کتابوں میں چھپے گوہر
10 ستمبر 2018 2018-09-10



اپنے دوست ادارہ التحریر لاہور کے مالک اور پبلشرجناب پروفیسر عمران اللہ ،کسٹم کے سینئر ریٹائرڈ آفیسران جناب اعزاز الحسن قریشی، جناب سلیم اختر، احمد عزیر غازی اور سمیع اللہ بٹ نے ہنر مندوں والے کالم پر بہت حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ سیاست سے ہٹ کر بھی تحریر کی آج بہت ضرورت ہے لہٰذا ان احباب کے حکم پر یہ تحریر زیر قلم ہے کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ جس شخصیت کے ساتھ جس زمانے میں رہنا چاہیں اس کے متعلق اور جس شخصیت کے ساتھ رہنا چاہیں اس کی لکھی کتاب اس کے متعلق لکھی گئی تحریر پڑھیں جب تک مرضی رہیں کتابوں کی ورق گردانی سے تاریخ کے ماتھے کے جھومر اور گوہر نایاب مل جایا کرتے ہیں۔ آج کسی معمولی سے مرض کے لیے بھی ڈاکٹر صاحبان درجنوں ٹیسٹ بتا دیتے ہیں اور شفاء پھر بھی نہیں ملتی نیت، احساس، اور شائد انسانیت کا فقدان ہے ورنہ جن کا تذکرہ ہم کرنے جا رہے ہیں وہ کوئی ٹیسٹ کراتے تھے نہ ہی کوئی لیبارٹری۔
لال دہلی قلعے کی الف لیلیٰ اور تاریخ، سیاست اور شعر و ادب کے تذکروں سے کہیں زیادہ عجیب و غریب آزادی سے قبل حکیموں کے کمالات تھے۔ مثلاً یہ کہ حکیم اجمل خاں صاحب ’’ شریف منزل ‘‘ سے ایک دفعہ باہر نکلے تو کیا دیکھا کہ ہندوؤں کی ایک برات چلی آتی ہے۔ حکیم صاحب برات کے جلوس کے نکل جانے کے انتظار میں رُک گئے اور ان کے ساتھ ان کے مصاحب بھی۔ جب دولہا کا گھوڑا حکیم صاحب کے سامنے سے گزرا تو حکیم صاحب کی بھی نظر دولہا پر پڑی۔ فرمایا دولہا نہیں دولہا کی ارتھی جاری ہے۔ پتہ نہیں کس کا سہاگ اجڑا ہے،کہتے ہیں ’’ شریف منزل‘‘ سے دو پیسے ڈولی پر دلہن والوں کا گھر تھا۔ جب دولہا وہاں پہنچا اور وہاں گھوڑے سے دلہن والوں نے دولہا کو اتروایا تو وہ گھوڑے سے اترنے کی بجائے دھڑ سے زمین پر گر پڑا۔ سب کو حیرت ہوئی کہ یہ دولہا مرا کیسے۔
حکیم صاحب کے مصاحبوں نے جو اس وقت ساتھ تھے، جب حکیم اجمل خاں صاحب سے پوچھا کہ حضور آپ نے یہ کیسے اندازہ لگالیا تھا کہ یہ دولہا نہیں دولہا کی لاش گھوڑے پر جا رہی ہے؟ تو حکیم صاحب نے فرمایا: آپ لوگوں نے شاید غور نہیں کیا کہ دولہا کے ماتھے پر سیندور کا ٹیکہ گیلا تھا۔ حالانکہ نیل کے کٹڑے سے جہاں کی یہ برات تھی بلی ماراں تک آتے آتے اس کا ماتھے کا سیندور خشک ہو جانا چاہیے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہو اکہ اس کے جسم کا سارا خون ست گیا تھا۔
ایک دفعہ ایک بھنگی نے ڈیوڑھی میں حکیم محمد احمد خان صاحب کے پیر پکڑ لیے اور کہا حکیم صاحب پیٹ میں آگ لگ رہی ہے۔ نہ بھوک ہے نہ پیاس۔ حکیم محمد احمد خان صاحب نے کہا کتے کا گوشت کھاؤ۔ سب کو حیرت ہوئی کہ یہ کیا علاج ہوا۔ لیکن چونکہ حکیم صاحب کا حکم تھا۔ اس لیے کتے کا گوشت اس بھنگی کو کھلایا گیا۔ یہ گوشت کھاتے ہی اسے قے ہوئی اور قے میں گوشت کے ساتھ چمٹی ہوئی چچڑیاں نکلیں۔ جو شاید وہ پانی کے ساتھ پی گیا تھا۔ اور وہ چچڑیاں پیٹ میں جا کر اس کی انتڑیوں میں چمٹ گئی تھیں اورجیسے ہی کتے کا گوشت اس بھنگی کے معدے میں پہنچا وہ اس مریض کی انتڑیوں کو چھوڑ کر اپنی محبوب غذا کتے کے گوشت پر لپکیں۔
