گیارہ ستمبر اور ہم
10 ستمبر 2020 (22:08) 2020-09-10

پاکستان کے باسیوں کیلئے دو مرتبہ اور روئے زمین تمام کے باسیوں کیلئے ایک مرتبہ 11ستمبر سے پہلے اور بعد کی دنیائیں ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھیں۔ 11ستمبر 1948ء کی ہو لناک شام، میرے والد اور دوسرے بزرگ بتایا کرتے، پورے پاکستان کو اجتماعی طور پر یتیم کرگئی۔ 14اگست1947ء کے بعد سے اب تک لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں مختلف کیمپوں میں کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہوئے تھے۔ مگر اپنے آزاد ملک کی فرحت نے جو اعتماد دے دیا تھا، وہ ہر قسم کی تکالیف پہ غالب تھا۔ حال مست ہوتے ہوئے لوگ مستقبل کے بارے میں پُر امید تھے۔ لیکن 11ستمبر کی اس شام کو جیسے ہی قائد اعظم کی رحلت کی خبر ملی تو کھلے آسمان کے نیچے پڑے لوگ تو کیا، وہ بھی جنہیں اپنے گھر کی چھت نصیب تھی، خود کو ایک مرتبہ پھر سے بے آسرا سمجھنے لگے۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے، بات نہ کرتے، بس رو پڑتے۔ ایک ایسا باپ داغ مفارقت دے گیا تھا، جس کا کردار کرسٹل کی طرح شفاف تھا۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک نوزائیدہ مملکت تھی۔ مگر اس کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔ لہٰذا اس کے وجود میں آتے ہی اس وقت کی دنیا کی دو عظیم ترین طاقتیں اس کا وزن اپنے اپنے پلڑے میں ڈالنے کیلئے ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوگئیں۔ لیکن میدان پاکستان ہی کی سرزمین کو چُنا۔ قائد اعظم کی رحلت کے بعد پاکستان کے اندر ان طاقتوں کے خلاف قوت مدافعت کمزور پڑگئی۔ پاکستان میں حاکم سرعت سے تبدیل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ پنڈت جواہر لال نہرونے ایک مرتبہ کہا کہ میں اپنا پاجامہ جتنی دیر کے بعد تبدیل کرتا ہوں، اس سے پہلے پاکستان کا سربراہ مملکت تبدیل ہوجاتا ہے۔ مختصراً یہ کہ قائد اعظم کی رحلت کے بعد پاکستان کی موقع پرست اشرافیہ کو جو کھلی چھوٹ ملی، اس کا علاج آج تک نہ ہوسکا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد 11ستمبر1948ء کے فوراً بعد ہی رکھ دی گئی تھی۔

دوسری بار 11ستمبر کو چشم فلک نے ایک اور نظارہ 2001ء میں دیکھا۔ 11 ستمبر 2001ء کو بجائے 11 ستمبر 1948ء کے جس میں صرف پاکستان کی اُس دن کے بعد کی دنیا پہلے والی سے مختلف تھی، پورے روئے زمین کی دنیا اُس دن سے پہلے والی دنیا سے مختلف تھی۔ آج کے کالم میں یہ دیکھنا مقصود ہے کہ 11 9/ پوری دنیا پر بالعموم، اور امریکہ اور پا کستا ن پہ بالخصوص کس طرح اثر اندز ہوا۔ اولاً تو صدر بش نے طالبان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے افغانستان پہ حملے کا اعلان کیا۔ جس کے نتیجے میں NATO آرمی نے اکتوبر 2001میں افغانستان پہ حملہ کردیا۔ ثانیاً صدر بش ایک ہائی کمان میٹنگ میں فوجی جرنیلوں سے یہ پوچھتے پائے گے آیا اس میں عراق کو کیسے گھسیٹا جاسکتاہے۔ اب جرمن اخبار کے تو سط سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ صدر بش اس وقت افغانستان پہ ایٹم بم گرانے کا پروگرام بنارہے تھے۔ اس صورت میں جرمنی نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا۔ دوسری جا نب امر یکہ نے پاکستان کو خصوصی پیغام دے کر اس کی مدد کرنے یا دوسری صورت میں سنگین نتائج کے لیے تیار رہنے کو کہا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ مظلوم بن کر دنیا کے سامنے آیا تھا۔ پاکستان کے اس وقت کے سربراہ جنرل مشرف نے اپنے مطابق وقت کی نبض پہ ہاتھ رکھتے ہوئے امریکہ کو مدد کا یقین دلایا۔ جنرل مشرف کا فیصلہ درست تھا یا غلط ایک الگ بحث ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج ان کے فیصلے پہ نکتہ چینی کرنے والے اگر اس وقت ان کے حق میں نہ تھے، تو مخالف بھی نہ تھے۔امریکہ نے یہ سوچنے کی تکلیف گوارہ نہ کی تھی کہ جس کسی نے بھی 11 9/ کیا، آخر کیونکر کیا۔ یہی وہ گھمنڈ تھا کہ اس نے افغانستان پہ حملہ کرنے سے پہلے اس کے دور رَس نتائج کا ادراک نہ کیا۔ آج اس کا دبے لفظوں میں خود ماننا ہے کہ وہ افغانستان کو زیر کرنے میں ناکام رہا۔ جنگ کی طوالت سے دنیا کی نظروں نے امریکہ کو سفاک دشمن کے طور پر دیکھنا تو شروع کرہی دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خود اس کے 

