مایوسی آپ کے قریب بھی نہیں بھٹک سکے گی
11 اپریل 2018



میں نے پچھلے کالم میں چائینہ کے بادشاہی دور حکومت میں ایک وزیر کا واقع بیان کیا تھا اور اس واقعے کے ایک پہلو کا ذکر کیا تھا۔ آئیے اس کے باقی پہلووں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔اس واقعے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وزیر کو اپنے دل کو بیوقوف بنانے کا طریقہ آ گیا تھا۔ خود کو بیوقوف بنانا بھی اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ہے۔ آپ زندگی میں تب تک خوش رہ سکتے ہیں جب تک آپ اپنے دل کو بیوقوف بناتے رہتے ہیں۔ آپ زندگی میں سب کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ لیکن اپنے سے بہتر شخص کو دیکھ کر وہ آسائشیں حاصل کرنے کی خواہش فطری ہے۔ جو لوگ دل کو بیوقوف بنانے کا ہنر جانتے ہیں وہ اپنی توجہ ان چیزوں پر ڈالتے ہیں جو ان کے پاس ہیں لیکن لاکھوں لوگ ان سے محروم ہیں۔ وہ خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اللہ کا کروڑ مرتبہ شکر ہے کہ اس کے حالات لاکھوں سے بہتر ہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی ایک شخص ایسا نہیں ہے جس کے پاس خوش ہونے کی ایک بھی وجہ نہ ہو۔ فرق صرف سوچ بدلنے کا ہے۔
اس واقع کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ ہم اکثر زندگی کے ایک لمحے کو پوری زندگی پر محیط کر لیتے ہیں۔ زندگی کی ساری خوشیوں، خوبصورت لمحوں، خوشگوار موسموں، خوشبودار پھولوں، رس بھرے پھلوں اور دل کو مو لینے والے سروں کو نظر انداز کر کے اپنی ساری توجہ زندگی کے ایک چھوٹے سے گندے نکتے کی طرف لگا لیتے ہیں۔ ہم ساری نعمتوں کو بھول کر ایک محرومی کو اپنے اوپر حاوی کر لیتے ہیں۔ ہم تمام اچھے واقعات کو بھول کر ایک برے واقعے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا دکھ ہماری ساری خوشیوں پر بھاری پڑ جاتا ہے ۔جس طرح وزیر کی بیوی اپنی زندگی کی تمام خوشیوں اور اللہ کی نعمتوں کو بھول کر چھ ماہ بعد شوہر کو ہونے والی پھانسی کو دل کا روگ بنا کر دنیا سے چلی گئی کیونکہ اس نے زندگی کے ایک چھوٹے سے نکتے کو ساری زندگی پر محیط کر لیا تھا۔ وہ برے وقت کے چھوٹے سے ایک حصے کو پوری زندگی سمجھ بیٹھی تھی جبکہ وزیر اس حقیقت سے باخبر تھا کہ یہ وقت عارضی ہے۔ یہ گزر جائے گا۔ اللہ نے دنیا کی ساری نعمتیں انسانوں کے لیے اتاری ہیں لہذا مجھے ان نعمتوں سے بھی لطف اندوز ہونا چاہیے۔ کیا ہوا کہ اگر مجھے چھ مہینے بعد پھانسی دے دی جائے گی ۔ میں جب تک زندہ ہوں بھرپور طریقے سے زندہ رہوں۔ اگر ایک خوشی نہیں ملی تو دوسری طرف دیکھ لوں۔ زندگی نعمتوں سے بھری پڑی ہے۔یہ سوچ آپ کو نہ صرف زندگی گزارنے بلکہ اسے بھرپور طریقے سے جینے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ یہ سوچ آپ میں ایک امید پیدا کرتی ہے۔ آپ کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ کیونکہ جب تک امید زندہ ہے آپ زندہ ہیں اور جس دن امید مر جائے اس دن انسان مر جاتا ہے۔ لہذا امید کبھی مت ٹوٹنے دیں۔
