عاطف میاں :مسئلہ شناخت اور وفاداری کا ہے

10 ستمبر 2018

اصغر خان عسکری



وزیر اعظم عمران خان نے اقتصادی کو نسل میں ماہر معیشت عاطف میاں کو شامل کرنے کے بعد عوامی ردعمل کے نتیجے میں اس فیصلے کو واپس لے لیا ہے ۔ عاطف میاں کی نا مزدگی پر زیادہ تر لو گوں نے احتجاج کیا۔چند افراد ایسے بھی تھے جو اس نامزدگی کے حق میں تھے۔مخالفین کے اپنے دلائل ہیں ،جبکہ حمایت کرنے والوں کے پاس بھی دلائل کا انبار مو جود ہے ۔
اس پورے معاملے کے دوران ایک سوال حمایت کرنے والوں نے بار بار پوچھا کہ قادیانی اقلیت کو کیوں اہم عہدوں پر تعینات نہیں کیا جا سکتا؟جبکہ ماضی میں قادیانی ،ہندو اور عیسائی اقلیت کے افراد اہم ملکی عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔اس پورے معاملے میں یہی سوال سب سے اہم بھی ہے ،جس پر غور وفکر کی ضرورت ہے ،کہ کیوں پاکستان میں قادیا نیوں کو اہم عہدے دینے پر اعتراض کیا جا تا ہے ؟
میرے خیال میں قادیانی اور دوسرے اقلیتوں کے معاملے میں سب اہم مسئلہ شناخت اور وفاداری کا ہے ۔پوری دنیا میں آپ جہاں بھی جائیں کوئی عیسائی اپنا شناخت چھپائے گا نہیں ،بلکہ وہ اپنے آپ کو عیسائی کے طورپر متعارف کرنے پر فخر محسوس کریگا۔آپ دنیا کے کسی کونے میں بھی چلے جا ئیں کوئی بھی یہودی اپنے ساتھ کوئی لا حقہ یا سابقہ نہیں لگا ئے گا۔وہ اپنا تعارف صرف یہودی کے طور پر کریگا، اور اس تعارف پر کوئی شرمندگی یا خوف محسوس نہیں کرتا۔اسی طر ح آپ کو ہندو جہاں بھی ملیں گے۔وہ ہندو کے طور پر اپنا تعارف کریگا،لیکن وہ بھی بلا خوف وندامت کے۔سکھ سے آپ کی ملاقات دنیا کی جس ملک میں بھی ہو وہ فخر کے ساتھ اپنے آپ کو سکھ کہتا اور لکھتا ہے ۔وہ کبھی بھی اپنی شنا خت کو چھپاتا نہیں ہے اور نہ ہی اپنا تعارف کرتے وقت خوف اور شرمندگی محسوس کر تا ہے ۔دنیا میں کہی بھی کو ئی قوم ،کسی مذہب کے ماننے والے یا فرقہ ایسا نہیں ہے کہ جو اپنی شناخت کو زبانی یا تحریری طور پر چھپاتے ہوں۔
اس کے بر عکس قادیانی وہ واحد طبقہ یا فرقہ ہے جو اپنی شناخت کبھی زبانی طور پر اور کبھی تحریری طور پر چھپاتے ہیں۔پاکستان کو چھوڑ دیتے ہیں،آپ با ہر کی دنیامیں جب کسی قادیانی سے ان کا مذہب پو چھ لیتے ہیں یا ان سے تحریری طور پر مانگ لیا جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو قادیانی کہنے یا لکھنے کی بجائے قادیانی مسلم یا احمدی مسلم کے طور پر متعارف کریگا۔لیکن اس تعارف میں بھی وہ خوف اور ندامت دونوں محسوس کرتے ہیں۔گز شتہ دو عشروں سے پوری دنیا میں مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔لیکن یورپ اور امریکہ میں اپنے آپ کو قادیانی مسلم یا احمدی مسلم کہنے والے یا ظاہر کرنے والوں کے ساتھ وہ امتیازی اور متعصبانہ سلوک نہیں کیا جاتا جو عام مسلمانوں کے ساتھ روارکھا جاتا ہے ۔یورپ اور امریکہ کے اس طر ز عمل سے واضح ہو تا ہے کہ وہ قادیانی یا احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے ورنہ پاکستان کے مسلمان تو کیا ہندو ،عیسائی ،سکھ اور دیگر اقلیتوں کو بھی وہ مشکوک نگا ہوں سے دیکھتے ہیں اور ان کو اپنے ہاں اسی طر ح ٹریٹ کرتے ہیں جس طر ح عام مسلمان کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔لہذا ضر وری ہے کہ قادیانی شرمندگی اور خوف سے نکل کر اپنے آپ کو غیر مسلم یعنی قادیانی یا احمدی زبانی اور تحریری دونوں طرح سے تسلیم کر لیں،تاکہ ان کو الگ شناخت مل جائے کہ وہ مسلمان امت نہیں بلکہ الگ مذہب قادیانیت کے پیروکار ہے ۔
