سی سی پی او صاحب یہ لاہور ہے !
10 ستمبر 2020 2020-09-10

 شیخ محمد عمر کی سی سی پی او لاہور پوسٹنگ ہوئی تو انکے چارج سنبھالنے سے پہلے ہی انکی بہادری اور ایمانداری کی کہانیاں سننے میں آئیں،واقفان حال کہتے ہیں بڑے دبنگ اور سخت گیر افسر ہیں ۔جرائم اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے جہاں ان کو سندھ کے جابر وڈیروں اورسیاستدانوں رسہ گیر سے مظلوم عوام کو بچانے اور انکا قلع قمع کرنے کے قصے مشہور ہوئے وہیں پنجاب کے منہ زور جاگیرداروں ،قبضہ گروپوں ،منشیات فروشوں اور ڈاکوﺅں ،چوروں کو نشان عبرت بنانے کے لاتعداد واقعات زبان زد عام ہوئے ۔

لاہور کی پچ بہت تیز ہے سی سی پی او صاحب !یہاں آپ کا امتحان ہے ،کہتے ہیں جو لاہور میں کامیاب ہو گیا وہ پاکستان میں کہیں مار نہیں کھا سکتا ،امید ہے کہ کہ آپ ہمیں ماضی کے ”ایماندار“افسروں کی طرح مایوس نہیں کریں گے ،جنکی کارگردگی کے چرچے تو بہت تھے لیکن ٹرانسفر کے بعد ان کے پلاٹوں ،پلازوں ،کوٹھیوں ،فارم ہاﺅسز کی تفصیلات کے علاوہ کچھ بھی سامنے نہ آیا ۔کہنے والے کہتے ہیں کہ آپ جرائم ، جرائم پیشہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے قلع قمع کے لیے سخت گیر مو¿قف رکھتے ہیں۔آپ کے بارے میں یہ بھی سنا ہے کہ آپ لاہور پوسٹنگ نہ ہونے کا سبب اسے قرار دیتے رہے ہیں کہ اس ضمن میں سخت مخالفت کی جاتی ہے کہ اگر شیخ عمر آگیا تو کسی کو چھوڑے گا نہیں۔ اہل لاہور آپ سے امید رکھتے ہیں کہ ان کا شنیدہ درست ثابت ہو۔

پولیس محکمہ کی ناکامی کی بنیادی وجہ اس کے قواعد و ضوابط ہیں جن پر بنانے کے بعد عملدرآمد کروانا بہت ضروری ہوتا ہے ،لیکن بدقسمتی ہمارے افسران ہی عملدرآمد کی راہ میں بہت رکاوٹ بن جاتے ہیں ،خود ہی ان قواعد وضوابط کو اپنے پاﺅں تلے روندتے ہیں ۔با اثر کے لئے کوئی اور قانون اور ضابطے ،لاچار اور غریب کے کے لئے کوئی اور۔۔۔

یہاں قانون و ضابطے بھی لوگوں کی حیثیت کے حساب سے ہیں ماضی میں چھوٹے افسران کو سزا دے کر بڑے افسران کی نا اہلی چھپائی جاتی تھی ۔جب تک بڑے افسران کو ان کی غلطیوں پر نشان عبرت نہ بنایا جائے معاملات درست نہیں ہو سکتے ۔ورنہ کمپنی کی مشہوری کے لئے SHOاورDSPتو پہلے ہی بلی کا بکرا بنتے دیکھے ہیں ۔مثلاً لاہور کی پولیس لائنز سے آغاز کرتے ہیں ،لائن میں کئی شعبے ہیں جہاں کروڑوں کی کرپشن کی جاتی ہے ۔

کیا وہ کرپشن ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر ،ریزرو انسپکٹر ،لائن افسر ،ایم ٹی او یا دوسری مدوں کے افسر یا ان کا عملہ کرتا ہے ؟

