خاندانی منصوبہ بندی ، کی بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں!
11 اپریل 2018

جنرل ایوب خان کے دور میں جہاں اور بہت سے مثبت، اور ترقیاتی کام، پانچ پانچ سالہ منصوبہ بندی کے تحت، بڑی عرق ریزی اور ماہرین کی زیرنگرانی براہ راست صدرمملکت کی ذاتی دلچسپی اور ہدایات کے تحت کامیابی کے ساتھ روبہ عمل رہے اِس میں صدر جنرل ایوب خان کی ٹیم میں شامل بعض افراد کے ساتھ میری باقاعدہ اس موضوع پر بحث و مباحثہ ، اور ایک صحافیانہ کُرید وقیاس کی بجائے مستند اور معتبر حقائق کو قرطاس پہ منتقل کرنے کی کاوشیں ہمیشہ شامل رہیں۔ کیونکہ کسی بھی انسان میں ہمیشہ ساری اچھائیاں یکجا نہیں ہوا کرتیں، اور نہ ہی کوئی برائیوں کا مجموعہ ہوتا ہے، دراصل پاکستان ٹیلی ویژن کی سینئر ٹیم جو ان کے انٹرویو لیتی تھی مجھے بتاتی تھی کہ وہ ترقی یافتہ ملکوں کے دورے کے لیے اپنے وزراءبھیجتے تھے، اور واپس آکر گھر جانے سے پہلے انہیں ملنے کی تاکید کرتے تھے حتی کہ ماہانہ نشری تقریر کے لیے اگر وہ ٹی وی پرہوتے تو وہیں انہیں بلالیتے تھے۔ لہٰذا اچھی باتوں کی داد دینی چاہیے، اور برائیوں اور منفی رجحانات یا رویوں کی مخالفت کرنے کی روایت ڈالنی چاہیے، مخالفت برائے مخالفت کا رویہ قابل داد نہیں بلکہ قابل فریاد ہے، اور یہی ہماری اخلاقی، سیاسی، سماجی، معاشی ومعاشرتی تنزلیوں کی بنیاد ہے۔
پاکستان اب تک صرف اسی لیے ترقی نہیں کرسکا کہ ہر نیا آنے والا حکمران سابقہ پیش رو کے منصوبوں پہ افتتاح کرتے ہوئے، جو قینچی پھیرتا ہے، وہ محض اس کی ذات کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے، اس لیے وہ اس کی خواہشات کے ساتھ ساتھ عوام کی اُمیدوں اور امنگوں پہ بھی پانی پھیر دیتا ہے، جس کی وجہ سے ہم ابھی تک وہیں کے وہیں ہیں۔
میاں شہباز شریف نے جو سڑکوں کا جال لاہور میں بچھایا ہے، عمران خان کا کہنا ہے، کہ صرف میاں صاحب نے سڑکوں کا جال نہیں بچھایا بلکہ اس میں مال بھی کمایا ہے، اب یہ عوام کا کام نہیں کہ وہ اس کا آڈٹ کراتی پھرے، جب نیب جیسا ادارہ فعال ہوگیا ہے، اور اس جیسے دیگر ادارے بھی آج کل ”مرجع خلائق“ بنے ہوئے ہیں، اور عدالتیں بھی اس وقت عدل جہانگیری سے ہوتے ہوئے، عدل فقیری تک آپہنچی ہیں، عوام کو تو ان سہولیات سے استفادہ کرنے دیں۔ دراصل تعلیم کے فقدان کی وجہ سے ہم میں شخصیت پرستی، اور پیرپرستی اس طرح حاوی ہوگئی ہے، کہ مرید درجنوں کے درجن، ایک پیر کے ہاتھوں قتل ہوگئے ، اور یقین اس قدر پختہ تھا، کہ پیر ہمیں دوبارہ زندہ کردے گا نعوذ باللہ اتنا شرک اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کیسے برداشت کرے گا، عمران خان کی شادی پہ کتے کو کمرے سے نکالنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تبدیلی آگئی ہے ، ریحام بے شک رجوع کرلے ، اس کی بات مان لی گئی ہے؟ اب ووٹ کا تقدس پامال کیسے نہیں ہوگا، ہمارا ہردوسرا بندہ اپنے آپ کو افلاطون سمجھتا ہے، اور مجھ سمیت ہرانسان، نکتہ چین، تنقید نگار ہے، چاہے کسی دوسرے کا جگر فگار ہو جائے، افلاطونی مشورہ تو یہ ہے کہ عدل وانصاف کی ایک ہی صورت ہے۔ اور ظلم وزیادتی اور جوروستم کی بہت سی اور کئی قسمیں اور صورتیں ہوتی ہیں۔ اسی لیے تو عدل وانصاف کی بجائے ظلم بڑی جلدی اور آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔
اس کی ایک آسان اور سادہ مثال غلط اور صحیح نشانہ اندازی کی ہے، کہ صحیح نشانہ اندازی کے لیے تعلیم کی احتیاج وضرورت ہوتی ہے اور کسی پہ غلط نشانہ لگانا یا باندھنا کسی بھی تعلیم وتربیت کا محتاج نہیں ہوتا۔
بلکہ بایزید بسطامیؒ کے مطابق تو ملک ایک کھیتی کی مانند ہوتا ہے۔ اور عدل وانصاف اگر اس کی پاسبانی اور حفاظت نہیں کرتا، تو کھیتی اجڑ جاتی ہے، اور تباہ ہو جاتی ہے۔ ایک بزرگ نے تو یہ بھی کہا تھا، کہ جب سے مجھے یہ پتا چلا ہے کہ مخمل و”سپریم فوم “ کے گدے پہ سونے والے کے خواب، ننگی اور سخت زمین پر سونے والوں کے خوابوں سے قطعی مختلف نہیں ہوتے، تب سے مجھے خدائی انصاف وعدل پہ اور پختہ یقین ہوگیا ہے۔ میں نے کل پرسوں خبر پڑھی کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں گے، کیونکہ آئین میں التواءکی گنجائش ہی نہیں ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرا قوم سے وعدہ ہے کہ اگر میں مارشل لاءنہ روک سکا ، تو گھر چلا جاﺅں گا۔ مگر میرے ناپختہ ذہن میں فوراً یہ خیال آیا کہ انتخابات وقت پہ ہونے کی چیف جسٹس صاحب کیسے ضمانت، اور گارنٹی دے سکتے ہیں جبکہ مختلف سیاستدانوں کے مختلف اداروں اور مختلف عدالتوں میں مقدمات زیربحث ہیں، صرف اس بات کا یقین ہے کہ شاید یہ سارے فیصلے انتخابات سے پہلے پہلے محفوظ کرنے کی بجائے ”مشتہر“ کردیئے جائیں گے۔ جہاں تک مارشل لاءلگنے کی بات ہے ، تو یہ عسکری طاقت تو نظریہ¿ ضرورت کی سہولت، اگر آپ سے نہیں لے سکے گی، تو کیا ہوا، کسی سے تو یہ رعایت لے ہی چکے ہیں، مارشل لاءکبھی بھی کسی بھی ملک میں کسی سے بھی پوچھ کر نہیں لگتے، دنیا بھر کی تاریخ کھنگال لیں، جہاں جہاں بھی مارشل لاءنہیں لگا، اس ملک کے حالات ہمارے ملک سے قطعی مختلف تھے، ان ملکوں کی منصوبہ بندی ہر میدان میں ہوتی ہے، کھیلوں، تماشوں کی بھی ، اقتصادیات کی بھی ، عسکری اداروں کی بھی ، اور سیاسی ذہینوں اور فطینوں کی بھی ۔ مگر ہمارے ہاں تو فوج اقتدار پہ کئی بار قبضہ کرچکی ہے، اگر چیف صاحب کو یہ پتا ہے کہ مارشل لاءنہیں لگے گا، تو پھر شاید ان کو یہ اندازہ بھی ہو کہ آئندہ آنے والی حکومت کس کی ہوگی اور ڈرائیونگ سیٹ پر کون بیٹھے گا؟ مگر ہمارے عوام تو ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ ووٹ کس کو دیں، کیونکہ ہمارے ملک کے اکثر عوام ووٹ ضائع کردیتے ہیں۔ مگر دیتے کسی کو نہیں ، جوکہ نہایت غلط اور نامناسب بات ہے، کیونکہ دنیا کے ملکوں کے سکون کو تہ وبالا کرنے والا امریکی صدر بش محض ایک ووٹ سے جیتا تھا، اور میرے ”امریکن نیشنل بھائی“ اُن دنوں خاصے عرصے کے بعد پاکستان آئے ہوئے تھے، اور شدید پچھتا رہے تھے کہ کاش میں ان دنوں امریکہ میں ہوتا اور بش کے خلاف ووٹ دیتا، کیونکہ بش کے خیالات اور انتخابی نعرے مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ اور اس کی ذہنیت انتہائی متعصب اور جاہلانہ ہے جیسے موقع پرست سیاستدانوں کی دور موجود میں ہے، دودوتین مرتبہ وزیر اور وزیراعظم رہنے کے باوجود انہوں نے جنوبی پنجاب کے لیے کیا کیا ؟ اب کیوں گلہ کرتے ہیں ۔
میں نے بات شروع کی تھی، کہ ہمارے ہاں کسی بھی میدان عمل کی منصوبہ بندیوں کا شدت سے فقدان ہوتا ہے، حتیٰ کہ خاندانی منصوبہ بندی ، جوایوب خان کے دورسے شروع کی گئی تھی، اور اس وقت بھی عالم دین، جو اب خود اپنے آپ کو شیخ الاسلام کہتے اور کہلواتے ہیں، اس دور میں بھی کثرت سے دستیاب تھے۔
میں نے کل پرسوں ایک دینی چینل پر خوددیکھا کہ ایک دینی شخصیت کو ”شیخ العالم “ کہا جارہا تھا، بہرحال آج کل کے ”دورِ دُرنایاب“ میں بھی خاندانی منصوبہ بندی والوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے حق میں نامور اور ممتاز دینی رہنما ڈاکٹر احمد شہزاد مجددی، اور ناقابلِ محتاجِ تعارف جناب مفتی منیب الرحمن سے بیان دکھایا جاتا ہے۔ مختلف ناموں ، اور پیغاموں سے آنے والا یہ ادارہ کب تک کتنی کامیابی حاصل کرچکا تھا یہ ”تھر“ والوں سے پوچھیں ، یا اپنی گھروالی سے پوچھیں۔مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر مجددی صاحب کے کتنے بچے ہیں، مگر میں نے پڑھا تھا، کہ کچھ عرصہ قبل مفتی منیب صاحب کے جواں بیٹے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے جو غالباً ایک ہی بیٹے تھے، مجھے بہت دکھ ہوا کہ اگر ان کے اور بیٹے ہوتے، تو ان کے بڑھاپے کا سہارا بنتے۔ لہٰذا یہ منصوبہ بندی ، خود جنرل ایوب خان کو بھی بھاری پڑی، اور حکومت کو بھی کہ حکومتوں کو خواہ مخواہ کے اخراجات پڑ جاتے ہیں، مگر نتیجہ صفر ہوتا ہے، مختلف محکموں کی بجائے، شاید صرف اشتہار بازی کی منصوبی بندی زیادہ موثر رہے گی ، غریبوں پہ اس کا اثر ویسے ہی نہیں ہوتا، امیر خود بخود منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات انتخاب سے قبل سہولت کار کی انتخابی منصوبہ بندی ہے، صاف نظر آتا ہے کہ کس کس پارٹی کو ”ہُما“ کا پیار حاصل ہے، میں ہُما نام والی بہنوں سے معافی مانگتا ہوں ....اور اپنے رب سے بھی معافی مانگتا ہوں، مگر معافی دوسروں کی خاطر نہیں مانگی جاسکتی، صرف دعا کی جاسکتی ہے۔


ای پیپر