عوام بھی اپنی حکومت سے بیزار ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج% 6 سے زیادہ امریکن اس جنگ کے خلاف ہیں۔ 11 ستمبر کے بعد ایک انتہائی منفی اثر مغربی ممالک میں عوامی سطح پر دیکھنے میں آیا۔ وہ یہ کہ جو کوئی بھی اپنی جلد کی رنگت اور حلیے کی بناء پر مسلمان نظر آیا اُسے نفرت کی نگاہوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کے خلاف عوامی سطح پر پُر تشدد واقعات تواتر سے ہوئے۔ چند ایک مرتبہ تو اس سلسلے میں داڑھی اور پگڑی کی ایک سی شکل کی بناء پر سکھ کمیونٹی کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ ایک انتہائی افسوس ناک پہلو یہ رہا کہ مغربی میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات ابھارنے میں بڑی چابکدستی اور مہارت سے معاونت کی۔ پھر امریکہ نے مسلم ممالک کے درمیان آپس میں نفرت پیدا کرنے کی سکیم پہ کام کیا۔ تاہم اس سلسلے میں مسلم ممالک خود بھی جانتے بوجھتے اس کے آلہ کار بنے۔ قطع نظر امریکہ کے دعویٰ کے کہ اس نے القاعدہ کا صفا یا کردیا، آج داعش، بوکو حرام اور الشہاب جیسی تنظیمیں اس کے لیے مستقل خطرے کے طور پر موجود ہیں۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی مارکیٹوں میں 11 9/  کے حملوں کا انتہائی منفی اثر پڑا۔ نیویارک سٹاک ایکس چینج، امریکن سٹاک ایکس چینج، اور نیس ڈاک ( NASDAD) گیارہ ستمبر سے لے کر 17ستمبر تک بندرہے۔ جب 17ستمبر کو یہ سٹاک مارکٹیں کھلیں تو (Dow Jones Industrial Average)  (DJIA ( 684 پوائنٹ گرا ہوا تھا۔ 1933ء کی گریٹ ڈیپریشن کے بعد یہ امریکہ کی تاریخی مندی تھی۔ تاہم یہ ریکارڈ بھی 29ستمبر 2008ء کو ایک ہی روز میں777پوائنٹ کی مندی سے ٹوٹ گیا۔ اس ہی ہفتے کے آخر پہ ایک ہفتے کی مجموعی مندی 3697پوائنٹ کی کمی سے سامنے آئی۔ یہ امریکہ کی تاریخ کی ایک ہفتے کی سب سے بڑی مندی تھی۔ ظاہر ہے یہ سب11 9/  کے حملوں اور اس کے بعد امریکہ کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ 2007ء کے بعد دنیا بھر کے بینکوں میں تاریخی خسارہ دیکھنے میں آیا۔ کتنے ہی مالیاتی ادارے دیوالیہ ہوگئے۔ جو ہلاکتیں ہوئی تھیں، ان میں 78ملکوں کے لوگ شامل تھے۔ امریکہ کے دوست ممالک کے علاوہ یہاں تک کہ اس کے مخالف ممالک نے بھی اس سے یک جہتی کا اظہار کیا۔ امریکہ نے عرب ممالک کو اپنے انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے تیونس، لیبیا اور مصر کے سربراہان حکومت کو تاراج کرنے میں کلیدی کردار اد کیا۔قارئین اب اگر جزیات سے ہٹ کر 11 ستمبر 2001 کے بعد کے پوری دنیا کی حالت پہ غور کریں تو معلوم ہوگا دنیا میں مفلسی بڑھی۔ معیار زندگی نیچے آیا۔ لوگوں کو اپنے آنے والے کل پہ اعتماد نہ رہا۔ بیروزگاری نے ہر ملک میں پنجے گاڑ دیئے۔ خود کشیوں میں اضافہ ہوا۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ 11 9/ والے روز امریکہ کے ہونے والے نقصانات کا نتیجہ ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ دراصل یہ حاصل ہیں اس انتقامی جنون کا جو امریکہ کی سا مزاجی ذہنیت پہ سوار ہوا۔ اپنی ان جنگوں اور فوجی کارروائیوں میں جو اس نے انرجی اور مادی وسائل استعمال کیے، وہ سب دھواں ہوکر صفر ہوگئے۔ لامحالہ اس کا اثر دنیا بھر میں انرجی اور مادی وسائل کی کمی کی صورت میں برآمد ہوا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ انا پرستی کسی بھی انسان کو تباہ کردیتی ہے۔ کسی اکیلے شخص کی حد تک تو اس کا کچھ جواز بنتا ہے، بین الاقوامی سطح پر کسی ملک کا انا پرستی کااس حد تک شکار ہوجانا سمجھ میں نہیں آتا۔


ای پیپر