پاپاجونز:اصل ٹارگٹ سی پیک یا کچھ اور
10 ستمبر 2020 (17:50) 2020-09-10

کہتے ہیں کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جا ئز ہو تا ہے۔ اس کہاوت کی تاریخی جنگ اور محبت کی تا ریخ سے پرانی ہے۔ پراپیگنڈا وار کے اس دور میں ظاہری ٹارگٹ اور ہوتا ہے لیکن نتائج کہیں اور حاصل ہوتے ہیں ۔

گزشتہ ہفتے چیئر مین سی پیک اتھارٹی جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں احمد نورانی کی ایک نا معلوم مقام سے کی گئی پوسٹ نے طوفان کھڑا کر دیا۔ اس رپورٹ کے مندرجات نے ہر محب وطن پاکستانی کو ذہنی کرب کی کیفیت میں مبتلا رکھا۔ لیکن 72گھنٹے کے اندر جنرل عاصم باجوہ نے اپنی 4صفحات کی سٹیٹ منٹ کے ذریعے جو میڈیا کو وضاحت کی ہے، اس کے بعد احمد نورانی کی کہانی جنوں اور پریوں کا قصہ لگتی ہے۔

اس پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ ایک بیک گرائونڈ سٹوری بیان کر دی جائے۔ انڈیا کا ایک ریپبلک ٹی وی چینل ہے جسے خفیہ طور پر حکومت فنانس کرتی ہے۔ اس چینل پر سی پیک کے حوالے سے مسلسل ایک مہم چلائی جارہی ہے کہ یہ ایک ناکام پراجیکٹ ہے۔انڈین ریٹائرڈ میجر Guaravاس کے ٹاک شو کا اینکر پرسن ہے۔ احمد نورانی کی رپورٹ سے کچھ روز پہلے میجر Guarav نے ایک پروگرام میں وہ ساری باتیں کیں جو بعد میں احمد نورانی کی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ احمد نورانی کا سورس میجر Guarav ہو یا میجر کا سورس احمد نورانی ہو ان دونوں میں ایک مضبوط رشتہ یا بندھن صاف نظر آتا ہے اور اس سارے کھیل میں اصل نشانہ جنرل عاصم باجوہ نہیں بلکہ سی پیک ہے۔

امریکہ میں کام کرنے والے پاکستانی وہاں بڑی محنت کرتے ہیں۔ وہاں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ آج سے 20سال پہلے وہاں ایک پاکستانی ٹیکسی چلاتا تھا آج اس کی اپنی لیموزین کمپنی ہے جس میں کروڑوں ڈالر مالیت کی درجنوں لیموزین گاڑیاں ہیں اور یہ ایک نہیں کئی مثالیں ہیں۔امریکہ میں مقیم 

پاکستانی ڈاکٹروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ اپنے جہاز خرید سکتے ہیں۔ اس وقت جنرل عاصم باجوہ کے 5بھائی امریکہ میں ہیں جن میں 2ڈاکٹر ہیں اور یہ سب 9/11سے پہلے کے وہاں سکونت پذیر ہیں ۔

احمد نورانی نے بغیر دستاویزی ثبوت پیش کئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ میں باجوہ فیملی کے کاروبار کی ترقی کی شرح فوج میںجنرل عاصم باجوہ کی ترقیوں سے برہ راست منسلک ہے۔ جنرل باجوہ نے اپنے بیان میں بڑے محتا ط اور تحمل سے کاشف عباسی، ارشد شریف اور شاہ زیب خانزادہ جیسے معتبر اینکرزکو الگ الگ پروگراموں میں اپنا جواب ریکارڈ کروایاہے۔

سب سے غور طلب بات یہ ہے کہ بقول نورانی اس فیملی کی 99کمپنیاں، 130فرنچائز اور 13کمرشل جائیدادیں ہیں۔ جنرل عاصم باجوہ کا جواب ہے کہ ان کے بھائیوں کے اس کاروبار میں جس میںوہ بہت سے دیگر شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے ہیں، ان کی صرف 27 ڈلیوری شاپس ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی فوڈ چین پاپا جونز کی امریکہ میں 5400 فرنچائز ہیں اور پاکستان میں یہ تاثر دیا گیا کہ یہ سب جنرل عاصم باجوہ کی ملکیت ہیں۔ جو 27 ڈلیوری شاپس بتائی گئی ہیں، ان میں کسی پر بھی ریسٹورنٹ کا درجہ نہیں ہے بلکہ یہ Takeawayسروس مہیا کرتی ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو اس کو کسی طرح چین آف کمپنیز یا کاروباری سلطنت (Business Empire)کہنا ایک مبالغہ ہے۔ 

یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ باجوہ فیملی نے یہ کام 2002ء میں شروع کیا جبکہ پاپا جونز کی بنیاد 1980ء میں رکھی گئی۔ 2002ء وہ تاریخی عرصہ ہے جب امریکہ میں 9/11کے بعد دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی مانیٹرنگ اتنی سخت تھی کہ کسی مسلمان خصوصاً پاکستانی کیلئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ منی لانڈرنگ کرلے اور پکڑا نہ جائے۔ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے یہ اہم وضاحت بھی کی ہے کہ 70 ملین ڈالر کے اس کاروبار میں 60 ملین ڈالر امریکی بنکوں کا قرضہ ہے۔ بقیہ 10ملین میں 50سے زیادہ حصہ دار ہیں ۔

اس پس منظر کے بعد جب جنرل عاصم باجوہ نے معاون خصوصی وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو عمران خان نے ان کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وزیراعظم کو اس سٹوری کے پس پردہ محرکات سے آگاہ کیا جاچکا تھا، ورنہ عمران خان وہ بندہ ہے جس نے اپنے قریب ترین ساتھیوں جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے پارٹی سپانسرز کا دفاع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اگر یہ سٹوری نیویارک ٹائمز واشنگٹن پوسٹ یا عالمی سطح کے کسی معتبر جریدے میں چھپی ہوتی تو شاید اس میں حقیقت کا کوئی عشر عشیر پایا جاتا مگر یہ تو قطعی طور پر ایک فلاپ کہانی ہے جسے ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو پہلے ہی سٹیک ہولڈرز کے خلاف اپنی ایک منفی رائے رکھنے میں مشہور ہے یعنی لکھنے والے کا ذاتی Grudge ثابت شدہ ہے۔ اگر احمد نورانی کی کہانی میں سچ کا عنصر شامل ہوتا تو وہ گلوبل میڈیا میں اپنی یہ سٹوری بیچ کر راتوں رات کروڑ پتی بن جاتا مگر کسی مغربی میڈیا گروپ نے اس کی بات پر کان نہیں دھرا جس کے بعد اس کے پاس 2راستے تھے ایک انڈیا کا Republicچینل اور دوسرا ایک نا معلوم بلاگ۔ اس نے یہ دونوں راستے استعمال کئے مگر ایک عارضی تنازعہ پیدا کرنے سے زیادہ اسے کوئی خاصی کامیابی نہیں مل سکی۔اس سٹوری میں اگر حقیقت ہوتی تو امریکہ میں حکومتی سطح پر اب تک تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہوتا کیونکہ اس تصوراتی جرم کے ارتکاب کا موقع واردات تو امریکی سر زمین ہے۔ جب وہاں کوئی جے آئی ٹی نہیں بن رہی تو اس کا مطلب ہے کہ احمدنورانی صاحب کی ذہنی اختراع اتنی بار آور نہیں ہے۔


ای پیپر