یہ زندگی کے میلے....
11 اپریل 2018

زندگی ایک خواب ،سرائے اور میلہ ہی تو ہے۔میلہ گھڑی پل کا ہوتا ہے۔جس طرح خواب کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے،میلہ بھی اجڑ سکتا ہے۔کہتے ہیں میلہ دیکھنا ہو تو میلے میں گم نہیں ہونا چاہےے۔ میلے میں گم ہو کر میلہ نہیں دیکھا جاسکتا۔میلہ ، میلے سے ذرا ہٹ کر، کسی گوشے سے، دیکھا جاسکتا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے ہم سب میلے کی ” بھول بھلیوں “ میں گم ہو چکے ہیں اور زندگی کی اس رونق اور ” ہلے گلے “ کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب موت کا نقارہ بج جاتا ہے۔ابھی کل کی بات لگتی ہے، ہمارے دوست شہوار حیدر انجم نئے نئے پروڈیوسر ہو کر ریڈیو پاکستان لاہور کے سنٹرل پروڈکشن یونٹ میں آئے تھے ۔مجھے بھی جمعہ جمعہ آٹھ روز ہوئے تھے لاہور آئے۔شہوار نے میری ایک غزل بڑی محبت اور محنت سے حمیرا چنا کی آواز میںریکارڈ کی تھی،جس کا مطلع کچھ یوں تھا :
لبو ںپہ لائے ہوئے اور نظر کا ساتھ ہوئے
زمانہ بیت گیا ہے کسی سے بات ہوئے
شہوار حیدر انجم موسیقی کے بہت سے گن رکھتے تھے۔ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے وہ اِن دنوں سی پی یو کے ہیڈ تھے ۔ اگلے روزہم اسلام آباد میں کتابوں کے میلے میں تھے کہ خبر ملی : ” شہوار حیدر اب اس دنیا میں نہیں رہے“۔
دل کو ایک دھچکا سا لگا۔ اور اس دور کا سارا منظرنامہ آنکھوں میں آگیا جب ہمار زیادہ وقت ریڈیو پر گزرتا تھا ۔ اب تک یقین نہیں آرہاتھا کہ نوجوان شہوار حیدر انجم خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔اسلام آباد میں ہمارے ساتھ رضی الدین رضی اور ناصر بشیر بھی اس دکھ پر نہایت دل گرفتہ رہے۔بلکہ جس نے بھی سنا افسوس ہی کیا کہ ابھی اس کے جانے کے دن نہیں تھے۔اللہ غریق رحمت کرے کمال کا دوست تھا جس کی کمی شاید ہی پوری ہو سکے۔ کوئی دوسرا بھلا کسی کی جگہ کیسے لے سکتا ہے ۔
ادھرنیشنل بک فاﺅنڈیشن کا میلہ بھرا ہوا ہے کیسے رنگ رنگ کے پروگرام جاری ہیں،کتابوں کی رونمائیاں ہورہی ہےں۔کتاب خوانی کی محافل میں کتابوںسے اقتباس پڑھ کر سنائے جارہے ہیں۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور ان کی ٹیم خوش اور مستعد ہے۔ پاک چائنہ فرینڈشپ سنٹر کے ہر چھوٹے بڑے ہال میں مختلف موضوعات پر مذاکرے بھی جاری ہیں۔ملک بھر سے آئے ہوئے اہل قلم آپس میں گھل مل کر شعر و ادب کے ساتھ سیاست ،سماج اور ادبی رویوں پر گفتگو میں مصروف ہیں۔ایک دوسرے کو اپنی کتابیں پیش کی جارہی ہیں۔ان میلے ٹھیلوں میں اصل مقصد دوستوں کا آپس میں ملنا ہی ہوتا ہے۔خاص طور پر ناشتے کی میزوں پر یا رات گئے کی محفلوں میں ادیب ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ۔علامہ اقبال اوپن یورنیورسٹی کے ہوسٹل میں ٹھہرنے والے جن اہل قلم سے ہمیں ملاقات کا موقع ملا ان میں، محمود شام،ریاض مجید،منیر بادینی،نذیر تبسم،مرزا حامد بیگ،خواجہ رضی حیدر،تابش الوری،خالد مسعود،رضی الدین رضی،شاکر حسین شاکر، ناصر بشیر،عقیل عباس جعفری،راشد نور، مسعود اشعر،اصغر ندیم سید،مبین مرزا ،اسلم سحر،ہارون الرشید تبسم،ناصر علی سید،وسعت اللہ خان،حنیف عابد،سعد اللہ شاہ ،فرح محمود شامل ہیں ۔یہاں این بی ایف کے سلیم اختر اور اشرف صاحب نے تمام مہمانوں کا خیال رکھا ۔صبح ۹ بجے گاڑیاں ناشتے کے بعد پاک چائنہ سنٹر لے جاتی ہیں، جہاں کتابوں کی دنیاسجی ہوئی ہے۔مختلف پبلشرز کے بک سٹال ہیں جہاں ہر عمر کے لوگ کتب خریدتے نظر آتے ہیں۔دن بھر سیشن بھی جاری رہتے ہیں۔درمیان میں لنچ بریک بھی ہوتی ہے۔ہم نے ابھی دو مسلسل سیشن میں شرکت کی۔