پولیس اور سیاست اکٹھے کیوں؟
10 ستمبر 2020 (17:52) 2020-09-10

 چند دن پہلے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی مشترکہ پریس کانفرنس کا اقتدار کے ایوانوں میں برا منایا گیا تھا۔اس کے بعد جو خبریں سامنے آئیں ان کا تعلق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے تھا۔ یقینا اس حکمران جماعت نے ہی نوٹس نہیں لیا بلکہ اس خبر نے کافی ہلچل مچائی ہے۔ چند یوم قبل نیب آفس کے باہر ہونے والے ہنگامے پر مریم نواز ، اور کیپٹن صفدر سمیت مسلم لیگی کارکنوں اور لیڈروں کے خلاف مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایسی کم نظیر ملتی ہے جب جمہوری حکومتوں نے جلسے جلوسوں اور مظاہرین کی طرف سے پتھرائو ہونے پردہشت گردی کے مقدمات درج کیے ہوں۔ تبدیلی سرکار کے دو سال بیت جانے کے بعد بھی ان کے بہی کھاتے میں مثبت اشاریے کم ہیں۔ نواز شریف کے بارے میں نااہل ہونے کے باوجود عوامی رائے عامہ میں مقبولیت کا بڑھنا بھی حکومت کے لیے پریشان کن ہے۔ جو سہولت پاکستان کی موجودہ حکومت کو مقتدر قوتوں کے ذریعے مل رہی تھی وہ حکمرانوں کے دعوے کے باوجود اب انہیں ویسی میسر نہیں ہے۔ وفاقی وز یر فواد چودھری نے اپنی حکومت کے لیے جن چھ ماہ کی مہلت کا ذکر ایک انٹرویو میں کیا تھا اس کا لمحہ آن پہنچا ہے۔ حکمرانوں کا اضطراب درست ہے۔اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس کی جو تاریخ دی ہے اس میں بھی حکمرانوں کے لیے پریشانی کا جواز ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ ان میں دو جماعتوں سے حکمرانوں کو خطرہ محسوس کرنا چا ہیے۔ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علما اسلام اور مسلم لیگ ن۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی ہو میو پیتھک اپوزیشن سے حکمران پریشان نہیں ہیں مگر ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے وہ ابھی تک متبادل کے نمبروں سے آئوٹ نہیں ہوئے ۔ اپنے بارے میں کپتان تو کہہ چکے ہیں ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ حکومت کو ایک امڈتے ہوئے طوفان کا سامنا پیش ہونے والا ہے۔ نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عدالتوں میں معاملات کافی وقت لیں گے۔ اپوزیشن ایک طوفان برپا کرنا چاہتی ہے جس کا اندازہ حالیہ تبدیلیوں سے بھی لگا یا جا سکتا ہے۔ یہ طوفان کتنی سیاسی تباہی مچاتا ہے اور حکومت کو کتنا مجبور کر سکتا ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا جب اپوزیشن جماعتیں احتجاجی تحریک سے پہلے حکومت کی کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عوام کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے بعد مر یم نواز پارٹی کو لیڈ کرتے ہوئے اس میں اپنا بھر پور حصہ ڈالیں گی۔ مریم نواز اب متحرک ہیں اور وہ پیمرا کی پابندیوں سے بھی ماضی کی نسبت گرفت میں نہیں ہوں گی۔اس تحریک سے پہلے مریم کو گرفتار کرنا ضروری ہے۔ 

مسلم لیگ ن مبینہ طور پر حکومت کے نشانے پر ہے۔ دو تین بڑے ایونٹ رونما ہوئے ہیں مریم نواز کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ حکومت ان کو ہر صورت میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے کے بعد نیب دفتر کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی میں گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ جب کہ پولیس کی حالیہ تبدیلی پر مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے رد عمل دیا ہے کہ پنجاب کے 5 آئی جیز کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آئی جی پنجاب کو عمران خان کے انتقامی ایجنڈے کا حصہ نہ بننے پر ہٹایا گیا۔