قادیانیت دنیا کی وہ واحد مذہب ہے جواپنے عبادت گا ہوں کے لئے وہی الفاظ استعمال کر نے پر بضد ہے جو مسلمانوں کے ہاں مستعمل ہیں۔اگرہم پاکستان کی بات کریں تو عیسائیوں نے کبھی بھی خوف یا دوسری وجہ سے یہ مطالبہ نہیں کیا ہے کہ ان کو عبادت کرنے کے لئے مسجد بنانے کی اجازت دی جائے،بلکہ وہ اپنی عبادت گا ہ کو گرجہ گھر ہی کہتے ہیں ۔اسی طرح ہندو پاکستان تو کیا پوری دنیا میں عبادت کرنے کے لئے مندر جاتے ہیں ۔سکھ گوردوارہ میں عبادت کرتے ہیں۔لیکن قادیانیت وہ واحد فرقہ یا مذہب ہے جو اپنے عبادت خانے کو مسجد کہنے اور لکھنے پر بضد ہے ۔لہذا ضروری ہے کہ قادیانی خوف اور ندامت سے باہر نکلیں اور اپنی عبادت گاہ کے لئے وہی نام استعمال کریں جو ان کی الگ شناخت کی علامت ہوں۔ویسے بھی قادیانیوں نے مہینوں کے اپنے الگ نام رکھ لئے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے کہ عبادت گاہ کے لئے بھی الگ نام رکھ لیں۔
قادیانی مسئلہ میں دوسرا اہم معاملہ وفاداری کا ہے ۔ پاکستان میں قادیانی ،ریاست،قوم اور دستور کے ساتھ وفادار نہیں۔ان کی خواہش ہے کہ پاکستان اسلامی نہیں ،بلکہ قادیانی ریاست ہو۔پاکستان کی قوم مسلمان نہیں ،بلکہ قادیانی ہوں۔ دستور میں سے وہ سب کچھ ختم ہوں جو ان کے بارے میں یا نفاذ اسلام کے لئے آئین پاکستان میں مو جود ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ پاکستان میں قادیانیوں کو اہم عہدوں پر تعینات کر نا چا ہئے کہ نہیں؟تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ قادیانی کھلے عام زبانی اور تحریری طور پر اپنے آپ کو الگ امت تسلیم کرلیں۔ ریاست پاکستان اور آئین پاکستان کے ساتھ زبانی اور تحریری دونوں طر ح سے اپنی وفاداری کا اعلان کرلیں۔اگر وہ اعلانیہ طورپر اس بات کا اقرار کرتے ہیں ،تو پھر ان کو بھی دوسرے اقلیتوں کی طرح آئین میں دئیے گئے حقوق حا صل ہوں گے۔لیکن جو فرقہ اپنی شناخت چھپاتا ہو۔ریاست ،قوم اور دستور کے ساتھ ان کی وفاداری مشکوک ہو تو پھر ان کو آئین کے مطابق حقوق کس طر ح دئے جا سکتے ہیں؟بس بات اتنی سی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کی بجائے قادیانی اقلیت تسلیم کرلیں،ریاست پاکستان کے ساتھ وفاداری کا عہد کرلیں،جبکہ آئین پاکستان کو عملی طورپر ماننے کا اقرار کرلیں پھر ریاست میں نافذ دستور کے مطابق وہ حقوق کے حقدار ہوں گے۔بصورت دیگر ان کو کوئی حق نہیں کہ جس ریاست کے ساتھ ان کی دشمنی ہو ،جس آئین کو وہ مانتے نہیں ،کس طر ح اس ریاست میں ان کو اہم عہدے دئے جائیں؟پوری دنیا میں مر وجہ اصول یہی ہے کہ ریاست کی خدمت کا موقع ان کو دیا جاتا ہے جو اس ریاست کے ساتھ وفاداری رکھتا ہو۔
اس معاملے کے دوران ایک سوال یہ بھی اٹھا یا گیا کہ دوسری اقلیتوں پر اعتراض کیوں نہیں کیا جا تا؟اس کا جواب بھی سادہ سا ہے ۔دوسرے اقلیتوں پر اعتراض اس لئے نہیں کیا جاتا کہ ان کی اپنی الگ شناخت ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔ان کی ریاست کے ساتھ وفاداری غیر مشکوک ہے ۔ وہ دستور کے اندر رہتے ہوئے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ بیرونی دنیا میں بھی تو مسلمان کئی ممالک میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔یہاں بھی یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ جس ریاست میں کسی بھی اقلیت کو اہم عہدہ دیا جاتا ہے ،ان کی شنا خت ظاہر ہوتی ہے ،ان کی ریاست کے ساتھ وفاداری غیر مشکوک ہو تی ہے ،جبکہ وہ اسی ملک کے دستور کے مطابق کام کرنے کا عملی اقرار بھی کر چکے ہوتے ہیں۔دنیا میں کہیں بھی یہ روایت مو جود نہیں کہ کسی مشکوک یا غیر وفادار شخص کو کسی ریاست میں اہم عہدہ دیا گیا ہو۔لہذا قادیانیوں اور دوسرے اقلیتوں کے معاملے میں فرق الگ شناخت اور وفاداری کا ہے ۔جس کی وجہ سے دوسرے اقلیتوں پر اعتراض نہیں کیا جاتا ،جبکہ قادیانیوں پر جنگ و جدل کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے ۔


مزیدخبریں