سیاسی مداری نہیں حکمران بنیں
10 ستمبر 2020 (17:51) 2020-09-10

یہ کوئی سیاسی بیان ہے نہ کوئی بہتان۔۔کوئی گپ ہے نہ کوئی مذاق۔۔سچ بلکہ کڑواسچ۔۔کہ پرانے پاکستان میں 55روپے کلوملنے والی چینی کی فی کلوقیمت سوسے110 اورچھ سے سات سوروپے پرملنے والے بیس کلوآٹے کے تھیلے کی قیمت 1400روپے تک پہنچ گئی ہے۔جب سے اس ملک میں تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے غریبوں کے ساتھ امیروں کاجینابھی حرام ہوکررہ گیاہے۔پی ٹی آئی کی دوسالہ حکومت میں پٹرول،گیس اوربجلی سے لیکراشیائے خورونوش تک روزمرہ استعمال کی کسی ایک شئے کی قیمت بھی کبھی کم نہیں ہوئی۔سچ اورحقیقت تویہ ہے کہ جب سے وزیراعظم عمران خان کی قیادت، کمان اور سربراہی میں انصاف بردارٹیم نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے تب سے ملک کے اندر مہنگائی کاپارہ یاغبارہ مسلسل اوپرکی طرف جارہاہے۔ غریب عوام کو کوئی ریلیف ،چین اورسکھ دینے کی بجائے حکومتی وزیر اور مشیر دوسال سے ایک ہی تسبیح پڑھتے جارہے ہیں کہ سابق حکمرانوں نے ملک کو لوٹا۔ نوازشریف اورآصف علی زرداری سمیت سابق تمام حکمران چورتھے۔انہوں نے اتنے قرضے لئے۔یہ کیاوہ کیا۔؟اوبھائی۔یہ توپوری قوم کوپتہ ہے کہ سابق حکمرانوں نے اس ملک کولوٹا۔اسی لئے توعوام نے آپ کوووٹ دیئے۔ آپ کوحکمران بنایا۔ دوسال سے تونہ کوئی سابق حکمران ملک پرمسلط ہے اورنہ ہی نوازشریف اورزرداری جیسے کوئی چوروڈاکو اقتدار پر قابض۔ پھردوسال سے اس ملک اورقوم کوکون لوٹ رہاہے۔۔؟ ہم مانتے ہیں کہ نواز شریف اورآصف علی زرداری سمیت سابق تمام حکمرانوں نے ملک وقوم کولوٹنے کے ساتھ ہرجرم وگناہ کیا۔لیکن تم یہ بتائو۔ان دوسالوں میں تم نے کیا کیا۔۔؟چینی کی قیمت تمہاری حکومت ۔۔تمہاری رہبری ،تمہاری چوکیداری اورتمہاری نگہبانی میں 55سے سو110روپے تک پہنچی۔وجہ پوچھیں ۔توجواب ملتاہے کہ نوازشریف چور تھا۔ آٹے کی قیمت سات سوسے 1400روپے تک گئی۔ اس کاکوئی گلہ وشکوہ کریں توگلہ پھاڑ پھاڑ کر کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری نے ملک کو لوٹا۔ انصاف کی نظرسے دیکھیں توانصاف کے ان علمبرداروں کے پاس یہی رٹے رٹائے چندالفاظ کے سوا نہ حکومت چلانے کی کوئی صلاحیت ہے اورنہ ہی ملک سنبھالنے کی کوئی طاقت۔ان سے اگریہ پوچھا جائے کہ تم نے ان دوسالوں میں ملک وقوم کے لئے کیا کیا۔۔؟ تویہ تب بھی آگے سے یہ جواب دیتے ہیں کہ نوازشریف اور زرداری چور ہیں۔ او خداکے بندوں۔ نوازشریف اور زرداری چورہیں یا تم۔ ملک پہلے نواز اور زرداری نے لوٹا یا تمہارے ان ساتھیوں نے ۔۔؟پہلے کس نے کیا کیا۔۔؟ یا کیا ہوا۔۔؟یہ سب اب پرانے قصے اور کہانیاں ہیں ۔ان قصوں اورکہانیوں سے عوام کاکوئی لینادینانہیں۔عوام کواب اس سے کوئی سروکارنہیں کہ نوازشریف اورزرداری چورہیں یاتم ایماندار۔عوام کامسئلہ اس وقت ایک وقت فقط ایک وقت کی روٹی ہی ہے کیونکہ پیٹ میں اگر کیڑے چیخیں مارتے ہوں تواس وقت پھر عقلمند اور باشعور کیا۔۔؟کوئی ان پڑھ اورجاہل بھی کون چوراورکون ایماندارکے چکروں میں نہیں پڑتے۔ عوام کوپیٹ بھرنے کے لئے اگرروٹی،سرچھپانے کے لئے جھونپڑی اوربدن ڈھانپنے کے لئے کپڑانہ ملے تواس صورت میں ملک کاصدراوروزیراعظم اگر نوازشریف اورآصف علی زرداری کی طرح چوروڈاکونہیں صدرمملکت عارف علوی اوروزیراعظم عمران خان کی طرح ایک نمبرکے ایماندار ہی کیوں نہ ہوں ۔