کیا ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ دہرائی جائیگی ؟
11 اپریل 2018

دنیا کی چار سے پانچ سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہےکہ قدرت کسی قوم کی مجموعی غلطیوں کو کبھی معاف نہیں کرتی ، جو قومیں ماضی کے حالات و واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے ان غلطیوں کو نہیں دہراتی ٗ وہی اپنا حال اور مستقبل دونوں سنوار لیتی ہے ، مگر جو قومیں ایسا نہیں کرتی ، تاریخ کے ایک بار پھر دوہرائے جانے کا سبب بنتی ہے۔ تاریخ کا ایک چہرہ وہ ہے جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنے قد م جمانے شروع کئے، ایسٹ انڈیا کمپنی متعارف کرواتے وقت انگریزوں کا بہانہ صرف تجارت کا فروغ تھا لیکن انگریزوں کا یہی تجارتی اثرو رسوخ بڑھتے بڑھتے فوجی اثر و رسوخ میں تب تبدیل ہوااور پھر تاریخ نے وہ دن بھی دیکھا جب مغل بادشاہوں نے1765برطانیہ اور فرانس کی جنگ میں خطرات سے بچنے کیلئے برطانیہ کی ملٹری خدمات بھی مجبورا حاصل کر لیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انگریزوں کی کاشتکاری سے لے کر سیاست تک میں مداخلت نے پورے خطے کے سیاسی اقتدار کا توازن بدل کے رکھ دیا اور مسلمان اپنی کمزوریوں کی وجہ سے حاکم سے محکوم قوم بن گئے ۔


پاک چین مثالی دوستی کے تحت دونوں ممالک باہمی مفاد کے بہت سے منصوبوں پر کام کررہے ہیں ۔ معاشی اور ترقیاتی کاموں کیلئے لیبر فورس کی منتقلی بھی جاری ہے جس سے بہت سے لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آرہے ہیں ۔ موجودہ ملکی حالات میں پاک چین دوستی کے علم تلےجہاں پاکستان معاشی، تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے وہیں ہمیں اس امر کو مد نظر رکھنا چاہئے باہمی مفاد کے نام پر چلائے جانے والے منصوبوں سے ہماری ملکی سالمیت کو کوئی خطرہ نہ ہو۔


چائنہ ہمار ابہترین دوست ملک اور خیر خواہ ہے اور دونوں ممالک کی یکجہتی باہمی مفاد کا ذریعہ ثابت ہورہی ہے، لیکن اس سارے ترقیاتی منظر کے دوران ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جہاں چینی مزدوروں کا پاکستان کے سیکیورٹی فورسز پر تشدد دیکھا گیا اور قوم کی طرف سے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ۔یہ حالات اس سوال کو اجاگر کر رہے ہیں کہ کیا تاریخ ایک بار پھر اقتدار کی وہی کہانی دہرانے جارہی ہے، جس کا اختتام دنیا نے پاکستان کی شکل میں دیکھا تھا۔ ۔۔۔ حکومت پاکستان نے ایک مثبت قدم اٹھاتے ہوئے جارحانہ کارروائی کرنے والے چینی مزدوروں کو جلا وطن کردیالیکن اٹھنے والے سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے حکومت ایک مناسب لائحہ عمل اپنائے جس کے تحت ملکی باشندوں کے تحفظ اور ملکی سالمیت کو یقینی بنایا جائے ، اس کےلئے حکومت پاکستان کو موثر قوانین نافذ کرنے کی ضرورت ہے ، جن کے ذریعہ نہ صرف ملکی سالمیت اور باشندوں کے تحفظ کا حصول ممکن ہو بلکہ بیرونی طاقتوں کو بھی اپنے ملکی معاملات پر اثر انداز ہونے سے روکا جاسکے کیونکہ ملکی سالمیت اور بقازندہ قوموں کا نصب العین ہوتا ہے ،جیسا کہ چین۔ اس حقیقت کے برعکس چین اپنے ملکی حفطات کیلئے انتہائی حساس ہے جو اپنی ملکی صنعت کو بیرونی اثرات سے بچانے کیلئے بھاری ٹیکسوں کے ذریعے برآمدات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔


