مشرف دور میں بیچے گئے بے گناہ قیدیوں کی رہائی کیلئے کوشاں ہیں: خواجہ آصف
11 اپریل 2018 (16:30)

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے انکشاف کر تے ہوئے کہا ہے کہ گوانتاناموبے میں قید پانچ پاکستانیوں میں سے تین کے خلاف کسی جرم کا الزام نہیں ، یہ بندے مشرف دور میں بیچے گئے تھے ، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح وہ رہا ہوجائیں ، غیر ملکی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی کل تعداد 10ہزار 974ہے, چین میں پاکستانی قیدیوں کی کل تعدا484 ہے ، ڈنمارک میں 22پاکستانی مختلف جیلوں میں قید ہیں ،ہم شام کے مسئلے کے فریق نہیں ہیں لیکن امن کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں،شام میں ایران وہاں کی حکومت کی حمایت کررہا ہے جبکہ عرب ممالک مختلف گروہ جو وہاں لڑرہے ہیں ان کی حمایت کررہے ہیں ، وہاں تین چار گروپس ہیں جو اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں، افغان مہاجرین کی واپسی تین سے چار سال میں مکمل کی جائے گی ،ہر سال تین سے پانچ لاکھ مہاجرین اپنے وطن واپس جائیں گے۔ 54 افغان مہاجر کیمپ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہیں یہ کیمپس دہشت گردی کو ٹرانزٹ سہولت فراہم کرتے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں قتل عام اور ریاستی دہشت گردی ہورہی ہے اس مسئلے کو انسانی حقوق کے تحت اٹھایا جارہا ہے اور پوری شدت سے اٹھایا جائے گا، اس وقت 85لاکھ 24ہزار 366پاکستانی بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف ارکان کے سوالوں کے جواب میں کیا ۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بتایا کہ گوانتاناموبے میں پانچ پاکستانی شہری قید ہیں ان میں سے ایک نائن الیون واقعہ سے متعلق مقدمے میں شریک ملزم ہے اور دوسرے نے سازش اور قتل کے جرم کا اعتراف کیا ہے جبکہ بقیہ تین پر ابھی تک کسی جرم کا الزام نہیں ہے۔ ہمارا مشن گوانتاناموبے جیل کے لئے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے خصوصی ایلچی سے رابطے میں ہے اور گوانتاناموبے جیل میں قید ان پانچ پاکستانی شہریوں کی حالت سے متعلق باقاعدگی سے معلومات حاصل کرتا ہے ہمیں ان تک قونصلر رسائی بھی ہے ،یہ بندے مشرف دور میں ایکسپورٹ کئے گئے تھے اور پیسے لئے گئے تھے۔ دو کے خلاف چارجز ہیں جبکہ تین کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح رہا ہوجائیں۔


ایک ضمنی سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نجی دورے پر امریکہ گئے وہ پروٹوکول کے قائل نہیں نہ انہوں نے پروٹوکول کی ڈیمانڈ کی تھی وہ عام مسافر کی حیثیت سے گئے تھے یہاں پر پروٹوکول ہوتو شور مچتا ہے کہ پروٹوکول ہے جبکہ امریکہ میں کہتے ہیں کہ پروٹوکول دیا جائے فیصلہ کرلیا جائے کہ کیا کرنا ہے۔ شازیہ ثوبیہ کے ایک اور سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب کی فارن پالیسی پر میں کیسے بیان دے سکتا ہوں شام میں ایران وہاں کی حکومت کی حمایت کررہا ہے جبکہ عرب ممالک مختلف گروہ جو وہاں لڑرہے ہیں ان کی حمایت کررہے ہیں ترکی کا بھی کردار ہے ،وہاں تین چار گروپس ہیں جو اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں۔ ہم شام کے عوام کی بہتری چاہتے ہیں اور وہاں امن چاہتے ہیں۔ ہم وہاں اس مسئلے کے فریق نہیں ہیں لیکن امن کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ترکی میں اگر پاکستانی این جی اوز کام کررہی ہیں تو وہ قابل ستائش ہیں۔


