کراچی والو: آپ نے گھبرانا نہیں
10 ستمبر 2020 (22:09) 2020-09-10

کراچی کے لیے 1113ارب کے پیکج کا اعلان ہونے کے بعد توقع کے عین مطابق تماشا کھڑا ہوگیا ہے، سب پوچھ رہے ہیں کہ دفاعی بجٹ کے مساوی یہ رقم آخر کہاں سے آئے گی۔ وفاق میں پی ٹی آئی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے عہدیداروں کے درمیان بیانات کی جنگ شروع ہوئی تو اسی دوران اس پیکج کی حقیقت سامنے آنا شروع ہوگئی۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے اعلان کردہ پیکج میں 86 فیصد منصوبے پرانے ہیں، ادھر ادھر کے اگلے پیچھے سب منصوبے اور آنے والے وقت کے لیے پہلے سے طے کردہ اہداف کو جمع کرکے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا اعلان کردیا گیا۔ موجودہ حکومت کے ٹریک ریکارڈ کے مطابق ایسا ہونا ہرگز حیرت انگیز نہیں، وزیر اعظم ملک بھر میں کئی ایسے منصوبوں کا ازسرنو افتتاح کرچکے ہیں جن پر کام مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی ادوار میں ہی شروع ہوچکا تھا، بعض پرانے منصوبوں کا صرف نام تبدیل کرکے انہیں زبردستی حکومت کے کھاتے میں ڈالا جارہا ہے، اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے پی ایس ڈی پی میں پہلے سے شامل منصوبوں کو نیا ظاہر کرکے پیکج میں شامل کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کے ٹو اور کے فور کے منصوبے جو پہلے ہی سے وفاق اور سندھ حکومت چلا رہے تھے اس پیکج میں شامل ہیں، حتی کے سی پیک میں شامل کے سی آر پراجیکٹ کو بھی نہیں بخشا گیا،اب یہ بتایا جارہا ہے کہ مالی مشکلات کے باعث ترقیاتی بجٹ کی گنجائش نہیں، اس لیے وفاقی حکومت اپنے بجٹ سے 100ارب جبکہ نجی شعبے سے 510ارب روپے لے کر دے گی، ایک طرف تو وفاقی اور سندھ حکومتوں کی جانب سے دعوے جاری ہیں، دوسری جانب کراچی کے شہریوں کی غالب اکثریت غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے، اب تو کوئی راز نہیں رہ گیا کہ کوئی نیا پیکج ہے ہی نہیں، پرانی بوتل پر نیا لیبل لگانے کا جھانسہ دیا گیا جو تھوڑے وقت میں ہی اتر کر ہاتھ میں آگیا، اصل سوال تو یہ ہے پہلے سے جاری منصوبوں کو کس طرح مکمل کیا جائے، دستیاب فنڈز کا بہترین استعمال کیسے ممکن بنایا جائے، کہا جاتا ہے کہ ایک مشترکہ کمیٹی تمام منصوبوں کی نگرانی کرئے گی، کراچی کو 90 کی رہائی کے شروع ہی سے مشترکہ طور پر چلایا جارہا ہے، پہلے کون سا معرکہ سر کرلیا گیا جو اب کوئی نیا تیر چلا لیا جائے گا، کراچی اس حوالے سے منی پاکستان ہے کہ ملک بھر سے لوگ نہ صرف روزگار کی تلاش میں ہاں آتے ہیں بلکہ مستقل قیام کرنے کو بھی ترجیح دیتے ہیں، مہاجر بلاشبہ آج بھی شہر کی آبادی کا غالب حصہ ہیں، یہ شہر تین دہائیوں سے عذابوں سے گزرتا آرہا ہے، الیکشن 2018 میں یہاں بھی نئے نمائندے لانے کا منصوبہ بنایا گیا، اس سے پہلے ایم کیو ایم کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، ایسا نہیں کہ زیادہ آبادی صرف ایم کیو ایم کی حامی تھی، لوگ تبدیلی چاہتے تھے، 2013 کے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو خاصے ووٹ ملے، لیکن ایسا بھی نہیں کہ ایم کیو ایم شہر سے مٹ گئی ہو، آج بھی زیادہ تر مہاجر ووٹر ایم کیو ایم کے ہی ساتھ ہیں، 2018 کے الیکشن میں جس طرح ریاستی اداروں کی سرپرستی میں پی ٹی آئی کو شہر میں انٹری دی گئی اور مخالفین کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو ووٹروں نے بھی یہی بہتر سمجھا جب ایم کیو ایم نے آنا ہی نہیں ووٹ کیوں ضائع کریں، صرف پی ٹی آئی ہی نہیں باقی وفاقی پارٹیوں کے لیے بھی جگہ تھی مگر انہیں یکساں مواقع ہی فراہم نہیں کیے گئے۔ شہباز شریف نے ایک حلقے میں کوئی موثر مہم چلائے بغیر فیصل ووڈا سے کڑا مقابلہ کیا، بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ شہباز شریف جیت چکے تھے، مگر‘‘خدمت گزار‘‘ووڈا کو کامیاب کرانا اس لیے بھی ضروری تھا کہ شہباز شریف کے نام کے آگے کاٹا لگایا جاچکا تھا، نئے نظام میں پی ٹی 

آئی کو شہر سونپا گیا اور وفاقی حکومت بھی اسی کو ملی ، بظاہر شہری حکومت ایم کیو ایم کے پاس تھی، پیپلز پارٹی سندھ حکومت چلا رہی تھی، اور ساتھ ہی نیب کی مہمان نوازی سے بھی‘‘ لطف اندوز‘‘ ہورہی تھی، ایم کیو ایم کے تائب ہونے والے لیڈروں کو صرف اتنی رعایت ہی ملی کہ ان کے خلاف مزید کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی، پی ٹی آئی اور اداروں کے ایک پیج پر ہونے کے بعد دونوں کو فری ہینڈ مل چکا تھا اب محض قبضہ پکا کرنا تھا، حکومتیں مثبت خبروں یا تیز وتند بیانات سے نہیں بلکہ انتظامی صلاحتیوں اور قابل عمل پالیسوں سے چلتی ہیں، اس حوالے سے پی ٹی آئی کی پوری قیادت فارغ ہے، سو کراچی عملًا لاوارث شہر بن گیا، کراچی کے حوالے سے ایم کیوایم پر جتنے مرضی اعتراضات کرلیں یہ ماننا ہوگا کہ اس کے ارکان جسے تیسے شہر کا نظام بہر طور چلاتے رہے،بیچ میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان کو موقع ملا تو انہوں نے اپنی صلاحتیوں کے کمال جوہر دکھائے، خود ایم کیو ایم بھی دنگ رہ گئی، بہر حال یہی لوگ اپنے تجربے اور عوامی تائید سے شہری نظام چلانے کی اہلیت ضرور رکھتے تھے، وفاق، پنجاب اور کے پی کے میں حکومتی ڈھانچے تیار کرتے وقت جو غلطی کی گئی وہی کراچی کے حوالے سے دھر ائی جارہی ہے، سو اب اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ مقامی لیڈر شپ مسائل کا حل نکالے گی تو معذرت ہی سمجھیں ،ریاستی اداروں کا پلان واضح ہے پیپلز پارٹی کو سو جوتے سو پیاز کے اصول کے تحت اس وقت تک چلایا جائے گا جب تک دیگر جماعتوں خصوصا مسلم لیگ (ن) کا مکو مکمل طور پر ٹھپ نہیں لیا جاتا، ایم کیو ایم کو موجودہ حالت میں ہی بہت تھوڑی سی لفٹ ملے گی، یہ ثابت ہوچکا کہ پی ٹی آئی خود یا دوسروں (سرپرستوں)کے ساتھ مل کر کام کر نے کی صلاحیت سے عاری ہے ، سو کسی انہونی تک سب ایسے ہی چلے گا،ویسے بھی جب سارے ملک کے حالات خراب ہیں تو کراچی کے لیے کچھ خاص کیسے کیا جاسکتا ہے، پیکج کہانی کا اصل پس منظر صرف اتنا ہے کہ فنڈز کی کمی اور بد انتظامی کے باعث شہری مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم ایک دوسرے پر تنقید کر رہے تھے، پی ٹی آئی والے اپنی ذمہ داریاں نظر انداز کرکے ان دونوں جماعتوں پر پھبتیاں کس کر مزے لے رہے تھے،محکمہ موسمیات کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی، غیر معمولی بارشوں نے جلوہ دکھایا تو شہر تالاب بن گیا، نالوں پر پختہ غیر قانونی تعمیر ات اور سمندر میں ملبہ ڈال کر ہائوسنگ سکیم بنانے کی کوشش