بابے مظہر کی سیاسی بصیرت
11 اپریل 2018

میں نے اسے دیکھا نہیں تھا ، بس فون پر اس کی آواز سنی تھی مگر دور سے آتے ہوئے بابے کو میں نے پہلی نظر میں ہی پہچان لیا۔ جیسے آپ بینکر کو ایک ہی نظر میں اس کے لباس اور مصنوعی کارپوریٹ انداز سے پہچان لیتے ہیں ، جیسے پولیس والے ناک ، گلے کی بجائے سینے سے بھی تھوڑا نیچے سے بولتے ہیں تاکہ آواز میں رعب پیدا ہو جائے اور ان کی نکلی ہوئی توند اور دیکھنے کا انداز ، جیسے سگریٹ پینے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ اس نے راہ چلتے کس سے ماچس مانگنی ہے اور اس کا اندازہ بہت کم غلط ہوتا ہے۔ اسی طرح بابا بھی اپنے انداز سے پہچانا گیا کہ یہی وہ پراپرٹی ڈیلر ہے جس کا مجھے انتظار ہے۔ پچاس کے پیٹے میں بابے مظہر کا قد کوئی اتنا لمبا نہیں مگر وہ پھیل کر بائیک کی پچھلی نشست پر بیٹھا ہوا تھا ، موڑ ایسے کاٹ رہا تھا جیسے وہ بائیک کو اڑا رہا ہو اور جس طرح بانہیں پھیلا کر ہینڈل کو پکڑا ہوا تھا یہ پراپرٹی ڈیلرز کا منفرد انداز ہے ، کیونکہ انہوں نے زیادہ وقت بائیک پر لوگوں کو گھر ، دفاتر دکھاتے گزارنا ہوتا ہے اس لئے وہ بائیک پر بہت ایزی ہو کر بیٹھتے ہیں۔
مجھے ایک دفتر کی تلاش تھی اوراسی تلاش میں معلوم ہوا کہ بابا مظہربڑا مزیدار کردار ہے ، شاید ہمارے معاشرے کا عکاس ۔اس نے بتایاکہ اس کے والد فوج میں میجر ہیں ،اس کے گھر میں تین اے سی چلتے ہیں ، گیراج میں دو گاڑیاں کھڑی ہیں اور اسی اثناء میں اس کی بائیک کا پٹرول ختم ہو گیا اور اس نے بائیک کو گھسیٹ کر پمپ کی طرف لے جانا شروع کردیا۔ اس کے توسط سے دفتر تو مل گیا مگر اس دفتر کے ساتھ بونس کے طور پر ہمیں بابا مظہر بھی مل گیا۔
بابے کا پورا نام مظہر الدین فخر ہے جبکہ سب اسے بابا مظہر فخر بلاتے ہیں۔ اب وہ میرا روحانی بابا ہے۔ میری زندگی کے بہت سے مسائل چٹکی بجاتے ، چند جملوں میں حل دئیے اور دماغ کی ایسی کتنی ہی گرہیں ہیں جو اس نے اپنی روحانیت سے کھول دیں۔ بابے کو ہر کام کا نالج ہے ، دفتر میں وائٹ واش کروانا تھا تو اس نے رنگ ساز کے ساتھ بحث شروع کردی اور اسے یہ باور کروایا کہ اس سے بہتر رنگ کا کام جانتا ہے۔ دروازوں کے لاک لگانے والا آیا تو بابے مظہر نے فخریہ انداز میں اسے کہا کہ’’ تمہیں تو کام ہی ٹھیک نہیں آتا ،کیوں نہ میں تمہیں خود دروازوں کے لاک ٹھیک کر کے دکھا دوں‘‘۔ایک دن مجھ سے ملنے ایک ماہر معاشیات آئے جو فارن کوالیفائیڈ تھے اسی نشست میں بابے مظہر نے انکشاف کیا کہ اس نے اے سی سی اے بھی کیا ہوا ہے اور پھر اس نے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی بصیرت بھی شامل گفتگو کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ ایک دفعہ بابا دو تین دن کیلئے غائب ہو گیا ، واپس آیا تو استفسار پر بتایا کہ وہ لندن چھٹیاں منانے گیا ہوا تھا ۔ پھر معلوم ہوا کہ بابے کا گھر بھی یہیں قریب ہی ہے۔ اکثر اس کے والد سائیکل پر دفتر جاتے ہوئے نظر آجاتے ، شریف ایماندار آدمی ہیں ۔ بابے مظہر فخر کا دادا اسی علاقے میں کسی دور میں پکوڑے بیچا کرتے تھے اور اس کے پکوڑے کھانے لوگ دور دور سے آیا کرتے تھے۔