ڈرامہ زندگی اور کتاب کے سیشن میں امجد اسلام امجد کی صدارت میں ڈرامے پر بات ہورہی تھی اور اصغر ندیم سید اپنے تجربات شیئر کررہے تھے کہ ڈرامہ لکھتے وقت وہ کن کن مراحل سے گزرے اور اُن دنوں کتنی محنت کی جاتی تھی۔مگر موجودہ دور میں فنکاروں کو عین وقت پر مکالمے تھما دیے جاتے ہیں۔کچھ پتا نہیں چلتا کہ کہانی اور کردار کیا ہے۔اس سیشن کی نظامت محبوب ظفر نے کی۔ اس سیشن میں عرفان صدیقی اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید بھی موجود رہے جبکہ ایک اور سیشن کی نظامت عائشہ مسعود کررہی تھیں۔ یہ غزل کے حوالے سے مذاکرہ تھا۔ایک سے بڑھ کر ایک غزل گو یہاں موجود تھا ۔صدارت توصیف تبسم نے کی ،مہمان خصوصی خوبصورت غزل گو جلیل عالی تھے۔موضوع تھا ”غزل رہے گی کلام تک یا کتاب میں بھی“ ۔بعض احباب نے موضوع کے ابہام پر بھی بات کی جبکہ عائشہ مسعو د نے بتایا کے غزل گائیکی کے ذرےعے بھی مقبول ہوتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا گائی جانے والی غزلیں زندہ رہیں گی یا کتاب میں بھی غزل توجہ کا مرکز رہے گی۔جلیل عالی نے تفصیل سے موضوع کی وضاحت کی۔بعض شرکاءنے اشعار بھی پیش کےے اور آنے والے دور میں غزل کی صورت حال پر بھی اظہار خیال پیش کیا۔اس محفل میں سرفراز شاہد اور فیصل عزیز بھی تھے جنہوں نے اپنی مزاحیہ غزلیں سنائیں ،جس پر جلیل عالی کا اعتراض تھا کہ مزاح گو شعراءمذاکرے میں شیڈول نہیں تھے اب ان کی شاعری نے محفل کا رنگ بدل دیا ہے۔جبکہ ہم نہایت سنجیدہ موضوع پر بات کررہے تھے۔صدر محفل بھی محفل میں شعر سنائے جانے پر معترض تھے لیکن جب شاعری شروع ہوئی تو کوئی شاعر بھی سنائے بنا نہیں رہ سکا۔کشور ناہید بھی کچھ دیر کے لےے تشریف لائیں اور اپنی تازہ غزل پیش کی ۔جس پر سعد اللہ شاہ نے قافیہ پر اعتراض اٹھادیا۔کشور ناہیدنے کشادہ دلی سے ان کی تنقید کو برداشت کیا۔بات موسیقی سے مشہور ہونے والی غزلوں کی ہورہی تھی۔حسن عباس رضا،جاوید احمد،راحت سرحدی،ناصر بشیر،بینا گوئندی،شائستہ نزہت،ناصر علی سید،رحمان حفیظ،رخشندہ نوید نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔احسان اکبر نے اپنی غزلیں سنا کر حوالے دےے بلکہ غزلیں سنا کر محفل سے رخصت ہوگئے۔اپنی باری پر میں نے کہا : ” بعض اوقات ماٹھی غزلیں بھی موسیقی اور دھن کے سبب مشہور ہو جاتی ہےں اور کاغذ پر وہ اشعار پھیکے بے رس اور کمزور لگتے ہیں۔ایک صاحب سے جس سے ہمارا تعارف نہ تھا ،کہا:کوئی مثال پیش کریں ۔اتنے میں ایک نوجوان نے اطہر نفیس کی غزل ترنم سے گانا شروع کی تو میں نے برجستہ کہا لےجئے مثال آگئی۔ یہ غزل اپنی دھن میں بہت مقبول ہوئی اور واقعتا اس کی موسیقی دل میں اتر جاتی ہے۔لیکن مطلع نہایت کمزور ہے
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہرنہیں کوئی قہر نہیں
پھر سچا شعر سنائیں کیا
وہ دوست ناراض ناراض رہے۔محفل اختتام کوپہنچی تو میں نے ان سے معذرت کرتے ہوئے، اپنا مو¿قف تفصیل سے بیان کیا ۔انہوں نے بتایا میرا نام شمس حیدر ہے اور میں موسیقار ہوں۔بات ختم ہوئی تو ہم اگلے سیشن کی طرف چل دئےے۔صبح خبر آگئی، شمس حیدر اب ہم میں نہیں رہے۔ میلے سے واپسی پر حادثے کا شکار ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔گویا غزل مذاکرہ ان کی آخری ادبی تقریب بن گئی تھی۔بہت دکھ ہوا ، پتا چلامرحوم ماﺅتھ آرگن میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین۔
کی دم دا بھروسہ یار
دم آوے یا ناآوے
کس ناپائیدار زندگی کے ساتھ ہم جی رہے ہیں۔شاید یہی زندگی ہے۔
یہ زندگی کے میلے
دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے


ای پیپر