نواز شریف کو بند گلی نہیں اڈیالہ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، عمران خان
11 اپریل 2018 (19:40)

پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں نائن الیون کے بعد پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں اچھا کردار ادا کیا، قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی، لوگ بے گھر ہوئے، سندھ اور پنجاب میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے،اس معاملے پر میں آرمی چیف سے ملاقات کرکےعوام کی مشکلات سے آگاہ کروں گا، قبائلی علاقوں میں چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی اور بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں پر بھی بات کروں گا، اس کے علاوہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ بھی آرمی چیف کے سامنے رکھوں گا،ساری پارٹیاں فاٹا ریفارمز پر متفق تھیں لیکن مولانا فضل الرحمان کے کہنے پر میاں نواز شریف نے اسے مسترد کر دیا، ہم پرانا ایف سی آر کا نظام قبائلی عوام کی مشاورت سے ختم کریں گے،شہباز شریف کو صرف پیسہ بنانا آتا ہے اس لئے وہ کے پی کے میں منصوبوں کی بات کرتے ہیں، ان کے ذاتی ٹھیکیدار ہیں جن کے ذریعے وہ کمیشن حاصل کرتے ہیں، شہباز شریف کو شرم آنی چاہیے، جتنے قرضے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے لئے ہیں تاریخ میں نہیں لئے گئے، آصف زرداری کی حکومت آنے سے پہلے ہر پاکستانی 35ہزار کا مقروض تھا جبکہ آج ایک لاکھ 40ہزار کا قرض ہے، نواز شریف کو بند گلی میں نہیں بلکہ اڈیالہ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، سراج محمد دھرنے کے دنوں سے ہی بھاگے ہوئے ہیں، نگران حکومت کےلئے مشاورت انتہائی ضروری ہے، ہم بھی اپنے نام دیں گے، غیر جانبدار نگران حکومت کے بغیر شفاف انتخابات نہیں ہو سکیں گے۔

وہ بدھ کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میں سینیٹر ایوب آفریدی کو فاٹا سے سینیٹر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں، قبائلی علاقوں میں نائن الیون کے بعد پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں اچھا کردار ادا کیا، قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی، لوگ بے گھر ہوئے، سندھ اور پنجاب میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہوںنے کہا کہ اس معاملے پر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کروں گا اور قبائلی عوام کی مشکلات سے آگاہ کروں گا، قبائلی علاقوں میں چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی اور بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں پر بھی بات کروں گا، اس کے علاوہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ بھی آرمی چیف کے سامنے رکھوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ2018 کے انتخابات میں اقتدار میں آ کر قبائلی علاقوں کو کے پی کے میں ضم کریں گے اور ترقیاتی کام شروع کریں گے، کاروبار کی تباہی کے باعث ایک ارب روپے اضافی درکار ہیں، ہم اقتدار میں آ کر فنڈز کےلئے کھڑے ہوں گے، اس کے علاوہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی قبائلی عوام کا حصہ دلوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات بھی کروائیں گے اور صوبہ خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں قبائلی عوام کو نمائندگی دلوائیں گے، قبائلی علاقے میں پیسہ خرچ کر کے ترقیاتی کاموں کا آغاز کریں گے اور نوجوانوں کو روزگار دلوائیں گے۔

ساری پابندیاں فاٹا ریفارمز پر متفق تھیں لیکن مولانا فضل الرحمان کے کہنے پر میاں نواز شریف نے اسے مسترد کر دیا، ہم پرانا ایف سی آر کا نظام قبائلی عوام کی مشاورت سے ختم کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو صرف پیسہ بنانا آتا ہے اس لئے وہ کے پی کے میں منصوبوں کی بات کرتے ہیں، ان کے ذاتی ٹھیکیدار ہیں جن کے ذریعے وہ کمیشن حاصل کرتے ہیں، پنجاب کی تین میٹرو اور پشاور کی میٹرو کا موازنہ کیا جائے، تین میٹرو کے مجموعی خسارے سے تین شوکت خانم ہسپتال تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قرضوں کی بات کرتے ہوئے شہباز شریف کو شرم آنی چاہیے، جتنے قرضے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے لئے ہیں تاریخ میں نہیں لئے گئے، آصف زرداری کی حکومت آنے سے پہلے ہر پاکستانی 35ہزار کا مقروض تھا جبکہ آج ایک لاکھ 40ہزار کا قرض ہے۔ عمران خان نے کہا کہ انہوں نے کے پی کے میں انسانوں پر پیسہ خرچ کیا، کے پی کے میں سب سے اچھے ہسپتال، سکول اور بلین ٹری سونامی ہے، پشاور میٹرو کی فزیبلٹی ورلڈ بینک نے بنائی ہے، میٹرو بس پشاور کی ضرورت ہے، پنجاب میں میٹرو خسارے میں چل رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پنجاب کی ساری ترقی صرف اشتہاروں میں نظر آتی ہے، عوام تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے اور پی ٹی آئی حکومت بنائے گی، نواز شریف کو بند گلی میں نہیں بلکہ اڈیالہ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔سراج محمد کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ وہ پہلے ہی ہم سے علیحدہ ہو چکے تھے، سراج محمد دھرنے کے دنوں سے ہی بھاگے ہوئے ہیں، نگران حکومت کےلئے مشاورت انتہائی ضروری ہے، ہم بھی اپنے نام دیں گے، غیر جانبدار نگران حکومت کے بغیر شفاف انتخابات نہیں ہو سکیں گے۔


ای پیپر