اسرائیل کو ’’تسلیم‘‘ کر لیجئے
10 ستمبر 2020 (17:53) 2020-09-10

اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی… دونوںطرف کے دلائل دیئے جا رہے تھے… یاران مجلس نے حق اور مخالفت میں معاملے کے ہر پہلو کو کھنگالنے کی کوشش کی… تاریخ کے اوراق الٹا کر رکھ دیئے گئے… معروضی اور متعلقہ حقائق کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی… حالات حاضرہ کو سامنے رکھا گیا… عرب ممالک کے رویے کی جانچ پرکھ کی گئی… فلسطینیوں کی حالت زار کا تفصیل سے نقشہ کھینچا گیا… ان کی جدوجہد کے انسانی پہلو کو اجاگر کیا گیا… عربوں نے اسرائیل کے خلاف جو جنگیں لڑیں زیادہ تر میں شکست ہوئی ان پر تفصیلی نگاہ ڈالی گئی… امریکہ اسرائیل تعلقات کی بنیادوں پر سیرحاصل گفتگو ہوئی… پاکستان کی نظریاتی اساس کو یہودی ریاست کو تسلیم کرنے پر کیا زک پہنچ سکتی ہے اس پر روشنی ڈالی گئی… دوسری جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی صورت میں ہمارے ملک کو کیا اقتصادی فوائد مل سکتے ہیں اس کے مثبت پہلوئوں کو سامنے لایا گیا… دوسری صورت میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ ہماری سٹرٹیجک صورت حال کے لئے کن خطرات اور مضمرات کا حامل ہو سکتا ہے… تنازع کشمیر پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے… ہم کس اقدام کے متحمل ہو سکتے ہیں کس کے نہیں اس سلسلہ میں امریکہ کا کتنا دبائو ہے اور اسرائیل کا کتنا خوف ہمیں لاحق ہے… دنیا کی بااثر ترین یہودی لابی پاکستان کو کس نقطہ نگاہ سے دیکھتی ہے… اسرائیلی سرمایہ کار اگر پاکستان میں آ گئے… اس کے ثقافتی مراکز کھل گئے تو کیا اثرات مرتب ہوں گے یہودی دانشور ہمارے کلچر پر کس حد تک اثرانداز ہو پائیں گے… موجودہ حکومت اور اس کے سرپرستوں کے اندر یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کی کس قدر خواہش پائی جاتی ہے… اس ضمن میں اصل حقائق کیا ہیں… پروپیگنڈا کتنا ہے… ہمارے حکمران اس معاملے میں گومگو کی جس کیفیت میں مبتلا ہیں… ہر ایک نے اپنے اپنے نقطہ نظر کی روشنی اس کی نوعیت سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی… بحث کسی وقت جذباتی رنگ لے لیتی تھی… طرفین کے دلائل کا زور بھی کچھ کم نہ تھا… مستزاد یہ کہ بانیان پاکستان کی اس سلسلے میں کیا رائے تھی… قائداعظمؒ کو فلسطینیوں کی آزادی کس قدر عزیز تھی… اگر اس بارے میں آج کے پاکستان میں ریفرنڈم کرایا جائے تو عوام کی اکثریت کیا فیصلہ صادر کرے گی… کوئی پہلو ایسا نہیں تھا… جسے چھوڑا گیا ہو اور کوئی طرز کلام اور گفتگو انداز ایسا نہیں تھا جس سے کام نہ لیا گیا ہو… ساری بحث عروج پر پہنچی تو عین بیچ میں من چلا آن ٹپکا… اس نے اپنے دلائل پیش کرنا شروع کئے تو بے تکان بولتا چلا گیا…

