صوبہ جنوبی پنجاب یا سرا ئیکی؟

10 ستمبر 2018

سہیل سانگی





جنوبی پنجاب کا قیام تحریک انصاف کے منشور کا اہم نکتہ ہے۔ حکمران جماعت کی پنجاب میں جیت جنوبی پنجاب میں جیت سے ہی تعبیر کی جاتی ہے۔ آئینی لحاظ سے نئے صوبے کے قیام کے لئے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پھر سینیٹ و قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا ووٹ ضروری ہے۔چونکہ تحریک انصاف کو پنجاب اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے۔ یہ مقصد تینوں بڑی پارٹیوں کی حمایت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یعنی پی ٹی آئی کے لئے اپنے منشور کے اس اہم نقطے پر عمل درآمد کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ سرائیکی صوبے کے حامیوں کی جانب سے تحریک انصاف پر صوبے کے قیام کے لئے دباؤ ڈالنا اپنی جگہ پر۔ اہم سوال اپوزیشن جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے اپنے پہلے اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لئے اپوزیشن کی دوبڑی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ نوازاور پیپلز پارٹی سے بات چیت کے لئے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے، تاکہ نئے صوبے کے لئے نہ صرف سیاسی اتفاق رائے قائم کیا جائے بلکہ اس کو عملی شکل دینے کے لئے تینوں ایوانوں میں مطلوبہ اراکین کی حمایت بھی حاصل کی جا سکے۔
ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کی حمایت میں بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ صوبائی اسمبلی میں قرادادیں بھی منظور کراچکی ہے۔ ان قراردادوں کے بعد صوبے مرکز میں مسلم لیگ (ن) حکومت میں بھی رہی۔ رواں سال پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اپریل میں ملتان کے قریب پارٹی کی ممبر سازی مہم کے دوران کہا تھا کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنائیں گے۔ رواں سال گزشتہ حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے سے پہلے سرا ئیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نواز کے رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ پارٹی صوبہ بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کا منصوبہ شامل کرے گی۔جہاں تک عوامی رائے کا تعلق ہے گزشتہ سال ستمبر میں سمال فارمرز تنظیم نے مطالبہ کیا کہ 14 اضلاع پر مشتمل انتظامی بنیادوں پر صوبہ بنانے کا اعلان کیا جائے۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الاہی نے گزشتہ ماہ ملتان میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ تحریک انصاف کے ساتھ مل کر صوبی جنوبی پنجاب بنائیں گے۔
پنجاب سے ہٹ کر ملک کے باقی حصوں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی فیڈریشن میں عدم توازن کی وجہ پنجاب کی آبادی کا حجم ہے لہٰذا س میں توازن لائے بغیر نہ ملک میں جمہوریت صحیح طور پر پنپ سکتی اور نہ مختلف صوبوں اور علاقوں کی شکایات دور ہو سکتی ہیں۔ اس بات میں وزن پایا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو شکایات رہی ہیں۔ محرومیوں اور شکایات میں میاں نوازشریف کے دور میں اضافہ ہوا۔اگرچہ صدر فاروق احمد لغاری، اسپیکر یوسف رضا گیلانی، اور پھر یوسف رضا گیلانی بطور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔ لہٰذا ایک لحاظ سے اس بیلٹ کی شراکت اقتدار میں ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی شکایات کا مداوہ نہیں ہو سکا اور مسلسل کسی نہ کسی شکل میں اپنے صوبے کے لئے مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ اس مطالبہ میں اتنا دم ہے کہ اس پر کبھی ایک جماعت اور کبھی دوسری جماعت سیاست چمکاتی رہی ہیں۔ اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بات نعرے سے آگے نہیں بڑھی۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس مطالبہ کی ہیئت تبدیل ہو گئی۔ وہ یہ کہ جنوبی پنجاب میں ایک صوبہ بنایا جائے یا دو۔اگر ایک صوبہ بنایا جائے تو کون کون سے اضلاع اس میں شامل ہوں؟ اگر دو بنائے جائیں تو کون کونسے علاقوں پر مشتمل ہو؟ صوبے کی بنیادیں سیاسی (یعنی محرومیوں کا احساس وغیرہ )اور ثقافتی ہوں یا انتظامی؟
جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ذمہ دار مسلم لیگ(ن)
کی قیادت کو قرار دیا جاتا ہے لیکن پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ فاروق لغاری جیسی شخصیات کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اس بیلٹ سے تعلق رکھنے والے وہ افراد بھی شامل ہیں جو اس نعرے کی آڑ میں اپنے لئے سیاسی پناہ گاہیں تلاش کرتے رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے غریب عام لوگوں اور کسانوں کا استحصال کرنے والے اور شوگر مافیا کا حصہ بنے ہوئے وڈیرے پر مشتمل ہے۔جو بوقت ضرورت وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں جگہ ڈھونڈ نے کے لئے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے کارڈ کو استعمال کرتے ہیں۔اور اقتدار میں حصہ ملنے کے بعد یہ مطالبہ بھول جاتے ہیں۔ اس مرتبہ یہ مثال خسرو بختیار کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی چھوڑنے والے بعض اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پر فٹ آتی ہے۔ سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماؤں خواجہ غلام فرید کوریجہ‘ کرنل عبدالجبار عباسی‘ پروفیسر شوکت مغل‘ ملک خضر حیات ڈیال‘ عاشق بزدار‘ مسیح اللہ خان‘ صوفی تاج گوپانگ اور مہر مظہر کا کہنا ہے کہ صوبے کے نام اور حدود کا مسئلہ اہم ہے۔ اس کیلئے ہم صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کی قیادت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرائیکی خطے کی تہذیب‘ ثقافت اور روایات پنجاب سے الگ ہیں اور انتظامی صوبے کی اصطلاح کو نہیں مانتے اور مکمل صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے اہل فکرو نظر حضرات کاان پر الزام ہے کہ انہوں نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کا کیس خراب کیا۔ دو کی بجائے ایک نئے صوبے (خواہ وہ بہاولپور ہو یا جنوبی پنجاب ) کی با ت کرتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ایک صوبہ بنے یا دو، یہاں کے لوگوں کا مکمل اتفاق ضروری ہے۔ ایک صوبہ بنانے کی صورت میں اتفاق رائے بنتا نظر نہیں آتا۔اس لئے کہ بہاولپور والے اپنا صوبہ اور جنوبی پنجاب والے اپنا صوبہ چاہ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بہاولپور بھی جنوبی پنجاب کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ بہاولپور قیام پاکستان کے وقت الگ ریاست تھی۔ریاست پچاس کے عشرے میں مشرقی پاکستان کا سیاسی مقابلہ کرنے کے لئے مساوات کا فارمولہ بنا کر جب پاکستان کے مغربی حصہ کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ون یونٹ کی شکل دیکر مغربی پاکستان بنایا گیا تو بہاولپور سمیت دیگر ریاستوں کو بھی اس میں شامل کر دیا گیا۔ اور بہاولپور کی الگ شناخت ختم کردی گئی اور ایک طویل مدت تک یہ لوگ پاکستان کے مختلف حصوں میں ’’ ریاستی ‘‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اقدام والی ریاست بہاولپور اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت کیا گیا تھا۔اس طرح کا معاہدہ سندھ کی ریاست خیرپور کے والی ے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے آبادی میں اضافے اور دیگر انتظامی امور کے باوجودآج تک خیرپور کو مزید اضلاع میں تقسیم نہیں کیا گیا۔
پنجاب میں نیا صوبہ ایک بنے یا دو یہ معاملہ حالیہ دنوں کا نہیں ۔ گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے اس پر دلیل بازی اور بحث ہوتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ 2012 میں پنجاب اسمبلی بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کے لئے الگ الگ قراردادیں پاس کرچکی ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے پنجاب اسمبلی کی متفقہ قراردادوں قرارداد نمبر 160 اور قرارداد نمبر161 کے متن ملاحظہ کریں ۔ قرارداد نمبر 160 پہلی قرارداد تھی جو بہاولپور صوبے سے متعلق ہے اس کا متن درج ذیل ہے :
قرارداد نمبر 160: صوبائی اسمبلی پنجاب کے اس ایوان کی رائے ہے کہ بہاولپور کے عوام جو ایک طویل عرصہ سے بہاولپور صوبے کی بحالی کی جدوجہد کررہے ہیں، یہ مطالبہ نیا صوبہ بنانے کا نہیں بلکہ سابقہ صوبے کو بحال کرنے کا ہے، جس کی بنیاد انتظامی، جغرافیائی، تاریخی، آئینی اور سیاسی حقائق ہیں۔ ان حقائق کی بنیاد پر اس ایوان کی رائے ہے کہ سابقہ صوبہ بہاولپور کو بلاتاخیر بحال ہونا چاہئے اور وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نئے صوبوں سے متعلق تمام کلیدی معاملات (پانی و دیگر معاملات کی منصفانہ تقسیم، جغرافیائی حد بندی سمیت تمام آئینی، قانونی، انتظامی معاملات) پر فوری فیصلہ دے اور نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کرے۔
جنوبی پنجاب صوبہ سے متعلق قرارداد نمبر161 کا متن یہ ہے:
صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ نمائندہ ایوان، وفاقی حکومت سے صوبہ جنوبی پنجاب کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے اور اس نئے صوبے کی تشکیل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نئے صوبوں سے متعلق تمام کلیدی معاملات (پانی و دیگر وسائل کی منصفانہ تقسیم، جغرافیائی حد بندی سمیت تمام آئینی، قانونی، انتظامی معاملات) پر فوری فیصلہ دے اور نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کرے۔
دونوں قراردادیں پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں اور متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ دونوں مسلم لیگ (ن) کے رانا ثناء اللہ نے پیش کی تھیں۔ لہٰذا ان قرار دادوں کو سیاسی واخلاقی طور پر عوامی رائے کا فیصلہ سمجھا جائے گا۔ جب تک کہ نئی قرارداد کے ذریعے اس کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک جب نیا صوبہ بننے جائے گا توایک ہی وقت دو قراردادیں سرائیکی صوبے کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گی۔ تحریک انصاف ایک نیا صوبہ بنانا چاہتی ہے یا دو؟ جنوبی پنجاب صوبہ بنے یا سرائیکی صوبہ ؟ اس پر جنوبی پنجاب اور سرائیکی بیلٹ میں اتفاق رائے ضروری ہے۔ ایک ا تفاق رائے اسمبلیوں میں موجود تین بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی ضروری ہے۔ کیا اپوزیشن جماعتیں عمران خان کی زیر قیادت یہ صوبہ بنانا پسند کریں گی؟

مزیدخبریں