انتظامی ڈھانچے کی تدفین!
10 ستمبر 2020 2020-09-10

کل میرے اخبار (نئی بات) کے ایڈیٹر جناب عطاالرحمان کا بطور خاص مجھے فون آیا کہ پولیس کے حالیہ معاملات خصوصاً ڈی آئی جی محمد عمر شیخ کی بطور سی سی پی او لاہور تقرری اور اس کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ کے نتیجے میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر شعیب دستگیر کے تبادلے پر تفصیل سے لکھیں، چاہے اِس پر ایک سے زائد کالمز کیوں نہ لکھنے پڑیں، کیونکہ آپ ”پولیس اسپیشلسٹ “ ہیں۔ اُس سے پہلے دلبرودلیر صحافی جناب ہمایوں سلیم نے ”لاہور رنگ“ میں اِس موضوع پر میرے انٹرویوز کا اہتمام کیا، ....جناب عطاالرحمان نے مجھے ”پولیس اسپیشلسٹ“ کہا، مجھے ہنسی آگئی، اُنہوںنے شاید اِس لیے ایسا کہا پولیس خصوصاً کچھ پولیس افسران کی خوبیوں خامیوں پر میں اکثر لکھتا رہتا ہوں، میرے یہ کالم پولیس میں مقبول بھی بہت ہوتے ہیں، ”پولیس اسپیشلسٹ“ ہونے کا پس منظر یہ ہے میں جب گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا میرے چار انتہائی قریبی دوستوں نے سی ایس ایس کرنے کے بعد پولیس گروپ جائن کرلیا تھا، ایک اُن میں اشعر حمید اب اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں، میرا خیال تھا پولیس افسر بننے کے بعد ان دوستوں کا رابطہ مجھ سے شاید ختم یا کم ہو جائے، ہمارے معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے، کوئی دوست کسی اہم عہدے پر پہنچ جائے، یا کسی بھی حوالے سے حیثیت میں آپ سے بڑھ جائے ”خاناں دے خان پروہنے“ کے قول یا محاورے کے تحت آپ کے ساتھ وہ اپنا تعلق ختم یا کم کرلیتا ہے، ایک لمحہ ایسا بھی میری زندگی میں آیا اِس تعلق کو برقرار رکھنے کے لیے میں نے بھی سی ایس ایس کرنے کا سوچا، پر ذہن پر ”اُستاد“ بننے کا بھوت سوار تھا اِک روز امی جان کے میں پاﺅں دبارہا تھا، میں نے اُن سے کہا ” میرے بہت سے دوستوں نے سی ایس ایس کرلیا ہے، میں اُن سب کے لیے دعا گوہوں، اللہ نے ان پر اپنی خاص رحمت کی، اُن کی محنت کا ثمر اُنہیں مل گیا، کاش میں بھی سی ایس ایس کرسکتا ہوتا“،....ماں جی نے میرے سرپر ہاتھ رکھا، فرمایا” تم دیکھنا تمہاری عزت ان افسروں کی طرح ہی ہوگی، بلکہ ان سے بڑھ کر ہوگی ، یہ افسر اپنے کاموں کے لیے تمہارے پاس آیا کریں گے“ ....اب اللہ کی بے پناہ رحمتوں اور اس کی بخشی ہوئی توفیق کے مطابق اپنے کچھ اہل اور دیانتدار دوست افسروں کے میں کام آتا ہوں، مجھے امی جان کی یہ دعا یاد آجاتی ہے، جو اُنہوں نے میرے سرپرہاتھ رکھ کر مجھے دی تھی، ....ہاں” پولیس اسپیشلسٹ“ میں اِس لیے ہواسی ایس ایس کرنے کے بعد پولیس گروپ میں آنے والے دوستوں کی وساطت سے پولیس میں میرے بھی بے شمار دوست بن گئے۔ اب اِن دوستوں کے ذریعے اکثر پولیس افسروں کے حوالے سے بہت سی معلومات، انکشافات اور حقائق مجھ تک پہنچتے رہتے ہیں، جو وقتاً فوقتاً اپنے قارئین کی نذر میں کرتا رہتا ہوں،.... ایک بات طے ہے یہ جواِس ملک کا انتظامی ڈھانچہ اب مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے، اداروں کی بے توقیری کی انتہا ہوگئی ہے ، خصوصاً پاکستان کا محکمہ پولیس جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، پنجاب میں بس اِس کا جنازہ ہی اُٹھنے والارہ گیا ہے، اِس بربادی وتباہی کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود افسران ہیں، خصوصاً وہ افسران جو سیاسی فوجی وعدالتی حکمرانوں کی مختلف اقسام کی کرپشنوں وبدکاریوں میں اُن کے ”سہولت کار“ بنے، اور اِس کی آڑ میں خود بھی اتنی بدمعاشیاں کیں خود مضبوط ہوگئے، ادارے تباہ ہوگئے، محکمہ پولیس اس دوڑ میں سب سے آگے نکل گیا، چنانچہ سب سے زیادہ بے توقیری آج اسی محکمے کی ہے، اس حدتک کہ ہمارے حکمران آئی جی کا تبادلہ ایسے کردیتے ہیں، جیسے کانسٹیبل کا تبادلہ بھی نہیں کیا جاتا، میں نے ایک گزشتہ کالم میں لکھا تھا ”جب چند ماہ بعد کسی وجہ کے بغیر، یا کسی اُصولی مو¿قف کے اپنانے پر کسی آئی جی کو ہٹایا جاتا ہے، اُس کی جگہ کسی دوسرے پولیس افسر کو آئی جی لگایا جاتا ہے کیا اُس پولیس افسر نے اپنے محکمے کی عزت یا اپنے ادارے کی ساکھ بچانے کے لیے حکمرانوں سے یہ پوچھنے کی جسارت یا جرا¿ت کی ہے میرے کولیگ کو کسی جائز وجہ کے بغیر کیوں ہٹایا گیا ؟ اور اب مجھ سے کون سی ”توقعات“ وابستہ کرکے اُس کی جگہ مجھے لگایا جارہا ہے؟ ہرکوئی پھدک کرلگ جاتا ہے کیونکہ اپنے ادارے کی گریس سے زیادہ اُسے وہ طاقت ، وہ جائز ناجائز مراعات عزیز ہوتی ہیں جو بطور آئی جی اُسے ملنے والی ہوتی ہیں۔ ایک بار آئی جی کا ”ٹھپہ“ اُس پر لگ جائے، اُس کے بعد چاہے کچھ ہی عرصے بعد بے عزت کرکے اُسے بھی نکال دیا جائے، اُسے کوئی پروا نہیں ہوتی، اب جسے آئی جی پنجاب لگایا گیا ہے وہ جتنی چاہے ”کمزوریاں“ دکھالے ، جتنا چاہے حکمرانوں کا ”ذاتی غلام“ بن کر رہ لے، ہونا حسب روایت چند ماہ بعد یا چند دنوں بعد اُس کے ساتھ بھی وہی ہے جو دوبرسوں میں پہلے پانچ آئی جیز کے ساتھ ہوا۔ ”نئے سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ ایک دوٹی وی چینلز پر بڑے فخر سے بتارہے تھے اُنہیں سی سی پی او لاہور لگانے کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا جو دیگر افسروں کو لگانے کے لیے کیا جاتا ہے،....مختلف عہدوں کے لیے سیاسی حکمرانوں کو خوشی خوشی انٹرویو دیئے جانے والے، اُن کے دفاتر میں گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرنے والے افسروں سے ہم پوچھ سکتے ہیں کس ”قانون“ کے تحت اپنی یہ بے عزتی قبول کرنے پر وہ تیار ہو جاتے ہیں؟ کس قانون کس آئین میں لکھا ہے کسی شہر، ضلع یا رینج میں کسی کو آرپی او، کمشنر، ڈی پی او یا ڈپٹی کمشنر لگانے کا اختیار ان افسروں کے محکموں کے سربراہان کے بجائے سیاسی حکمرانوں کو حاصل ہے؟ یہ سلسلہ جس سیاسی حکمران نے شروع کیا انتظامی ڈھانچے کو ”دفنانے“ کا سب سے بڑا ذمہ دار وہ ہے، اور وہ افسران بھی اس انتظامی ڈھانچے کو دفنانے کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جنہوں نے سیاسی حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اُن کے اِس عمل کو دل وجان سے قبول کرلیا، اُس وقت کے کسی چیف سیکرٹری کسی آئی جی نے اس غیرقانونی روایت یا اقدام کی مخالفت کی ہوتی، حکمرانوں کی ضد پر اپنے عہدے چھوڑدیئے ہوتے آج ادارے اِس قدرتباہ نہ ہوتے جس قدر ہوچکے ہیں، میرے نوٹس میں ایک افسر یا پولیس افسر ایسا نہیں جسے کسی سیاسی حکمران نے کسی اہم عہدے پر تعینات کرنے کے لیے بلایا ہواوراُس نے یہ کہہ کر بڑے ادب سے معذرت کرلی ہو میں اپنے ادارے کے سربراہ کو ایک ہزار بار انٹرویودینے کا پابند ہوں، پر ماورائے آئین یا قانون کسی ایسے سیاسی حکمران کو انٹرویو دینے کا پابند نہیں جس کی قابلیت مجھ سے کم ہو،.... چلیں کسی حکومت کے سربراہ کسی وزیراعلیٰ یا گورنر کو اپنی اہم پوسٹنگ کے لیے انٹرویو دینے کے لیے جانے یا اُن کے دفتروں میں گھنٹوں بیٹھ کر اپنی باری کی بے عزتی برداشت کرنے کا کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈا، نکالا یا تراشا جاسکتا ہے، یہاں یہ بھی ہوتا رہا ہے کچھ وزرائے اعلیٰ اپنا یہ ”اختیار“ اپنے صاحبزادوں یادیگر عزیزوں کو منتقل کرتے رہے ہیں۔ شہباز شریف اور چودھری پرویز الٰہی جب وزرائے اعلیٰ تھے مختلف عہدوں پر تعیناتی کے لیے بے شمار افسران کے انٹرویوزاُن کے ”صاحبزدگان“ بھی لیا کرتے تھے، جس افسر کے بارے میں اُنہیں یقین ہو جاتا وہ اُن کی ذاتی وفاداری وخوشامد کے معیار پر پورا اُترنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اُسے تعینات کردیا جاتا ۔ وزیراعظم کے چونکہ ”صاحبزادے“ وغیرہ پاکستان میں نہیں تو اُنہوں نے پچھلے حکمرانوں کی روایت میں اپنا یہ ”اختیار“ اپنے کچھ ایسے غیرمنتخب مشیروں کو بھی سونپ دیا ہے جو اللہ جانے کہاں سے آئے ہیں؟ وہ کہیں سے بھی آئے ہوں ، مجھے یقین ہے خان صاحب کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔ (جاری ہے) 


ای پیپر