کمزور اور مضبوط جمہوریت کی باتیں

10 ستمبر 2018

وکیل انجم



نئے پاکستان کے نئے معمار اپنے کام میں لگ چکے ہیں۔ وزیر اعظم تبدیل، سپیکرز تبدیل تین صوبوں کے نئے گورنرز کپتان کے وژن کے مطابق صدر پاکستان عارف علوی بھی اپنا حلف اٹھا چکے۔ نئے معمار ہیں تو جمہوریت بھی بدلی ہوئی ہے۔ ایک نیا تجربہ ہے۔ کہیں کہیں کنٹرول ڈیموکریسی لگتی ہے۔ کہیں محسوس ہوتا ہے ہم ایوب کے دور میں جا چکے ہیں۔ عارف علوی کو صدر مملکت کا حلف اٹھاتے دیکھ کر پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کا زمانہ یاد آ گیا۔ مگر ڈاکٹر علوی صاحب کو گارڈ آف آنرز دیکھ کر ممنون حسین کے 5 سال پوری شدت سے یاد آگئے کہ اگر کسی صدر کی آئینی ذمہ داری 18 ویں ترمیم میں کچھ کرنے کی نہیں ہے تو ان کا اتنا پروٹوکول کیوں ضروری ہے؟۔ سادگی تو ایک مسلسل اور ہر جگہ نظر آنے والا عمل ہے۔ عارف علوی کی تقریب میں 20 فیصد زائد مہمان بلائے گئے تو یہ نظر آتا ہے کہ سابق ممنون حسین ملاقاتیوں کی تعداد کو جس انداز سے کم کر دیا گیا تھا وہ صدارتی ضرورت کے مطابق تھا۔ ورنہ کبھی دیکھیں صدر تو ماضی میں سازشوں کا گڑھ بن گیا تھا۔ اسکندر مرزا نے سازش کی بنیاد رکھی ساری رات پارٹیاں اور محفلیں اور دن کو سازشیں حکومتی جوڑ توڑ یہی وہ عہد اور دور تھا جب ایوان سے وقفے وقفے سے وزیر اعظم بننے کے حکم جاری ہوتے رہے۔
وزیر بدلتے رہے ایوب اور سکندر مرزا کے درمیان ایوان اور سکندر مرزا جلد وطنی نصیب میں لے کر لندن چلے گئے ایسا تو ہوتا تھا۔ ایوب خان کا اپنا ایجنڈا تھا وہ طاقت ور صدر تھے۔ انہیں عوامی مقبولیت کا شوق تھا۔ فوج کی پوری حمایت ان کے ساتھ تھی مگر ایوب خان کی ایک خرابی یہ تھی کہ وہ جمہوریت اور سیاست دانوں کے خلاف تھے۔ اہم بات یہ تھی کہ پہلی بار بیورو کریسی کا بیڑا غرق اسی دور میں ہوا۔ مرکز کی بیوروکریسی تو خود کو ایوب خان سے بھی بالا تر سمجھتی تھی اسی نے ایوب کو مشورہ دیا کہ فاطمہ جناح کو سکرین آؤٹ کر دیاجائے بڑی بڑی گدیوں کے سجادہ نشینوں نے عورت کی حکمرانی کے خلاف مہم چلائی سب سے اہم بات اسی بیورو کریسی کے ذریعے قومی اور صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے دو جابر گورنر رکھے ہوئے تھے۔ مشرقی پاکستان کے منعم خان اور مغربی پاکستان کے نواب امیر محمد خان آف کالا باغ ۔ افسر جب کسی حکم کے بارے میں تبادلہ خیالی کرتے تو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ حکم نواب کالا باغ کا ہے دیکھتے ہی دیکھتے چیف سیکرٹری بھی مونچھ کے حوالے سے شہرت پا گئے۔ اب ’’مونچھ‘‘ کا مقاطعہ ہونے لگا تو امیر محمد نے فیصلہ کیا صوبہ مغربی پاکستان میں ایک ہی مونچھ کا حکم چل سکتا ہے اس طرح چیف سیکرٹری خورشید احمد کو چلتا کر دیا اور انہیں مرکز میں بھیج دیا۔ ایوب خان کو اس زمانے میں ڈیگال بننے کا شوق تھا۔ اس نے فرانس کو اپنے فیصلوں سے زندہ کر دیا۔ مگر ایوب خان کو دیو قامت بنانے کے لیے عوام کو جمہوریت کو کمزور کر دیا صدارتی اور قومی انتخاب کے لیے بیوروکریسی نے 80 ہزار افراد کے چناؤ کا طریقہ اپنایا کس کو کامیاب اور کس کو ناکام بنانا ہے۔اس کام کو بیورو کریسی منزل تک پہنچاتی۔