میں نکاسی آب کا نظام بری طرح سے متاثر ہوچکا تھا، بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا تو سب مل کر صرف پیپلز پارٹی کو نشانہ بناتے رہے، بلاول بھٹو زرداری نے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی انکے بیان کا خود وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر مذاق اڑایا، نقل بھی اتاری، قدرتی آفات مگر کہاں کسی کو بخشتی ہیں، تابڑ توڑ بارشیں ہوئیں تو ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ ایریا بھی ڈوب گیا، امیر علاقوں کے ان لوگوں نے کبھی ایسی  افتاد کا سوچا تک نہ تھا، بڑے بڑے بنگلے پانی میں ڈوبے، بجلی مسلسل غائب ہوئی تو سپر ایلیٹ (ہائی کلاس ممی ڈیڈی کمیونٹی) ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے، نعرے لگاتی سڑکوں پر آگئی، ڈی ایچ اے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ان پرامن مگر انتہائی بااثر اور مالدار احتجاجیوں کو روکنے کے لیے کنٹینرز لگانے پڑے، مظاہرے پھر بھی ہو کر رہے اور میڈیا کو کوریج بھی کرنا پڑی، این ڈی ایم اے والے اس سے پہلے ہی کراچی پہنچ کر کمانڈ سنبھال چکے تھے، پیپلز پارٹی شور مچا رہی تھی کہ تمام بندے اور زیادہ تر مشینری ہماری ہے مگر کریڈٹ کوئی اور لے رہا ہے، اس وقت کوئی بات نہیں سنتا تھا،پوش علاقوں سمیت پورا شہر ڈوبنے کے بعد اصل تھرتھلی مچی، آرمی چیف نے کراچی جاکر فضائی جائزہ لیا اور کہا کہ ایسی آفت سے نمٹنا فوری طور کسی کے لیے بھی ممکن نہ تھا، اس طرح تنقید کی زد میں آئی پیپلز پارٹی کو بھی کچھ ریلیف مل گیا، تاجروں و صنعت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں کراچی کے بیشتر مسائل حل کرلیے جائیں گے، اس بعد سب وزیر اعظم کے دورے اور پیکج کے انتظار میں تھے، جو سامنے آچکا، عمران خان نے بھی تین سال کا ہی ٹائم دیا، یہ تو پھر ثابت ہوگیا کہ ایک پیج ہر معاملے میں ایک ہے، یقیناً یہ اپوزیشن کے لیے خوشی کی بات نہیں، رہ گیا تین سالوں میں کراچی کے مسائل حل ہونے کادعوی تو حکومتوں کی کارکردگی کے حوالے سے اتنا ہی عرض ہے جو پچھلے دو سالوں میں کچھ نہ کرسکے، آگے کیا کرلیں، اب تو پچھلی حکومتوں کے وہ منصوبے بھی بہت کم رہ گئے ہیں جن پر موجودہ حکمران اپنے ناموں کی تختیاں نصب کر رہے تھے،ملک کے مالی حالات انتہائی مخدوش ہیں، اور سب نے کھانا پینا بھی ہے، سو فی الحال کراچی والے بھی ملک کے دوسرے حصوں کے عوام کی طرح کسی بڑی تبدیلی کی امید چھوڑ دیں، حقائق کا سامنا کرنے کی عادت ڈالیں، کسی کی خاطر کوئی گھاس نہیں کھاتا ہے، ایسے ڈائیلاگ خواہ کرکٹر شعیب اختر ہی بولیں، بول بچن سے زیادہ نہیں، خود ہمارے انتہائی سادہ اور غریب پرور وزیر اعظم اپنے لیے خوراک میں کم سے کم دیسی مرغی پر راضی ہوتے ہیں۔ کراچی کے سارے مسائل حل ہوگئے تو لوگ ملک میں ہونے والی دیگر سرگرمیوں پر رائے دینا شروع کردیں گے، سو‘‘ وسیع تر قومی مفاد‘‘ کا  تقاضا یہی ہے کہ دو کروڑ کی آبادی والے شہر کے لوگوں کو آہستہ آہستہ چھوٹی چھوٹی سہولتیں دی جائیں، تاکہ ان کی عادتیں خراب نہ ہوں اور وہ سڑکوں پر معمولی پیچ ورک کو بھی احسان جانیں، مختصر یہ کہ نہ جادو کی چھڑی ہے نہ پیسہ نہ پلاننگ، کراچی والوں کے لیے فی الحال یہی پیغام ہے‘‘ آپ نے گھبرانا نہیں‘‘


ای پیپر