اکیسویں صدی کے آغازسے ہی چین نے معاشی ترقی اور باہمی مفاد کیلئے اوپن ڈور پالیسی اپناتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کی طرف قدم بڑھانا شروع کیا لیکن اس کے باوجود کاروباری سرمایہ کاری، ملکی شہریت اور جائیداد کے حصول کیلئے سخت قوانین کا اطلاق یقینی بنایا جاتا ہے جن کے تحت چین میں شہریت یا جائیداد حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ کاروباری سرگرمیاںبروئےکار لانا بھی آسان ہدف نہیں ہے۔ دوسری طرف چین خود پاکستان میںنہ صرف بھاری سرمایہ کاری کررہاہے بلکہ بہت سے چینی مزدوروں اور نجینئر ز کو بھی مزدوری اور روز گار کیلئے پاکستان منتقل کررہا ہے ۔ ایسے میں چینی مزدوروں اور سیکیورٹی پر مامورپاکستانی افسروں کے درمیان بدمزگی ایک نہ خوش گوار واقعہ ہے، جس سے دونوں ممالک کے واقعات خراب ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سالمیت اور اندرونی سیکیورٹی کو بھی ایک اور خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ ان سیکیورٹی خدشات و خطرات سے بچنے کیلئے حکومت پاکستان کو کچھ ایسے قوانین اور حدود متعین کرنی ہوں گے ،جن سے باہمی مفاد کیلئے کی جانے والی تجارتی و تعمیراتی سرگرمیوں کو ملکی اور سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے روکا جاسکے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اپنی لیبر پاور اور ملکی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے ان کو روزگار کے مواقع فراہم کریں ۔ تجارت کا فروغ معاشی ترقی کا ضامن ہے لیکن اس امر میں بھی ہمیں پہلے اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئےملکی صنعت کو فروغ دیں تجارت کے فوائد حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ برآمدات کو بڑھایا جائے اور درآمدات کے زمرے میں صرف وہ چیزیں دوسرے ممالک سے منگوائی جائیں جو ہم اپنےملک میں نہیں بنا سکتےمثلا سو لر انرجی،زرعی اور جنگی آلات اور گاڑیاں ۔ پاکستان کی سرزمین پر صغیر کے مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی ، اس کی حفاظت کیلئےضروری ہے اس کے تمام تر حقوق اس کے باشندوں کے پاس ہوں ،کاروباری سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونے والی زمینوں کا حق پاکستان اور اس کے شہریوں کے پاس ہونہ کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے پاس ۔کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا حصہ 55سے 60فیصد سے کم ہو، تاکہ شیئر ہولڈرز میں اکثریت پاکستانی سرمایہ کاروں کی ہو۔ اگر ان بنیادوں پر عمل کیا جائے تو تاریخ دور کو دوہرائے جانے سے روکا جاسکتا ہے ورنہ عین ممکن ہے ملکی خانہ جنگی کے بعد پاکستان کے لوگوں کو ایسا دور دیکھنا پڑے جس میں محکوم قوم ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جہاں زندگی ان پر تنگ کردی جائے ۔ اس تناظر میں ایک جمہوری حکومت میں بڑھتی ہوئی شرح خواندگی کیساتھ ہر شہری پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ملکی حالات و واقعات پر نگاہ رکھے ۔اور ان کی درستگی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو اپنی اگلی نسلوں کی بقا کے قابل بنائے۔


نازش ریاض

نازش ریاض روزنامہ نئی بات کی مستقل بلاگر ہیں اور بطور صحافی نیو ٹی وی کیساتھ منسلک ہیں۔

ای پیپر