نواب کالا باغ کے دور میں بدمعاشیوں کو عروج ملا، نواب کالا باغ رخصت ہوئے تو پولیس مقابلوں کی بدعت جنرل موسیٰ خان سے پڑی غنڈا ایکٹ نافذ کر کے بغیر کسی عدالتی فیصلے کے درجنوں لوگ پولیس نے پار کر دیے۔ جب جگا گجر کو مارا گیا تو پولیس مقابلوں کا معاملہ اہم ہو گیا۔ ایوب خان نے 20 سے زیادہ کمیشن بنائے تمام اہم قومی سیاست دانوں کو نا اہل کر دیاپھر ایوب خان کو مارچ 1969ء میں اقتدار چھوڑنا پڑا تو انہوں نے جمہوریت کو بحال کرنے کا اعلان کرکے اپنے پورے دور کی نفی کر دی یحییٰ خان کے ایوان صدر کی تو کوئی بات ہی نہیں تھی۔ اس زمانے میں یحییٰ اور ان کے پانچ پیاروں میں گھر چکا تھا۔ حتیٰ کہ انتخاب کر ا کر جمہوریت بحال کرنے سے انکار کر کے ملک ہی توڑ ڈالا فضل الٰہی صدر پاکستان بنے 22 سال کے مارشل لا ء کا عہد اگست 1973ء میں ختم ہو گیا۔ پارلیمانی نظام بحال ہوا۔۔۔ من چلے صدر ایوب خان دور کے جو کمیشن تھوک کے حساب سے بنائے تھے ان میں ایک بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ کیونکہ کمیشن کے ارکان اپنی جگہ مگر انہیں ایوان صدر سے کنٹرول کیا جا رہا تھا جس وجہ سے کسی بھی شعبے میں اصلاح نہ ہوئی۔ پولیس اصلاحات کا نتیجہ نہ نکلا کہ پولیس سے سیاسی کام اور مخالفین پر طاقت آزمائی کرنے کا کام لیا گیا ۔ آئینی اصلاحات کے لیے کمیشن قائم ہوا مگر منظور قادر کا آئین نافذ ہوا جو مشکل چھ سال کے بعد تحلیل ہو گیا۔ زرعی اصلاحات کا جو حشر ہوا اس کی کہانی بابائے شوسلزم شیخ محمد رشید سناتے سناتے رخصت ہو گئے۔ باقی کمیشن بھی ایسے ہی تھے۔ بیوروکریسی کی اصلاح بھی قابل عمل ثابت نہ ہو سکی۔ یحییٰ خان نے آتے ہی بیوروکریسی کا ایسا صفایا کیا کہ 313 اعلیٰ افسروں کو ملازمت سے نکال دیا۔ کمیشن 60 کی پوری دہائی میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اس ماڈل کو ٹاسک فورس کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے اس سے تو بہتر ہے کہ ’’ ٹرائیکا‘‘ کی شکل میں جو نظام نافذ ہو چکا ہے سب کو نظر آتا ہے۔ آج جن اداروں میں اصلاح کی کافی ضرورت ہے۔
معاملہ شاہ خرچیوں کا ہے تو حکومت سو دن کے ایجنڈے کو فوکس کرنے کی بجائے وہی کچھ کرنے جا رہی ہے کہ نواز شریف کی حکومت میں جو شاہ خرچیاں کی گئی ہیں وہ عوام کے سامنے لائی جائیں۔ یہ تو آپ نے کہا ہے 50 لاکھ مکان بنیں گے اور ایک کروڑ نوکریاں ملیں گی۔ 200 ارب ڈالر اقتدار کے اگلے دن آنے چاہئیں تھے نہیں آئے۔ پٹرول کی قیمت 31 مئی 2018 ء پر جو تھی۔ اب پٹرول پر اسد عمر اپنا وعدہ پورا کریں۔ سادگی کا تماشاہ اپنی جگہ مگر اناڑیوں کی حکومت نے ڈیم کے لیے چندے کی اپیل کی چند دو ڈالر دو مگر اپیل تو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی زد میں ہے۔ عوام تو دیکھ رہے ہیں بنی گالہ سے کیا آتا ہے۔ خارجہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ہو رہا ہے ۔ نواز شریف کی بھارت کے بارے تعاون کا ہاتھ بڑھانے کا ایسا رویہ نہ تھا خود کپتان کسی کے کہنے پر نواز شریف کو مودی کا یار کہہ کر بدنام کر رہے تھے۔ چین سے سرد مہری۔ حکومت خارجہ پالیسی میں کئی سمتوں پر چل رہی ہے۔ مسلم لیگ ضمنی انتخابات کے بارے میں خاص پر امید ہے ۔ ضمنی انتخاب کے بعد مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف کی طرز کا احتجاج کرنے جا رہی ہے۔ مسلم لیگ کے لیے اچھا تو ہے احسن اقبال بال بال بچ گئے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا ہے۔ اچھا ہوا عدالتیں تو غلطی جاننے والوں سے ایسا سلوک ہی کیا کرتی ہیں مگر احسن اقبال کا معاملہ توہین عدالت کا الگ تھا وہ پڑھا لکھا اور عدلیہ کی توقیر سمجھنے والا سیاست دان ہے انہوں نے ایک ایسے علاقے میں اپنے اخلاق سے اپنی جڑیں بنائی ہیں میاں برادری کی سیاست چلتی ہے ان کی سیاسی تربیت والدہ سے اور کتابیں پڑھ کر ہوئی ہے والدہ آپا نثارفاطمہ ممبر قومی اسمبلی نانا تقسیم سے پہلے مشرق پنجاب سے ایم ایل اے ماموں شیخوپورہ کے ممتاز مسلم لیگی۔ ماموں کے سسرال میں بھی پارلیمنٹیرین مگر انہوں نے اپنی دنیا آپ بنائی وہ لڑھکتی سیاست میں ایک ایسا عزم رکھنے والا سیاست دان وفاداری نہیں بدلتا۔ والدہ کی زندگی میں ہاتھ پکڑا تو نواز شریف کے ساتھ رہا۔ اور کبھی اس نے وفاداری نہیں بدلی ہر آزمائش میں نواز شریف کے ساتھ کھڑا رہا اب بھی وہ عدلیہ کا احترام کرتا ہے اگر احسن اقبال کی طرف سے عدلیہ کے بارے میں کچھ الفاظ کہہ دیے گئے تھے تو عدلیہ نے اس پس منظر میں نوٹس جاری کیا اس میں شک ہی نہیں بہت سے سوالات اس زمانے میں عدلیہ کی طرف سے اٹھ رہے تھے۔
اگرچہ موجودہ منظر نامے کو دیکھا جائے تو عمران خان کے اس دعوے کے بر عکس کہ انہیں اور ان کی ٹیم کو خاصا تجربہ ہو گیا ہے یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ بد حواسیاں کافی ہیں شاید حکومت کے اندر آ کر تحریک انصاف کو معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف پر جو وہ تنقید کرتے رہے تھے درست نہیں تھی۔ وزارت داخلہ کا قلمدان بے شک انہوں نے وزیر مملکت آفریدی کو دے دیا ہے۔ بظاہر حکمرانوں کے ارادوں سے لگتا ہے وہ احتساب کے نام پر ایسے کھیل کھیلنے جا رہے ہیں جس سے جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اس وقت کپتان جس طرح کے طرز حکومت کی طرف جا رہا ہے بہت سی انگلیاں موجودہ حکومت کی طرف اٹھتی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت میں اختیارات کا جو تجربہ عمل میں آنے والا ہے وہ 1990 ء کی دہائی میں
منظور وٹو اور فیصل صالح حیات کی صورت میں ناکام ہو چکا ہے، سوالات اٹھیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے تو اعلان کر دیا ہے کہ ایک حکومت یو ٹرن لے رہی ہے ۔ ایک یو ٹرن تو یہی ہے کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کا ملبہ ن لیگ کی حکومت پر گرا رہی ہے۔۔۔ معاملہ اصلاح کا ہے بلیم گیم سے کام نہیں چلے گا ۔

مزیدخبریں