 29 اپریل کو لاہور کا جلسہ رہے سہے سیاسی لات و منات بھی نیست و نابود کردے گا اوررہی بات مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت نہ دینے کی تو ؒ وہاں جلسہ سے کوئی بھی نہیں روک سکتا کیونکہ اسے جلسہ گاہ جناب قائد اعظم محمد علی جنا ح قرار دے کر گئے ہیں اور یہاں بننے والا مینار بھی 23 مارچ 1940 ء کے جلسہ کی یاد دلاتا ہے اور مینار پاکستان کے آگے بننے والا سٹیج جلسوں کیلئے ہی بنایا گیا تھا کسی کی کیا جرات ہے کہ اُس تاریخی مقام کو اپنی مرضی سے بدل لے ۔ جلسہ مینار پاکستان کے سائے میں ہی ہو گا اور سو فیصد ہو گا اور پھر ابھی وہاں جماعت اسلامی نے اپنا یوتھ کنونشن کیا ہے گو ان کا موقف جو بھی تھا یا انہیں کیسے اجازت دی گئی۔ یہ الگ سوال ہے لیکن کسی بھی پاکستانی کو مینار پاکستان سے میں جلسہ سے روکنا تحریک پاکستان کی بنیاد سے انخراف کے مترادف ہے اور کم از کم مسلم لیگ کی حکومت کو تو یہ بالکل زیب نہیں دیتا لیکن یہ مسلم لیگ کہاں ہے؟ یہ تو نون لیگ نامی گروپ ہے جو مسلم لیگ کا لبادہ اوڑ ھ کر مسلم لیگیوں کو بھی دھوکا دے رہا ہے لیکن بچوں کو دھوکا مت دیں کہ یہ ریاست کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔


ای پیپر