حکومت کا ریکوڈک کیس میں جرمانہ چیلنج کرنے کا فیصلہ
10 ستمبر 2019 (15:13) 2019-09-10

اسلام آباد:وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت نے ریکوڈک کیس میں جرمانہ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو کارکے کیس میں 1.2 ارب ڈالرز جبکہ ریکوڈک کیس میں 6.2 ارب ڈالرز جرمانہ ہوا۔ بجلی کے نظام کی ترسیل 100 فیصد کرنا ہماری ترجیح ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت ریکوڈک کیس میں بین الاقوامی ثالثی ادارے کی جانب سے پاکستان پر عائد کردہ جرمانے کو جیلنج کرنے جارہی ہے ۔ سرمایہ کاری کے تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی ادارہ نے ریکوڈک کیس میں پاکستان پر 9 ارب روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔بلوچستان حکومت کی جانب سے ریکوڈک میں واقع سونے کی کانوں میں کھدائی کے حوالے سے لیز میں توسیع نہ کرنے پر تیتان کاپر کمپنی نے بین الاقوامی ثالثی ادارے میں اس کو چیلنج کیا تھا۔

وزیر توانائی نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے آئی پی پیز پر بہت زیادہ بوجھ ڈالا۔ ن لیگ کے دورمیں گردشی قرضہ بڑھ گیا تھا جس کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں تھے۔ حکومت سرکلر ڈیٹ پر سے صلاحیت کا معاوضہ (کیپیسٹی چارجز) واپس لینے جارہی ہے۔ سابقہ حکومتوں نے آئی پی پیز پراخراجات کا بوجھ ڈالا، سابقہ حکومتوں کے فیصلوں کے خلاف آئی پی پیز عدالت چلی گئیں۔موجودہ حکومت نے میرٹ سے ہٹ کرکسی کو کوئی رعایت نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں کوئی کام میرٹ کے بغیرنہیں ہوتا۔ شفافیت موجودہ حکومت کا طرہ امتیاز ہے۔ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی دنیا کی پاکستان میں سرمایہ کاری ہو۔ رمضان المبارک کے مہینے میں ملک کے کسی حصے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کی۔ بجلی کے نظام کی ترسیل 100 فیصد کرنا ہماری ترجیح ہے۔


ای پیپر