کیا یہ لوگ بڑے افسروں کی مرضی کے بغیر سالہاسال سے لائن میں لوٹ مار کر رہے ہیں ؟

کیا ان کی پوسٹنگ با ر بار لائن میں کرنے کی وجہ ان کی کرپشن کی مہارت کے علاوہ کچھ اور ہے؟

 ان کی گمنام جائیدادیں کہاں کہاں ہیں ؟

 ان کے سینئرز کے اربوں کے زیادہ تر اثاثے اسی شہر میں ملیں گے ،آپ پتا کروا لیں یہ کالی بھیڑیں بجائے محکمہ کی نیک نامی اضافہ کرنے کے اپنے اثاثوں میں اضافہ کرنے میں مصروف ہیں ۔فیصلہ کیا گیا کہ ایک سیٹ یا دفتر میں کوئی افسر یا ماتحت تین سال کے بعد ہر صورت تبدیل کیا جائیگا ۔

لاوارث افسر و ماتحت اس فیصلے کی زد میں آئے کیونکہ وہ صرف کارسرکار کرتے تھے اور کماﺅ اور لاڈلے پوت انہی سیٹوں یا دفاتروں میں براجمان ہیں ۔

سی آئی اے کی بات کی جائے تو ڈاکو ٹائپ افسر و ماتحت یہ کہہ کر بار بار وہیں لگائے جاتے ہیں کہ وہ محکمے کی مجبوری ہیں ۔غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے کئی ماتحت و افسر کروڑوں کے اثاثوں کے مالک سی آئی اے کی پوسٹنگ کے دوران بن گئے ،ان کے اثاثوں کا پتا کروا لیں اور ان کے والدین کے اثاثوں کا بھی ۔۔۔جن کو جیل میں ہونا چاہئے وہ دوسروں کی تفتیش کر رہے ہیں ،کسی ایماندار اور افسر سے انکوائری کروا لیں اکثر کریمینلز کے پارٹنر نکلیں گے۔ 

ماضی میں کرپشن پر کمپرومائز ہوتا رہا ہے ۔کرپشن پر کمپرومائز وہ کرتے ہیں جو خود کسی نہ کسی طرح کا حصہ ہوتے ہیں ۔

محترم سی سی پی او صاحب لوگ ہر چیز کو سمجھتے ہیں ۔بوڑھے چچا حوالدار نے بڑی راز داری سے بتایا کہ بڑے افسروں کی کرپشن کے بڑے طریقے ہیں ۔سرکاری بلڈنگوں ،پولیس لائنز ،تھانوں ، سرکاری رہائش گاہوں اور اپنے آرائش دفاتر کی محکمانہ مشینری وغیرہ کی خریدمن پسند ٹھیکیداروں کے ذریعے کر کے لوٹ مار بھی کر لیتے ہیں ،اپنی ایمانداری کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے رہتے ہیں ،حال ہی میں تبدیل ہونے والے ایک افسر نے مشہور زمانہ پراپرٹی ٹائیکون کے منہ بولے بیٹے کے ذریعے اڑھائی ایکڑ کا فارم ہاﺅس اس کے ٹاو¿ن میں حاصل کیا ۔جولاہور کی لمبا عرصہ خدمت کرنے کے صلہ میں دیا گیا ہے ۔برائی کی جڑ بڑے افسرہیں جن کو آج تک نتھ نہیں ڈالی گئی ،لوگوں نے آپ سے امیدیں لگا لی ہیں ۔بدنام زمانہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی انہی افسران کی خواہشات اور مالی ضروریات کے لئے ایک سے دوسرے تھانے میں بار بار تعینات کئے جاتے ہیں ۔جناب عالیٰ !صفائی کیجئے لیکن یاد رہے ،صفائی اوپر سے نیچے کی طرف ہو ،ورنہ پولیس محکمہ چند گندی مچھلیوں کی وجہ سے پولیس متبرک کام کو پولیس گردی کا نام دیا جاتا ہے ۔ 


ای پیپر