رکن اسمبلی پروین مسعود بھٹی کے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ کابل میں وہاں کی حکومت کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور افغان حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی تین سے چار سال میں مکمل کی جائے گی ہر سال تین سے پانچ لاکھ مہاجرین اپنے وطن واپس جائیں گے۔ 54مہاجر کیمپ ہیں جو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہیں یہ کیمپس دہشت گردی کو ٹرانزٹ سہولت فراہم کرتے ہیں۔افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ امریکی ملٹری اتاشی کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی ہلاکت کے معاملے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ جس شخص سے ایکسیڈنٹ ہوا ہے وہ پاکستان میں ہی ہے اس کے خلاف کارروائی قانون اور قاعدے کے مطابق ہوگی۔ رکن اسمبلی نعیمہ کشور کے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان ملائشیا ‘ سعودی عرب ‘ دبئی اور عمان میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے وہاں کمیونٹی ویلفیئر سنٹر بڑھائے گا۔ رکن اسمبلی خالدہ منصور کے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ قازقستان کی جیل میں صرف ایک پاکستانی قید ہے ہم تمام ممالک سے یہ درخواست کررہے ہیں کہ اگر وہاں پاکستانی قیدیوں کی جو سزا باقی رہ گئی ہے تو وہ سزا پاکستان میں گزار سکیں۔ رکن اسمبلی بیلم حسنین کے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت کے لئے آبادی میں تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے مسئلہ کشمیر کے دو رخ ہیں ایک تو وہ قرارداد ہے جو اقوام متحدہ میں پاس ہوئی ہے دوسرا وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں قتل عام اور ریاستی دہشت گردی ہورہی ہے اس مسئلے کو انسانی حقوق کے تحت اٹھایا جارہا ہے اور اس مسئلے کو پوری شدت سے اٹھایا جائے گا۔ شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ کابل میں ہماری ایجنسی اہلکاروں نے 14فروری 2018 کو بگرام سہولتی حراست خانے کا دورہ کیا جس دوران افغانوں نے بتایا کہ دو سو گیارہ پاکستانی قیدیوں کو مختلف الزامات بشمول دہشت گردی‘ جاسوسی‘ غیر قانونی سرحد پار کرنے اور دستاویزات کے بغیر سفر کرنے پر سہولت خانے میں بند کیا گیا ہے۔ ہمارے اہلکاروں کو ذاتی طور پر مقید افراد سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم مقید افراد کو پچیس کے تین گروپوں کی صورت میں عمومی میل جول کے لئے پیش کیا گیا۔ افغانستان میں ہمارے مشن کی کاوشوں کے باعث بگرام جیل میں قید 44پاکستانیوں کو 2012 اور 2014 سے قبل رہا کرایا گیا اور پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ رکن اسمبلی طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری تجارت شیزہ فاطمہ خواجہ نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران دو لاکھ اسی ہزار تین سو بارہ میٹرک ٹن خشک دودھ درآمد کیا گیا۔ رکن اسمبلی شیخ روحیل اصغر کے سوال کے جواب میں وزارت خارجہ نے تحریری طور پر ایوان کو آگاہ کیا کہ چین میں پاکستانی قیدیوں کی کل تعداد 484 ہے جن میں بیجنگ میں ایک سو بائیس‘ شنگھائی میں تیرہ‘ گوآنگزو میں 94‘ چنگدو میں 13‘ ہانگ کانگ میں 242قیدی ہیں۔ طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وزارت خارجہ نے ایوان کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ اس وقت 85لاکھ 24ہزار 366پاکستانی بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔ شیخ روحیل اصغر کے سوال کے جواب میں وزارت خارجہ نے تحریری طور پر ایوان کو آگاہ کیا کہ ڈنمارک میں اس وقت 22پاکستانی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ رکن اسمبلی محمد جمال الدین کے سوال کے جواب میں وزارت سمندر پار پاکستانیز اور ترقی انسانی وسائل نے تحریری طور پر ایوان کو آگاہ کیا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران 37لاکھ 28ہزار 330 پاکستانی مزدور بیرون ممالک بھیجے گئے ۔ ثریا جتوئی کے سوال کے جواب میں تحریری طور پر وزارت تجارت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ایک لاکھ 49ہزار 52روپے مالیت کی کل دو لاکھ 59ہزار 924استعمال شدہ کاریں درآمد کی گئیں۔ رکن اسمبلی پروین مسعود بھٹی کے سوال کے جواب میں وزارت خارجہ نے تحریری طور پر ایوان کو بتایا کہ غیر ملکی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی کل تعداد 10ہزار 462ہے ماسوائے ڈنمارک ‘ قازقستان ‘ گوانتاناموبے اور چین کے۔


ای پیپر