من چلے کا اصرار تھا اسرائیل کو تسلیم کرنے میں مزید کسی تاخیر سے کام نہیں لینا چاہئے… یہ مشرق وسطیٰ کے اس خطے کا جس کا آخری کنارہ پاکستان ہے سب سے زیادہ طاقتور اور بااثر ملک ہے… پھر کیوں نہ اسرائیل کی طاقت سے سمجھوتہ کر لیا جائے اور عالمی یہودی لابی کی ہمدردیاں اور تعاون حاصل کر لیا جائے… اسی میں عقلمندی ہے کیونکہ اپنی ستر سالہ تاریخ میں وہ طاقت حاصل نہیں کر سکے جس سے اسرائیل کا مقابلہ کر سکیں… اسی مدت کے اندر اس نے امریکی فوجی امداد حاصل کر کے اپنی جارحانہ قوت میں اضافہ کیا… ہمیں واشنگٹن سے جو اسلحہ ملا اسے امریکی جنگوں میں ہی جھونک ڈالا… طاقت کا مقابلہ طاقت سے ہو سکتا ہے… اگر نہیں تو صلح صفائی کا ماحول پیدا کر کے اس کے ساتھ جیا جا سکتا ہے… ہم یہودی ریاست کا میدان جنگ میں مقابلہ کر سکتے ہیں نہ اس کے عالمی اثرورسوخ کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں… بہتر ہے اس زمینی حقیقت کا جلد از جلد ادراک کر لیں… اپنے کھوکھلے پن کا اعتراف کرنا چاہئے… اسرائیل فلسطینی علاقوں کو ہڑپ کر چکا ہے… اس معاملے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں اس کی نظروں میں پرکاہ کی حیثیت نہیں رکھتیں… روزانہ کے حساب سے درجنوں فلسطینیوں اور ان کے افراد کنبہ کو کچل ڈالتا ہے کوئی اسے پوچھنے والا نہیں… اپنی سرحدوں کو پھیلاتا چلا جا رہا ہے… کوئی روکنے والا نہیں… امریکہ اور یورپی ممالک اس پر مسرور ہوتے ہیں… عرب دنیا سر نیہوڑائے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہے… باقی دنیا کو پرواہ نہیں… ہر کوئی اس چھوٹے سے ملک کے ساتھ تجارت کرنے کا متمنی ہے… کیونکہ اس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں بیٹھے یہودی سرمایہ دار کا رویہ نرم ہو جاتا ہے… کیا ہمارے لئے بھی اس راستے پر چلنا مفید نہ ہو گا… طاقت بہرصورت طاقت ہوتی ہے… اپنے آپ کو منوا کر دم لیتی ہے… ہم چاہے کتنی بھی نظریاتی مملکت ہوں اندر سے جو کھوکھلے ہوئے جا رہے ہیں… اسرائیل کیا ہماری داخلی حقیقت سے واقفیت نہیں رکھتا… وہ غیرعلانیہ طور پر ہمیں مزید کمزور کرنے پر تلا ہوا ہے… اس مقصد کے حصول کے لئے ایک کے بعد دوسری منصوبہ بندی کرتا ہے… اس کی خاطر ہمارے اصل حکمرانوں، بڑے بڑے سیاستدانوں، چوٹی کے سرمایہ کاروں اور تاجر حضرات یہاں تک کہ مذہبی طبقات کو خاموشی کے ساتھ استعمال کرتا ہے… منفی اثرات سامنے آنا شروع ہوتے ہیں تو کہیں کسی گوشے سے آواز اٹھتی ہے ہمارے خلاف سازش ہو گئی ہے… تدارک کے لئے کچھ بھی نہیں کر پاتے… حفظ ماتقدم کے 

اقدامات یا کسی قسم کی پیشگی منصوبہ بندی کی ہمارے اندر صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے… ان حالات میں ہم اسرائیل کا مقابلہ کیونکر کر سکتے ہیں… اس کے سامنے کس طرح کھڑے ہو سکتے ہیں…اس کی طاقت اور عالمی رسوخ میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے… ہماری جو حالت ہے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں… تسلیم کر لینے کے علاوہ چارہ کیا ہے…