ایک دن بابا کچھ افسردہ سا تھا ، میرے پوچھنے پر بتانے لگا کہ اس کے والد تین دن کیلئے کینیڈا گئے ہیں اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں نے اسے کچھ پیسے دئیے تو اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اس نے اپنے تکیہ کلام میں مجھے کہا ’’ کیوں نہ میں آپ کیلئے دعا کر دوں؟‘‘ ۔ شام کو میں دفتر سے نکلا تو مجھے اس کے والد سائیکل پر دودھ کا شاپر لٹکائے گھر کی طرف جاتے ہوئے نظر آئے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ بابے مظہر فخر نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے ، مگر پھر میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے یہ بھی بابے کی کوئی روحانیت ہی ہو۔
میں نے اک بار بابے مظہر سے پوچھا کہ لوگ اسے بابا کیوں کہتے ہیں تو فرمانے لگا کہ ’’اسے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے کیونکہ اس نے کسی دور میں ردی کا کام بھی کیا ہوا ہے پھر اس نے فضول سی ردی کی سائنس بتائی کیسے کس کو اور کتنے کی بیچنی چاہیے وغیرہ وغیرہ ، خیر اسی کاروبار کے دوران اس کے ہاتھ اشفاق احمد کی کتاب لگی جس نے اس کی زندگی بدل دی۔ اس نے کہیں خلا میں دیکھتے ہوئے کہا ’’آج میری زندگی میں جو روحانیت اور خدا سے محبت ہے وہ اسی بابا صاحبا کی وجہ سے ہے پھر میں نے روزمرہ زندگی میں اس کتاب کے جملے اپنی گفتگو میں شامل کرنا شروع کر دئیے تو میرے ارد گرد کے جاہل دانشوروں نے مجھے بابا کہنا شروع کر دیا۔ ایک دن میرے خواب میں اشفاق احمد صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ آج سے تمہیں بابے کا درجہ مل گیا ہے۔ لوگ تو مجھے پہلے ہی بابا کہہ رہے تھے تو میں نے اس کو اعزاز سمجھا ۔
بابے مظہر کا خیال ہے کہ اس کے پاس پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے ، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کیسے بہتر طریقے سے کام کر سکتے ہیں ، پولیس کا نظام کیسے بہتر ہو سکتا ہے ، مگر جو غم بابے کو سب سے زیادہ کھا رہا ہے وہ مسلم لیگ (ن) کا ۔ بابے کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کا سیاسی کلچر تیاہ کررہی ہے ، میاں شہباز شریف ، چوہدری نثار اسے اسی ظلم سے بچانا چاہتے ہیں۔میں نے اس کی وجہ جاننے کی گستاخی کر لی تو ’’ بابے مظہر کا کہنا تھا کہ ’’ چار کتابیں پڑھنے سے کوئی عالم نہیں بنتا ، اس کیلئے وژن چاہیے ، جو سید مشرف میں تھا ، کیوں نہ تمہیں سچ بتا ہی دیا جائے ، سنو !ہماری قوم بے وقوف ہے ، سیاسی شعور کی کمی ہے ، ٹھیک فیصلہ نہیں کرتے قیمے والے نان اور بریانی کی پلیٹ پر بک جاتے ہیں اور یہ سیاستدان ، جس میں مینار پاکستان میں چار بندے پکڑ دھکڑ کر اکٹھے کرنے کی صلاحیت وہ اور پارلیمنٹ پہنچ جاتا ہے ۔ کیا ایسے ہوتے ہیں منتخب لوگ ، کیا یہ لوگ چلائیں گے ملک ۔سنو !یہ اورنج لائن بن گئی تو اس پر عوام سوار ہو گی ، ان پڑھ جب شہر کی بتیاں کسی اور انداز میں دیکھیں گے تو انہیں لگے کہ ہمارے شہر میں بڑی ترقی ہو رہی ہے ، وہ (ن) لیگ کو ووٹ ڈالیں گے ، اگر لاہور کا ووٹر (ن) لیگ کے ساتھ ہوا تو اس کی فضا پورے پنجاب میں بنے گی اوراگر وہ جیت گئی تو تمہیں پتہ ہے وہ سب سے پہلا کام کیا کرے گی ؟ ۔ میرے پاس بابے مظہر کی باتوں کا جواب تھا کیونکہ مجھے بھی معلوم تھا کہ (ن) لیگ اگر جیت گئی تو کیا کرے گی؟۔


ای پیپر