قائداعظمؒ ۔۔۔شخصیت کا تشکیلی دور اور اساتذہ
10 ستمبر 2018 2018-09-10



محمد علی! تم اب طویل سفرپر روانہ ہورہے ہو، نہ معلوم کیوں مجھے ایسا لگ رہاہے کہ جب تم انگلستان سے لوٹو گے تو میں تمھیں دیکھنے کے لیے اس دنیامیں موجودنہیں ہوں گی ‘‘۔۔۔ماں نے اپنے لاڈلے بیٹے کو گلے سے لگاکر رندھی ہوئی آوازمیں کہا،محمدعلی کا گلا بھی رندھ گیا لیکن ماں کا دل اس بات سے مطمئن تھا کہ اس کا بیٹا ایک دن ضرور بڑا آدمی بنے گا اور وہ اس پر فخرکرے گی ۔۔۔یوں نوجوان جناح شادی کے معاً بعد انگلستان روانہ ہوگئے ۔وہی ہو اجس کا ماں کو اندیشہ تھا جناح کے قیام انگلستان کے زمانے ہی میں جہاں انھیں اپنی نوجوان اہلیہ کے انتقال کی خبر ملی وہاں انھیں یہ وحشت ناک خبر بھی ملی کہ وہ ماں کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے ہیں۔اہلیہ اور والدہ کے انتقال کے باوصف محمدعلی اپنی منزلوں کے حصول کی سمت گام زن رہے ۔
اس سے پہلے ان کے زمانہ قیام بمبئی اور سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی کے دورطالب علمی کے بارے میں ہمیں بہت کم معلومات حاصل ہیں بمبئی میں ان کی پھوپی رہتی تھیں وہاں انھیں انجمن اسلامیہ کے مدرسے یا گوگل داس تیج پرائمری اسکول میں داخل کروایاگیا شاید انھوں نے ان دونو اسکولوں میں تعلیم پائی پہلے اول الذکر میں داخلہ لیا اور اور اسے چھوڑکر موخرالذکر میں آگئے لیکن یہاں کے دورطالب علمی کے بارے میں سوائے اس کے کہ ان کا زیادہ وقت سیرسپاٹے میں گزرتاتھا زیادہ معلوم نہیں ہوتا۔ ادھرکراچی میں اپنے بیٹے کے لیے ماں کی اداسی انھیں واپس کراچی لے گئی جہاں ۲۳؍دسمبر ۱۸۸۷ء کو وہ سندھ مدرسۃ الاسلام میں داخل ہوئے یہاں بھی وہ پڑھنے پڑھانے کے مقابلے میں گھوڑوں ،میناروں اور محرابوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے ان مشغلوں کی خاطر وہ اپنے دوست کریم قاسم کے ساتھ اکثرکلاس سے غائب ہوجاتے وہ کسی کے رعب داب میںآتے تھے نہ انھیں کنٹرول کرنا آسان تھا چنانچہ اسکول سے ان کانام کاٹ دیاگیاپھرانھیں گھرکے قریب لارنس روڈ کے کرسچین مشن ہائی اسکول میں داخل کردیاگیا لیکن وہ یہاں بھی چند ماہ سے زیادہ نہ گزارسکے ۔
والدکی تجارتی کمپنی کا ایک معروف برطانوی تجارتی کمپنی ڈگلس گراہم سے اشتراک تھا۔ اس کا نوجوان جنرل مینیجر سرفریڈرک کرافٹ اس وقت بتیس برس کا شوخ و شنگ جوان تھا اسے نوخیز جناح سے لگاؤ تھا اور وہ اس کی صلاحیتوں کو پہچاننے لگا تھا اس نے اپنے کاروباری رفیق جناح پونجا سے نوجوان جناح کو لندن بھیجنے کے لیے کہا۔ روانگی کے وقت سرکرافٹ نے جناح کو ایک سفارشی رقعہ دیا جو اس نئے ملک میں ان کے کام آیا اور جس نے اسٹینلے ولپرٹ کے مطابق ’’مسٹر جناح کو گوشہ گمنامی سے نکال کر برطانیہ کی شاہی شہرت کے اس وسیع دائرے میں پہنچادیا جس تک رسائی ہندوستان کے بہت کم نوجوانوں کو میسر تھی۔ ‘‘ اس طرح کچھ بے ترتیب زمانوں کے بعد وہ انگلستان پہنچ گئے ،یہاں پہنچ کر خود اپنے الفاظ میں انھوں نے اپنے آپ کو ’’ایک عجیب و غریب ملک اوربالکل غیرمانوس ماحول میں پایا وہاں میں کسی شخص کو نہ جانتاتھا اور لندن کی سخت سردی اور وہاں کے کہرے سے سخت پریشان ہوا لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر نہ رہی جلدہی میں اس نئے شہر میں جم گیا اور خاصا خوش بھی تھا‘‘
اس زمانے میں نوجوان جناح نے لارڈ مارلے (۱۸۳۸ء۔۔۔۱۹۲۳ء)جو بعدمیں وزیرامورہند اور وائسرائے ہند بھی رہے ،کے لبرلزم سے اثرات قبول کیے اورجب انگلستان میں مقیم پارسی بزرگ اور تاجر دادابھائی
نوروجی نے سنٹرل فنزیری Central Finsbury سے لبرل نمائندے کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کااعلان کیا تو لارڈ سالسبری نے ایڈن برامیں ایک تقریر کے دوران انھیں ایک کالاآدمی کہہ کر ان کی اہانت کی جس پر دوسرے ہندوستانیوں کے ساتھ نوجوان جناح کے جذبات بھی مجروح ہوئے اور انھوں نے دادابھائی نوروجی کی حمایت کا فیصلہ کیا اور بالآخر دادا بھائی نوروجی برطانوی ایوان میں پہنچ گئے جناح نے دادابھائی کی حمایت کے اس زمانے میں ان سے بہت کچھ سیکھا یہی تعلق تھا جس نے چودہ برس بعد انھیں دادابھائی کا سیکریٹری بھی بنادیا ۔
جناح کے زمانہ قیام لندن میں ان کی دل چسپیوں اور سرگرمیوں میں ان کے مستقبل کی جھلک دیکھنا دشوار نہیں ہے ۔وہ ایک طالب علم کی حیثیت سے گئے تھے ۔انھوں نے وہاں اپنی منزل کو پیش نظر رکھا ، اپنے مضمون میں اختصاص پیداکیا اس کے ساتھ اس مستقبل کے لیے، ان کی ماں نے جس کا خواب دیکھاتھا، شب و روز محنت کرتے رہے ۔قیام لندن کے آخری دوسالوں میں انھوں نے خوب مطالعہ کیا ان کی دل چسپی کے موضوعات میں سیاست کے ساتھ ساتھ اخلاقیات ،منطق ،سائنس ،اقتصادیات اور تاریخ بھی شامل تھے ۔ان کی اس زمانے کی جوکتابیں جامعہ کراچی کی لائبریری کو دی گئیں اس ذخیرۂ کتب پرنظرڈالنے سے قائداعظم کی زندگی کے تشکیلی دور کی دل چسپیوں کا اندازہ کیاجاسکتاہے ۔ان کے زیرمطالعہ رہنے والی کتابوں میں؛دی ورکس آف رائٹ آنریبل ایڈمنڈ برک تحریریں اور تقریریں، کی بارہ جلدیں،تھامس کارلائل کی ماضی و حال ( پاسٹ اینڈ پریزنٹ۱۸۹۴ء)انقلاب فرانس کی تاریخ(دی فرینچ ریولیوشن۱۸۸۸ء)اینڈریو لانگ کی سیاسیات ارسطو (پالیٹیکس آف ارسٹوٹل ۱۸۸۰ء)جے ایس مل کی پرنسپل آف پولیٹیکل اکانومی (۱۸۹۳ء) ڈبلیوایم ٹورینڈ کی ایمپائران ایشیا (۱۸۷۲ء)جے سی میریسوکی ’’گبن‘‘ (۱۸۸۷ء) آئزک ڈزریلی کی’’لٹریری کریکٹر آف مین آف جینیس ،مازینی کے مضامین اور سروالٹراسکاٹ کی اخلاقیات(آن موریلیٹی طبع غالباً ۱۸۹۵ء)شامل ہیں۔ان کتابوں پر قائداعظم کے دستخط موجودہیں اور بعض پر اس زمانے کے چلن کے مطابق دلچسپ جملے بھی درج ہیں مثلاً یہ کہ ’’یہ کتاب تادم مرگ میری ہے اس کو خوف اور شرمندگی سے بچنے کے لیے مت چرائیے کیونکہ اس پرمالک کانام درج ہے ‘‘اس کے بعد وہ اپنے دستظ ثبت کرکے تاریخ درج کردیتے ہیں ۔