عوام کواس کا کیا فائدہ۔۔؟ عوام نے ایسی ایمانداری یا ایسے ایمانداروں سے کیاکرناہے جن کی وجہ سے انہیں ایک وقت کی روٹی بھی آسانی کے ساتھ نہ مل سکیں۔وزیراعظم عمران خان اوران کے کھلاڑی ایماندارحدسے بھی زیادہ ایماندارہوں گے ہمیں اس کاکوئی انکارنہیں لیکن آج اگرعوام ان ایمانداروں کی حکومت میں ان چوروڈاکوئوں کی حکمرانی سے بھی زیادہ لٹنے پرلٹتے جارہے ہیں توپھرانصاف کے یہ نام نہادعلمبردارخودہی فیصلہ کریں کہ ان کی اس ایمانداری اورحکمرانی سے عوام کوکیافائدہ۔۔؟ اس قدربے حسی،ہٹ دھرمی اورظلم توچوروں کی حکمرانی میں بھی کسی نے نہیں دیکھا تھاجوآج اس ملک میں جاری وساری ہے۔ سونے کے چمچ منہ میں لیکرپیداہونے والوں کو شائدکہ نوازشریف کو چور اور عمران خان کوایماندارکہنے سے کچھ سکون ملتاہومگرغریبوں کوان رٹے رٹائے جملوں اورالفاظ سے آج تک کچھ ملا اور نہ تاقیامت کچھ ملنے کی کوئی امیدہے۔اسی لیئے عوام کواب چوہے بلے کے اس کھیل جس میں کبھی نوازشریف کوچوراورعمران خان کو ایماندار کہا جاتا ہے اور کبھی نوازشریف کو ایماندار اور کپتان کو چور کا نام دیا جاتا ہے سے کوئی مطلب اور غرض نہیں۔ عوام کامطلب اور مقصد دو وقت کی روٹی سے ہے کہ یہ ان کو آرام ،سکون اورعزت سے ملے۔یہ چور اور ایمانداری والاچورن ان کی اپنی ملکیت ہے۔یہ ان کی مرضی کہ اس چورن کودن کی روشنی میں بیجیں یارات کی تاریکی میں کسی کے سرتھونپے۔بے شک مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی والے پی ٹی آئی اور تحریک انصاف والے ن لیگ وپی پی پی کودن میں سو نہیں ہزار بار چور چور و ڈاکو ڈاکو کہتے رہیں اس سے ہمیں کوئی تکلیف نہیں لیکن خدارااپنی چوریوں اورحرام کاریوں کی سزایہ غریب عوام کونہ دیں۔ کیا مسلم لیگ ن۔۔ کیا پیپلزپارٹی۔۔ کیا تحریک انصاف اور کیا ن،ج، اور ق۔ نوازشریف سے لیکر زرداری اورشوکت عزیزسے لیکر عمران خان تک یہ سب یاتو چورہیں یاپھرچوروں کے درمیان رہنے والے ایماندار۔اس لئے ملک میں حکومت ن لیگ کی ہو۔۔پیپلزپارٹی کی یاپھرتحریک انصاف کی۔غریب عوام نے آج تک اس ملک میں کبھی سکھ کاکوئی سانس نہیں لیا۔ دوسال سے ملک میں نوازشریف اورزرداری جیسے چوروںکی نہیں بلکہ کپتان جیسے ایمانداروں کی حکمرانی ہے مگرپھربھی آٹا،چینی،گیس ،بجلی،دال ،چاول اورگھی سمیت دیگرضروریات زندگی کی اشیاء اوران کی قیمتیں آسمان سے نیچے آنے کانام نہیں لے رہیں۔ کپتان کی اس دوسالہ حکمرانی نے اس قوم کواورکچھ دیایانہیں لیکن یہ سبق ضروردیاہے کہ اقتدارکی کرسی پرقابض نوازشریف اورآصف علی زرداری جیسے چورہوں یاپھرعمران خان جیسے ایماندار۔۔عوام کے لئے یہ دونوں کل بھی برابرتھے اورآج بھی عوام کیلئے ان میں ذرہ برابربھی کوئی فرق نہیں۔عوام کے پاس پیٹ بھرنے کے لئے کھانا،سرچھپانے کے لئے جھونپڑی اوربدن ڈھانپنے کے لئے اگرکپڑانہ ہوتوپھراس سے کیافرق پڑتاہے کہ ملک کاحکمران ایماندارہے یا پھر چور۔۔؟ نام کے ایسے ایمانداروں سے تویہ ملک بھراپڑاہے۔اس لئے وزیراعظم عمران خان ایمانداربنیں یانہ ۔۔اس سے ہمیں غرض نہیںلیکن ایساحکمران ضروربنیں جس کی حکمرانی میں ملک کاکوئی ایک غریب بھی بھوک سے نہ سوئیں۔


ای پیپر