پارلیمانی کمیشن کا قیام۔۔۔جائز مطالبہ!

10 ستمبر 2018

ساجد حسین ملک



مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی پر تمام جماعتیں رونا رو رہی ہیں۔ دھاندلی پر تحقیقاتی کمیشن کے قیام تک کاروائی نہیں چلنے دیں گے۔ لاہور ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 17اگست کو پارلیمانی کمیشن کی بات کی تھی۔ اپوزیشن اتحاد کمیشن بنوا کر رہے گا۔ کمیشن میں آئندہ دھاندلی کو روکنے کے لئے تجاویز بھی پیش کی جائیں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے 20دِنوں میں گیس ، بجلی اور کھاد کی قیمتیں بڑھا کر عوام پر ظلم کیا۔ گیس کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ہماری حکومت نے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے بجلی کی قیمت 3روپے یونٹ کم کی تھی وہ ختم کر کے بجلی کی قیمت میں 5روپے اضافہ کر دیا گیا۔ کھاد کی قیمتوں کو آدھا کرنے کے لئے نواز شریف کے دور میں اربوں روپے کی سبسڈیز دی تھی۔ اِن سب کو ختم کر دیا گیا ۔ ہم عام آدمی کی آواز بنیں گے اور اِن چیرا دستیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ میاں شہباز شریف نے بھاشا ڈیم کے حوالے سے کہا کہ نواز شریف حکومت نے اس کے لئے 22ارب روپے میں زمین خریدی۔ پیسے اکٹھے کرنا اچھی بات ہے لیکن پن بجلی بنانے کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے کی ضرورت نہیں اِس کے لئے کام شروع کریں اور سرمایہ کاروں کو دعوت دیں۔ ہم نے ریکارڈ مدت میں بجلی کے منصوبے لگائے اور لوڈ شیڈنگ ختم کر دی تھی۔ آج لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اس کا قطعاً کوئی جواز نہیں۔ میاں شہباز شریف نے چیلنج کے انداز میں کہا کہ عمران خان نیازی میٹرو سمیت کسی منصوبے میں کرپشن ثابت کریں ، ہر سزا کے لئے تیار ہوں۔
میاں شہباز شریف نے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے بارے میں کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے تو یقیناًاِن کا فرض بنتا ہے۔ وہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہی نہیں بلکہ 20کروڑ عوام کے ووٹوں سے منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل ملک سب سے اہم اور مقتدر آئینی اِدارے قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف بھی ہیں۔ اُن سے جائز طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ آنے والے دِنوں میں وہ مختلف قومی اَمور ، اِشوز اور مسائل و معاملات کے بارے میں زیادہ کھل کر اپنی جماعت کے موقف کو ہی سامنے نہیں لائیں گے بلکہ متحدہ اپوزیشن کی بھرپور ترجمانی بھی کریں گے۔ اُنہیں اِس ضمن میں اپنی جماعت کی اعلیٰ ترین قیادت اور ممبرانِ پارلیمنٹ کے دباؤ کا ہی سامنا نہیں ہے بلکہ متحدہ اپوزیشن کی اہم ترین جماعتوں جن میں مولانا فضل الرحمن کی متحدہ
مجلسِ عمل(جمعیت علماء اسلام)، اسفند یار ولی خان کی ANP، میر حاصل بزنجو کی BNP، جناب محمود خان اچکزئی کی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی ، جناب آفتاب شیر پاؤ کی قومی وطن پارٹی اور جناب مصطفی کمال کی پاک سرزمین پارٹی وغیرہ شامل ہیں بھی بجا طور پر اُن سے توقع رکھتی ہیں کہ وہ زیادہ بھرپور اور جاندار انداز سے متحدہ اپوزیشن کے موقف کی ترجمانی کریں اور برسرِ اِقتدار جماعت تحریک انصاف کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دیں۔
متحدہ اپوزیشن کا مضبوط موقف اور اپنے مطالبات کا کھل کر اظہار کرنا اور ان کو پورا کرنے کے لئے اِصرار کرنا تحریک انصاف کے لئے یقیناًزیادہ خو ش آئند نہیں ہو سکتا۔ تاہم تحریک انصاف بہر کیف متحدہ اپوزیشن بالخصوص قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے استدلال ، اعتراضات اور مطالبات کے جواب میں رائے فرار اختیار نہیں کر سکتی اور کچھ نہ کچھ جواب دینا اور اپنے موقف کا اظہار کرنا اُس کا فرض بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے میاں شہباز شریف کے پارلیمانی کمیشن کے قیام کے مطالبے اور گیس اور بجلی کی قیمتوں کے اضافے کے حکومتی فیصلوں پر اعتراضات کے حوالے سے حکومتی موقف کو سامنے لانے میں زیادہ تاخیر نہیں کی۔ جناب فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن سے متعلق الزامات پر کمیشن بنانے کو تیار ہیں۔ اپوزیشن آج تک یہ نہیں بتا سکی کہ دھاندلی کہاں ہوئی؟ اپوزیشن کو یہ نہیں پتہ کہ کہاں سے پولنگ ایجنٹ کو نکالا گیا۔ اپوزیشن صرف سیاست کرنے کے لئے الزامات لگا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گیس، بجلی ، کھاد مہنگی نہیں کی ۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے گیس ، بجلی اور کھاد کے شعبوں کا بیڑا غرق کیا۔ حکومت گردشی قرضوں سے متعلق معاملات حل کرنے جا رہی ہے۔ ہم ملکی کشتی کو ساحل پر لانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ سی پیک کے حوالے سے جو وعدے کیے گئے ہیں پورے کریں گے اور سی پیک کے تحت منصوبوں کو مزید موثر اور شفاف بنائیں گے۔
محترم میاں شہباز شریف کے استدلال اور الزامات اور جناب فواد حسین چوہدری کے جوابی استدلال اور الزامات کی تفصیل اپنی جگہ کہ ہماری قومی سیاست میں ایسے مواقع پر اِسی طرح کا اندازِ فکر و عمل اپنایا اور اختیار کیا جاتا ہے۔ زیادہ دور جانے کی بات نہیں مئی 2013کے عام انتخابات کے بارے میں موجودہ برسرِ اقتدار جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے دھاندلی کے الزامات عائد کر رکھے تھے۔ قومی اسمبلی کے 35حلقوں کے بارے میں تحریکِ انصاف کا کہنا تھا کہ وہاں پنکچر لگائے گئے اور انتخابی نتائج کو تبدیل کیا گیا۔ جناب عمران خان کا 35پنکچر کا یہ الزام بہت مشہور ہوا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کو انتخابی نتائج کے بارے میں ہر ممکن طور پر مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن تحریک انصاف انتخابات میں دھاندل کے الزامات کی تحقیق کے لئے سپریم کورٹ کے فاضل ججز پر مشتمل عدالتی کمیشن کے قیام کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔ عدالتی کمیشن کے قیام میں کئی طرح کی رکاوٹیں تھیں۔ تاہم سابقہ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو انتخابات میں تحریک انصاف کے دھاندلی کے الزامات کی تحقیق کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کے لئے خط لکھ ہی دیا۔ جس پر سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس جناب ناصرالملک کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن قائم ہوا جس نے تحریک انصاف کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیق کی اور قرار دیا کہ اُن کے سامنے کوئی ایسے شواہد یا حقائق نہیں آئے یا لائے گئے جن کو سامنے رکھ کر یہ کہا جائے کہ اِنتخابات میں کوئی دھاندلی ہوئی۔ انتخابات عمومی طور پر شفاف تھے۔ تاہم تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو عزت مآب ججز پر مشتمل عدالتی کمیشن کے فیصلے (fiddings)پر بھی اعتراضات کرنے سے گریز نہ کیا۔ اَب اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے متحدہ اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے انتخابات 2018کے حوالے سے پارلیمانی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تو تحریک انصاف کو بظاہر اس کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں تو پھر اُسے چاہیے کہ وہ فی الفور یہ مطالبہ مان کر پارلیمانی کمیشن کے قیام کا اعلان کر دے۔ اس طرح کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے گا اور انتخابات میں دھاندلی اور الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر اور RMSسسٹم کی ناکامی کے معاملات سے بھی پردہ اُٹھ جائے گا۔
پارلیمانی کمیشن اگرقائم ہو جاتا ہے تومسلم لیگ ن اور حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ انتخابات 2018میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد اور حقائق کمیشن کے سامنے لے کر آئے ۔ یہ نہ ہو کے پچھلی حکومت نے عمران خان کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کر دیا تھا لیکن عمران خان اور اُن کی جماعت کمیشن کے سامنے انتخابی دھاندلی او ر اپنے 35پنکچروں کے شہرہ آفاق الزامات کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت اور شواہد سامنے نہیں لا سکی تھی۔ اَب یہ نہ ہو کہ مسلم لیگ ن اور حزبِ اختلاف کی دوسری جماعتیں پارلیمانی کمیشن کے قیام کی صورت میں اُس کے سامنے بھی دھاندلی کے کوئی ٹھوس ثبوت اور حقائق سامنے نہ لا سکیں اور اُن کا پارلیمانی کمیشن کے قیام کا مطالبہ جگ ہنسائی کا باعث بن جائے۔

مزیدخبریں