زندگی کے اس پہلو کو سمجھنے کے لیے اشفاق احمدصاحب نے بہت خوبصورت مثال دی ہے۔ اشفاق احمد صاحب کہتے تھے کہ میرا چھوٹا سا پوتا ایک دن گھبرایا ہوا میرے پاس آیا۔ میں نے اسے گود میں اٹھا کر بازو پر بٹھا لیا۔ میں نے کہا کہ دیکھو یار کیسا اچھا موسم ہے۔ ذرا دیکھو باہر نکلو۔ اس دن موسم بہت اچھا تھا۔ ہمارے بڑے بڑے شیشے تھے۔ آگے درخت لہلہا رہے تھے۔ پودے لگے ہوئے تھے بانس کے ، جو زیادہ خوبصورت لگتے تھے۔ کالے سیاہ بادل تھے۔ ان کے اندر سے بادلوں کی قطاریں جا رہی تھیں۔ میں چاہتا تھا کہ میرے پوتے کو حسن جمال میں دلچسپی ہو۔ وہ دیکھے اور اس کو پسند کرے، بجائے اس کے کہ وہ لکڑی اور پلاسٹک کے واحیات کھلونوں سے کھیلے، جن میں زیادہ قاتل اور حملہ کرنے والے ہیں۔ میں نے اسے گود میں اٹھا کر کہا دیکھو باہر کا منظر اور اس کا حسن، یہ بادل،یہ پرندے اور یہ درخت اور یہ لہلہاتی شاخیں، تو وہ بلکل نہیں دیکھ رہا تھا اور گھٹن سی اس کے اندر تھی۔ ایک ہی جگہ اس کی نگاہیں مرکوز تھیں، گھبرایا ہوا تھا۔ میں نے جب اس کی نگاہوں کو غور سے دیکھا تو وہ شیشے کے پار ہی نہیں جا رہی تھیں۔ میں نے کہا یہ کیا مسئلہ ہے۔ اتنا معصوم بچہ اور یہاں پر پھنسا ہوا۔ میں نے جب غور سے دیکھا تو وہ بڑا سا شیشہ جس میں سے میں اسے جمال اور خوبصورتی سے متعارف کروا رہا تھا اس شیشے کے ساتھ ایک مری ہوئی مکھی چپکی ہوئی تھی۔ مر گئی ہو گی کب کی۔ جیسے ہم کہتے ہیں چھی چھی لگی ہوئی تھی۔ اس نے سب کچھ چھوڑ کر ،ساری کائنات چھوڑ کر ،سارا حسن جمال چھوڑ کر اپنی
نگاہیں اس چھی چھی پر مرکوز کی تھیں، اور منہ بسور کر بیٹھا ہوا تھا کہ یہ دنیا جو ہے وہ ساری کی ساری چھی چھی ہے، اور مری ہوئی مکھی ہے اور نالائق چیز ہے اور ایک مکھی کی وجہ سے زندگی کی تمام خوبصورتی اور حسن جمال ماند پڑ گیا تھا۔ کیونکہ اس نے ایک مری ہوئی مکھی کو اپنی پوری زندگی پر محیط کیا ہوا تھا۔لہذا زندگی کے ایک لمحے کو پوری زندگی پر حاوی مت کریں۔ہر وقت امید کے ساتھ جڑے رہیں۔ انسان جیسی پیچیدہ مشین بنانے والا اللہ بھی بخوبی جانتا تھا کہ اگر میں ان سے اپنی اطاعت کا کام لینا چاہتا ہوں تو مجھے انھیں جنت کی امید دینا ہوگی۔ مجھے ان کے دلوں میں اس دنیا سے بھی خوبصورت دنیا کو حاصل کرنے کی امید جگانا ہوگی کیونکہ امیدکے بغیر یہ پیچیدہ مشین مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی لہذا اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو آج کے دن کو کل کے دن کے لئے خراب مت کریں، زندگی کے ایک برے لمحے کو ساری زندگی نہ سمجھ لیں اور جب ایک امید ٹوٹ جائے تو دوسری امید جوڑ لیں۔مجھے یقین ہے کہ مایوسی آپ کے قریب بھی نہیں بھٹک سکے گی ۔


ای پیپر