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے من چلے نے کہا اسرائیل جتنا بھی طاقتور ہو اس کا شائد مقابلہ کیا جا سکے… لیکن اس کے پیچھے دنیا کی واحد سپر طاقت کھڑی ہے… اسی سپر طاقت کے ساتھ ہم نے بھی دوستی گانٹھی کل بھی مقروض تھے آج بھی ہیں… یورپی ممالک اسرائیل کا دم بھرتے ہیں… اسی پر اکتفا نہیں روس بھی جو سوویت یونین کے بکھرے جانے کے باوجود مقابلے کی طاقت کہا جا سکتا ہے… رسمی بیان بازی پر اکتفا کرتا ہے… اس کے پردے میں ہر طرح کے تعلقات کو فروغ دینے میں عار نہیں سمجھتا… امریکہ نے اسرائیل کو ہر طرح کی تقویت بہم پہنچانے کی خاطر عراق پر حملہ کیا اسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا… شام کے اندر داخلی امن کے نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی… لیبیا کا کچومر نکال کر رکھ دیا گیا ہے… مصر روز اس کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتا ہے… ایک سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں رہ گئی تھیں… سعودی بادشاہ اگرچہ یہودی ریاست کو رسماً تسلیم نہ کر کے اپنا بھرم رکھے ہوئے ہیں… لیکن اس کی آڑ میں یہودی ریاست کو ہر قسم کا تعاون بہم پہنچا رہے ہیں…فلسطینیوں کی حمایت سے دست کش ہو چکے ہیں… متحدہ عرب امارات نے ایک قدم آگے بڑھ کر اسے تسلیم کر لیا ہے… کسی قسم کی خفت محسوس نہیں کرتا… سعودی پیسے اور رسوخ کے ساتھ چلنے والی ’او آئی سی‘ جو ہر سال اپنے اجلاس میں آزاد کشمیر کے حق میں قراردادیں منظور کرتی تھی… عمران خاں کی ملک ملک جا کر بھیک مانگنے کی پالیسی کے بعد یہ امر بھی قصہ ماضی بن چکا ہے… امریکہ کو پاکستان کی اتنی ضرورت رہ گئی ہے کہ ہمارے تعاون کے ساتھ مسئلہ افغانستان کا اس کی توقعات کے مطابق حل نکل آئے… اس کے بعد اس ’یاری‘ کا باب بھی بند ہوتا نظر آ رہا ہے… ایسے میں کیا بہتر نہیں ہو گا ہم اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کر کے اپنے وجود کو بچا لیں… نظریاتی رہیں یا نہ رہیں یہ سب بے معنی باتیں ہیں… یہ درست ہے قائداعظمؒ نے اسرائیل کے مقابلے میں فلسطینی بھائیوں کا ساتھ دیا… لیکن یہ تو پون صدی پرانی بات ہے… اب حالات بدل چکے ہیں… ویسے بھی بانی پاکستان نے اپنے ملک میں آئینی اور جمہوری نظام کے حق میں آواز بلند کی… قائد نے پاکستان کے آئین کے ساتھ جو ابھی بنا نہیں تھا وفاداری کا حلف اٹھایا… ہم نے ان کے برعکس قومی اتفاق رائے پر مبنی ایک نہیں دو دساتیر مملکت کو بوٹوں تلے روند کر رکھ دیا… کیا ہم نے ان کی نصیحت پر عمل کیا ہے جو اسرائیل کے بارے میں ان کے ارشادات کو لے کر بیٹھ جائیں…

من چلا رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا… اس نے کہا تسلیم کرنے کی صورت میں مذہبی جماعتوں اور تحریکوں کے ردعمل سے خوفزدہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں… تھوڑا بہت شور ضرور مچے گا… دوچار جگہوں پر ہنگامے بھی ہوں گے… زیادہ نقصان پہنچائے بغیر سرد پڑ جائیں گے… آج کل مخالفت کرنے والوں میں مولانا فضل الرحمن پیش پیش ہیں… وہی سب سے زیادہ اس خطرے سے آگاہ کر رہے ہیں… لیکن ان کی مخالفت کہ اصل سبب پارلیمنٹ سے باہر رہ جانا ہے میں دوبارہ داخلے کے لئے وہ ازحد کوشش کر رہے ہیں… ان دنوں ان کی تمام تر سیاسی تحریک اور اتحادوں میں شمولیت کا باعث یہ امر ہے… 2002ء کے مشرف والے انتخابات کے بعد انہیں قومی اسمبلی کے اندر غیرمعمولی تعداد میں نشستیں ملیں… صوبہ خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت قائم کر لی… اس کے بعد مشرف کی امریکہ نوازافغان پالیسی کے خلاف تمام دعوے ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ گئے… جماعت اسلامی کا اصولی مؤقف ہمیشہ درست رہا ہے لیکن پچھلے کئی برسوں سے اس کی تحریکی اور عوامی قوت زیادہ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہی… افغانستان اور کشمیر جہاد نے اسے اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے ساتھ کچھ اس طرح باندھ دیا ہے کہ اپنی آزادمرضی سے کسی سیاسی اتحاد میں شمولیت نہیں کر سکتی… اسرائیل کے مسئلے پر کیا تحریک چلائے گی… جہاں تک تحریک لبیک جیسی تنظیموں کا تعلق ہے فیض آباد کے واقعے نے ثابت کر دیا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے خلاف پتّا نہیں ہلا سکتی… توہین رسالت کے مسئلے پر جب سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے موجودہ حکومت آسیہ بی بی کو رہا کر کے بیرون پاکستان روانہ کر دیا تو ان کی جانب سے اعلان کیا گیا اینٹ کے ساتھ اینٹ بجا دیں گے… باہر بھی نکلے… گرفتاریاں ہوئیں… جیلوں میں بند کر دیئے گئے… آخرکار ان میں سے کچھ معافیاں مانگ کر رہا ہوئے… کچھ نے اس موضوع کو دوبارہ چھیڑنے سے احتراز کیا… قائد مولانا خادم حسین رضوی بڑے آرام سے مواعظ حسنہ بیان کرتے ہیں اور مریدوں سے خوش بیانی کی داد طلب کرتے ہیں… دم خم باقی نہیں رہا الّا یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کسی اور مسئلے پر کام لینے کا ارادہ کر لے…

