دنیا والو سن لو!محمدﷺ خاتم النبیّین ہیں
10 ستمبر 2020 (22:07) 2020-09-10

خاتم النبیّین کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلسلہ نبوت ختم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا بعد میں کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  اَنَا خَاتَمَ النَّبِیینَ لَا نَبیَ بَعدِی(میں خاتم النبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا)پس سلسلہ نبوت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے اس لیے جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبی مانے یا جائز جانے یا نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔

7ستمبر کا دن پاکستان کے مسلمانوں کے لیے خصوصی طور پر اور دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے عمومی طور پر ایک یاد گار اور تاریخی دن ہے۔یہ دن ہمیں اس تاریخ ساز فیصلے کی یاد دلاتا ہے جو پاکستان کی قومی اسمبلی نے عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت کا بر ملا اور متفقہ اعلان کرتے ہوئے جاری کیا تھا۔اس عظیم اور تاریخ ساز فیصلے کی رو سے مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا گیا تھا۔

1974وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں جن کوقادیانی بھی کہا جاتا ہے، کوغیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا، اس تحریک کے اصل محرک شاہ احمد نورانی تھے انہوں نے 30 جون کو ایک تاریخی قرارداد جمع کرائی اور 6 ستمبر 1974تک بحث و تمحیص کے بعد اسے ایک قانونی شق کی حیثیت دے دی گئی۔

قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں کے خلاف کئی سال تک تحریکیں چلتی رہیں، 1953  اس حوالے سے زیادہ مشہور سال ہے ان تحریکوں میں کئی علما مثلاً عبدالستار خان نیازی اور مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوا۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں احمدی عقائد کے خلاف ایک قرارداد منظور ہو چکی تھی کہ پنجاب کے شہر ربوہ میں 29 مئی کو ایک واقعہ ہوا جس نے ایک نئی تحریک کو جنم دیا۔ مئی1974میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ کا ایک گروپ سیروتفریح کی غرض سے چناب ایکسپریس سے پشاور جا رہا تھا۔ جب ٹرین ربوہ پہنچی تو قادیانیوں نے اپنے معمول کے مطابق مرزا قادیانی کی خرافات پر مبنی لٹریچر تقسیم کرنا شروع کردیا۔نوجوان طلبہ اس سے مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ختم نبوت زندہ باد اور قادیانیت مردہ باد کے نعرے لگائے۔طلبہ جب پشاور سے واپسی پر 29مئی کو ربوہ پہنچے توقادیانی دیسی ہتھیاروں سے مسلح ہوکر طلبہ پر ٹوٹ پڑے اورطلبہ کو نہایت بے دردی سے مارنا پیٹنا شروع کردیا، انہیں لہولہان کردیااوران کا سامان لوٹ لیا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں پریشانی کی ایک لہر دوڑ گئی اور اس واقعہ کے تھوڑا عرصہ بعد مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی نے قومی اسمبلی (پاکستان) میں 30 جون 1974 احمدیوں اور لاہوری گروہ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول تھے لہٰذا اس باطل عقیدے کی بنا پر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اس تحریک میں سب مکاتب فکر کے علما کے ساتھ ساتھ بہت سے سیاست دانوں نے حصہ لیا جن میں نوابزادہ نصر اللہ خان کا نام نمایاں ہے، سوائے چند ایک رکن قومی اسمبلی پاکستان کے اکثر ارکان نے اس قرارداد کی حمایت میں دستخط کر دیے۔ احمدی اور لاہوری گروپ کے نمائندوں کو ان کی خواہش کے مطابق اپنی صفائی کا مکمل موقع دیا گیا۔یہ بحث دوماہ کے طویل عرصہ تک جاری رہی۔ان دو ماہ میں قومی اسمبلی کے 28 اجلاس اور 68 نشستیں منعقد ہوئیں۔ گیارہ روز تک لاہور ی گروپ کے مرزا ناصر اور نو روز تک قادیانی گروپ کے نمائندوں پر جرح ہوتی رہی۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار فریقین کے مؤقف کو سن کر ایک دوسرے تک بیان پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ کمیٹی اس بات کی پابند تھی کہ کئی سال تک اس مناظرے کو کہیں نشر نہیں کرے گی۔

5،6ستمبر کو اٹارنی جنرل آف پاکستان یحییٰ بختیار نے بحث کو سمیٹتے ہوئے دو روز تک اراکین قومی اسمبلی کے سامنے اپنا مفصل بیان پیش کیا۔7ستمبر کو فیصلے کے دن حالات بہت خراب ہوگئے۔حکومت پربیرونی دباؤتھا اس لیے بڑے بڑے شہروں میں فوج تعینات کردی گئی ۔اللہ تعالیٰ نے بھٹو صاحب سے یہ ختم نبوت کا کام لینا تھا اسی لیے  7 ستمبر 1974کو4 بج کر35 منٹ پر قادیانیوں کے دونوں گروپوں (مرزائی اور لاہوری گروپ) کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے قائد ایوان کی حیثیت سے خصوصی خطاب کیااور عبدالحفیظ پیر زادہ نے آئینی ترمیم کا تاریخی بل پیش کیا۔یہ بل متفقہ رائے سے منظور کیا گیا تو حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے ارکان فرطِ مسرت سے آپس میں بغل گیر ہو گئے۔پورے ملک میں اسلامیانِ پاکستان نے گھی کے چراغ جلائے۔اس تاریخ ساز فیصلے کے بعد اکثر اسلامی ممالک نے یکے بعد دیگرے قادیانیوں کو غیرمسلم قراردیا۔یہ یقینا بہت بڑی کام یابی تھی۔ اب پاکستان کے مسلمان غیر سرکاری طور پر 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں۔


ای پیپر