پولیس اور سیاست اور آئی جی کے عہدے کا بڑا گہرا تعلق ہے۔حکومت نے جو پانچ آئی جی پولیس تبدیل کیے ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ ماضی کا تسلسل ہے۔ جن دنوں خان عبدالقیوم خان صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ تھے۔ ان کی سیاست کو چمکانے میں اس وقت کے آئی جی پولیس سردار عبدالرشید نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے عہد میں پولیس خان قیوم کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔جب خان قیوم کو صوبے سے نکال کر مرکز میں لے جایا گیا تو سوال یہ پیدا ہوا کی خان عبدالقیوم کی جگہ کون وزیراعلیٰ ہوگا۔مرکز کو خان قیوم کی بات ماننا پڑی اور حاضر سروس آئی جی پولیس سردار صاحب کو صوبہ سرحد کا وزیراعلیٰ بنوا دیا گیا۔ ایوب خان کا سارا صدارتی الیکشن پولیس نے جیتا تھا۔ مغربی پاکستان تھانوں کے ایس ایچ اوز کے ذمے یہ ڈیوٹی تھی کہ وہ الیکشن سے چند دن پہلے بی ڈی ممبرز کی خوب آو بھگت کریں۔ ان کی ڈیماند کو پورا کریں اس طرح ایس ایچ اوز ووٹروں کو ہانک کر پولیس اسٹیشن تک لے کر گئے۔ گورنر کالا باغ کی جانب سے ہر ضلع کے ایس پیز اور ڈی سی کا انتخاب کیا گیا اور ان کی ایوب خان کے لیے وفا داری پرکھی گئے۔آج کی بات نہیں پولیس افسروں کے تبادے سیاست کی وجہ سے ہوتے رہے ہیں 

1974میں قومی اسمبلی کے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان کے بھائی صاحبزادہ رئوف علی خان جو پنجاب پولیس کے چیف تھے بھٹو نے غلام مصطفی کھر کے مطالبے پر ان کو تبدیل کر دیا۔ جب کھر پنجاب کے گورنر تھے اس زمانے میں پولیس نے پنجاب ہی نہیں بلکہ صوبہ سرحد میں بھی ہڑتال کر دی امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا کھر صاحب اپنی گورنری کو نواب امیر محمد کی طرز پر چلانا چاہتے تھے۔ پیپلز پارٹی نے اس کا یہ حل نکالا کہ پنجاب بھر کے تھانوں کا انچارچ پیپلز پارٹی کے عہدے داروں کو بنانا تھا جیسے آج کل ٹائیگر فورس کو متحرک کیا جا رہا ہے ۔ بھٹو نے اس زمانے کے کمانڈر انچیف جنرل گل حسن اور فضائیہ کے سربراہ کو پولیس ہڑتال سے نمٹنے کے لیے مدد مانگی جب انہوں نے انکار کیا کہ فوج پہلے ہی تنظیم نو کے مسلئے سے دو چار ہے۔ ان دونوں کو بھٹو نے پولیس بحران میں مدد نہ دینے پر فوج سے برخاست کر دیا یہ واقعہ جنرل گل حسن نے اپنی کتاب میں بھی رقم کیا ہے۔اگست 1974 میں رائو رشید جن کی شہرت اچھے پولیس افسر کی تھی۔ وزیر اعلیٰ صادق حسین قریشی نے اپنے مخالف کو بھٹو کی طرز پر قتل کرادیا تھا جس میں وہ وزیراعلیٰ کے خلاف کاروائی کرنا چاہتے تھے مگر اس سے پہلے ہی رائو رشید کو تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد صادق حسین قریشی اپنے دوست ملک عطا حسین کو رائو رشید کی جگہ آئی جی بنوانے میں کامیاب ہو گئے۔

بھٹو دور کے آخری دنوں میں سیکرٹری داخلہ چودھری فضل حق کوپاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں خواتین سے نمٹنے کے لیے مبینہ’’ نتھ فورس‘‘ بنائی۔ نواز شریف جن دنوں پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اور مرکز میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھی۔ مرکز اور پنجاب میں محاذ آرائی زوروں پر تھی۔ اس زمانے میں چودھری نثار احمد چیمہ آئی جی پولیس تھے ان کو بے نظیر بھٹو نے مرکز میں بلا لیا۔ان کی جگہ نواز شریف نے منظور احمد کو آئی جی بنا دیا۔اس طرح یہ کہانی تو بہت طویل ہے۔ تازہ تنازعہ عمران خان کے لیے عاصم باجوہ کے بعد نئے سکینڈل کے بعد پیش آیا۔۔ پاکستان کے انتخابی عمل میں ایسا ہوتا ہے جسے وزیراعظم عمران خان نے لگائے تھے۔وہ بھی نعرے پورے نہ کرسکے تو شور مچا اور خوب مچ رہا ہے۔ کپتان نے انتخابی منشور پر "یوٹرن "یہ کہہ کر لے لیا کہ جو بدلتے حالات میں یو ٹرن نہیں لیتا وہ لیڈر ہی نہیں ہوتا  "جو کچھ ہوا ہے وہ پولیس فورس کے انتہائی حد تک سیاست زدہ ہونے کا واقعہ ہے۔ جن کی عوام میں مقبولیت ہو وہ الیکشن سے نہیں گھبراتے اور نہ اس میں کسی ادارے کو ملوث کرتے ہیں۔ احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ اگر حکمرانوں نے طرز حکمرانی نہ بدلا تو عوام انہیں اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکال پھینکیں گے۔


ای پیپر