انھوں نے کیسے طالب علم کے طور پر وقت گزارا اور ان کی کامیابیوں کے پیچھے ان کے دورطالب علمی کی کونسی صفات تھیں اس کا اندازہ لگانے کے لیے ہم ان کے اساتذہ کے خیالات پر نظرڈالتے ہیں جو انھوں نے اپنے اس لائق شاگرد کے بارے میں ظاہر کیے ۔
ان کے ایک استاد سر ہاورڈ ڈبلیو الفنسٹن نے اپنے اس شاگرد کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کہا
’’مجھے یہ کہتے ہوئے بڑی مسرت ہوتی ہے کہ مسٹر ایم اے جناح بھائی کو جنھوں نے ۱۸۹۴ء اور ۱۸۹۵ء میں کچھ عرصہ تک میرے لیکچرزا ور کلاسوں میں شرکت کی مجھے اس دوران ان کو دیکھنے کا موقع ملا اور ان کے نتائج کی بنیاد پرمیں نے ان کو ایک قابل شخصیت کامالک پایا ۔وہ جس کام کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں اسے بہترطور پر انجام دیں گے ‘‘لنکنزانّ ۵؍مارچ ۱۸۹۶ء
مسٹرڈبلیو ڈگلس ایڈورڈز بیرسٹر ایٹ لا نے ۶؍مارچ ۱۸۹۶ء کو رائے دیتے ہوئے لکھا’’مسٹر ایم اے جناح بھائی سال ۱۸۹۴ء کے عرصہ کے دوران جب وہ بارکے امتحان کی تیاری کے لیے جو کونسل آف لیگل ایجوکیشن منعقدکرتی ہے رومن اور انگلش قانون پڑھ رہے تھے میرے شاگرد رہے،مسٹر جناح بھائی نے جب وہ میرے ہاں زیرتعلیم تھے امتحانات میں نہایت جاں فشانی ،زودفہمی اور ذہانت کا مظاہرہ کیا ۔۔۔نسبتاً نہایت مختصر مدت میں ۔۔۔اس بناپر ہی میں ان کی ذہنی صلاحیتوں کے بارے میں ایک مثبت رائے قائم کرنے کی جانب راغب ہوا نہ صرف یہ بلکہ مجھے یہ بھی یقین ہوا کہ وہ جس شعبہ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے انھیں ممکنہ کامیابی ہوگی ‘‘۔ تعلیم کی تکمیل پر جب وہ لندن بار میں داخل ہوگئے تو اس کے حوالے سے چانسلر آف دی ڈایوسس آف مانچسٹر کی جانب سے ان کے لیے پی وی اسمتھ بارایٹ لا کی جانب سے جو سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا میں کہاگیاہے کہ ’’ میں لندن میں ان کے دوران قیام میں ان سے وابستہ رہا اور اب تک [ہوں]وہ جب تک اس ملک میں رہے ان کا کردار بے داغ رہا‘‘ ۔
ان تاثرات میں اساتذہ نے نوجوان جناح کی شخصیت میں مستقل مزاجی، جاں فشانی، زودفہمی اور ذہانت کی نشان دہی کی ہے۔ نوجوانی کی عمر میں ان صلاحیتوں کا ظہور معمولی بات نہ تھی اور یہی وہ صفات ہیں جنھوں نے مستقبل میں ایک ایسی شخصیت کی تشکیل کی جس نے تاریخ ہی نہیں دنیا کا جغرافیہ بھی تبدیل کردیا ۔کہاجاسکتا ہے کہ جناح کی زندگی کے تشکیلی دور میں بھی ان کے سرپر مستقبل کی کامیابیوں کا ستارہ دمکتا دیکھاجاسکتا تھا۔
بالای سرش ز ہوش مندی
می تافت ستارۂ بلندی


ای پیپر