ہاں البتہ یہ بات ہے من چلے نے اپنی بات کو اختتام تک پہنچاتے ہوئے آخری نکتہ بیان کیا… اس معاملے میں کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ اسرائیل ہمارے ساتھ دوستی کے عوض بھارت کے جارحانہ عزائم اور اس کی غاصبانہ کشمیر پالیسی کا ساتھ نہیں دے گا… یہاں پر دونوں کے مفادات ایک ہو جاتے ہیں… یہودی ریاست فلسطینیوںکے بچے بچے کو کچل کر دم لے گی اور بھارت اہل کشمیر کو ان کی وادی میں چھوٹی سی اقلیت میں تبدیل کر دینے پر تلا ہوا ہے… اس کام کیلئے دونوں ملک پاکستان کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں گے… پاک بھارت جنگ ہوئی تو اسرائیل کی ہمدردیاں لامحالہ بھارت کے ساتھ ہوں گی ہم اپنے زخم چاٹنے کو رہ جائیں گے… دونوں ہمیں دبوچ کر رکھ دینے کے در پے آزار ہیں… اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے اس نے کہا یہ غلط فہمی بھی معلوم نہیں کیوں اور کس جہالت کی بنا پر پھیلائی جاتی ہے کہ اسرائیل بھی پاکستان کی طرح نظریاتی ریاست ہے… ہرگز نہیں… پاکستان کے نظریاتی ہونے پر اس کے دشمنوں کو بھی شبہ نہیں… لیکن اسرائیل یہودیوں کی نسل پرست ریاست ہے… ان کے یہاں نسل ماں کے حوالے سے چلتی ہے… یہ ملک صہیونی تحریک کی پیداوار ہے… دوسرے یہ کہ پاکستان خالصتاً جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا… 1945-46 کے انتخابات میں برصغیر کے مسلم عوام نے کھل کر اس کے حق میں ووٹ دیا… اس کے برعکس اسرائیل کے قیام کی خاطر 1917 کا خفیہ معاہدہ بالفرڈ بنیاد بنا… یہودی تب ارض فلسطین پر اقلیت میں تھے… ان سے ووٹ یا مینڈیٹ لینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا… جنگ عظیم دوم کے بعد ان کی بھاری اکثریت یورپ سے لا کر یہاں پر آباد کی گئی اور اصل آبادی یعنی اہل فسطین کو کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا گیا… یوں من چلے کے مطابق ایک نظریاتی (پاکستان) اور دوسری نسلی ریاست کے درمیان جو بھی ملاپ ہو گا غیرفطری ہو گا… بظاہر خوشگوار تعلقات قائم ہو بھی گئے تو اندر کی دشمنی برقرار رہے گی… وہ ہماری نظریاتی اساس کو بھی سمجھتا ہے اور ہمارے منافقانہ رویوں سے بھی بخوبی واقف ہے… لہٰذا اسے اس کی طاقت کے دبائو میں آ کر تسلیم ضرور کیجئے لیکن اس حقیقت سے ہرگز بے خبر نہ رہئے گا کہ پاکستان اور مسلمان دشمنی یہودی ریاست کی گھٹی میں پڑی ہے… اس کے بغیر وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل نہیں کر سکتا… ویسے بھی طاقت کے آگے جھک جانا جتنا آسان ہے اس کے ساتھ نباہ کرنا اتنا ہی مشکل…


ای پیپر