ایک دفعہ ایک جولاہا پیٹ کے درد کی شکایت لے کر آیا تو حکیم محمد احمد صاحب نے کہا کہ چنے کھاؤ چنے۔ اور جیسے ہی اس مریض نے چنے کھائے، پیٹ کا درد جاتا رہا۔ مصاحبوں نے پوچھا پیٹ کے درد میں چنے۔۔۔؟ حکیم صاحب نے کہا یہ جولاہا تھا۔ ان لوگوں میں شادی بیاہ میں شکرانہ ہوتا ہے۔ شکرانہ۔۔۔ چاولوں کا خشکا ہوتا ہے جس پر لوٹے کی ٹونٹی سے گھی ڈالا جاتا ہے اور پھر بھر بھر کر پیالے شکر۔۔۔ اور یہ گھی اور شکران ابلے ہوئے چاولوں پر اس وقت تک ڈالی جاتی ہے جب تک مہمان دونوں ہاتھوں سے بس بس نہ کرنے لگے۔ چنانچہ حکیم صاحب نے بتایا کہ یہ جولاہا زیادہ گھی کا شکرانہ کھا کر آیا تھا۔ یہ گھی اس کی آنتوں میں بیٹھ گیا تھا۔ چنوں نے جا کر وہ گھی جذب کر لیا اور پیٹ کا درد جاتا رہا۔ یہ سارے محلہ بلی ماروں (یاد رہے مرزا غالب کا بھی محلہ یہی تھا) کے حکیم۔ طبیب سے زیادہ قیافہ شناس تھے مریض کی نبض ہی نہیں حیثیت بھی دیکھتے تھے ۔
شریف منزل کے حکیموں میں سے حکیم محمد احمد خاں صاحب جو حکیم اجمل خاں صاحب والی شریف منزل ‘‘ ہی میں مطب کرتے تھے اور رہتے تھے۔ حکیم محمد نبی جمال سویدا کی طرح زیادہ تر امراض کا علاج مرکبات کی بجائے مفردات ہی سے کرتے، بس ایک دوا، زیادہ سے زیادہ ایک پیسے یا دو پیسے کی۔ اگر اس دوا کے ساتھ کسی قیمتی غذا کی ضرورت ہوتی۔ جیسے پھل یا مرغی کا شوربا وغیرہ تو غریب اور مستحقین کی حیثیت سے خرچہ زیادہ ہوتا تو دس دس پانچ پانچ روپے بھی ان مریضوں میں تقسیم کراتے۔
جناب صاحب حکیم اجمل خان کے گھر شریف منزل کھانے کی دعوت کا احوال ہے کہ جب دسترخوان چنا گیا پہلے تو سلفچیاں اور آفتابے لیے ملازم آئے اور انہوں نے سب مہمانوں کے بیسن سے ہاتھ دھلوائے نیچے کی نشست تھی اور سب آلتی پالتی مارے دستر خوان کے اطراف میں بیٹھے تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کھانے کی دعوت نہیں کسی مشاعرے کی محفل ہے۔ سب سے پہلے تو دو چاندی کی طشتریاں لائی گئیں اور دستر خوان کے بیچوں بیچ رکھ دی گئیں ان طشتریوں میں سے ایک میں زردہ تھا اور ایک میں بالائی سب حیران تھے کہ پچاس آدمیوں میں یہ ایک ایک طشتری زردے اور بالائی کی کیا ہو گی۔
حکیم اجمل خان اتنی دھیمی آواز میں بولتے تھے کہ نسخہ لکھواتے وقت پاس بیٹھا ہوا مریض بھی ان کی آواز نہیں سن سکتا تھا۔ صرف نسخہ لکھنے والے ہی ان کی آواز سنتے اور سمجھ سکتے تھے مگر اس روز بآواز بلند کہا یہ جوزردہ اور بالائی آپ ان دوطشتریوں میں دسترخوان کے بیچ میں دیکھ رہے ہیں یہ زردے اور بالائی کا کشتہ ہے۔ یہ ایک من چاولوں کا زردہ ہے اور من بھر دودھ کی بالائی ہے۔ اسے چھونے سے ہی پیٹ بھر جائے گا۔ چمچہ بھر کافی ہے۔دلی کے لال قلعے میں لوگ تکلیف کی وجہ سے کھانا کم نہیں کھاتے تھے، کھانے ہوتے ہی ایسے تھے کہ ان کی زیادہ مقدار ضروری نہیں ہوتی تھی۔
حکیم صاحب کی اس تقریر کے بعد ملازم سفید برف سے خانپوشوں سے ڈھکے ہوئے ایک ایک چاندی کی تھالی میں ایک ایک پراٹھا لائے۔ جو نہ پراٹھا تھا، نہ شیرمال، نہ باقرخانی، نہ روغنی روٹی جس کا دل ایک چائے کی پیالی کے برابر تھا اور قطر عام شیرمال یا میدے کے پراٹھے سے کچھ بڑا۔ سب سے پہلے حکیم صاحب نے خود ایک پراٹھے کا پرت اوپر کا اُتارا اور سارا دالان جو اب تک مہمانوں کے کپڑوں کے عطر سے مہک رہا تھا۔ مشک عنبر اور زعفران کی خوشبو سے معطر ہو گیا۔ حکیم صاحب کی نقل میں سب مہمانوں نے بھی ان کی طرح اوپر کا پرت اس پراٹھے کا اتارا اور دیکھا کہ اس پرت کے نیچے خانے سے بنے ہوئے ہیں اور ایک خانے میں قورمہ ہے۔ ایک میں بھُنا ہوا مرغ اور ایک میں تلی ہوئی مچھلی اور ایک خانے میں نرگسی کوفتے۔ یہ تو تھے سالن کے خانے جو اس پراٹھے کے پرت کے نیچے آدھے حصے میں تھے۔ باقی کے آدھے حصے میں بریانی تھی اور یہ سب کھانا ملا کر اس ایک جادو کی روٹی میں کوئی چار آدمیوں کے لیے تھا۔
مہمان حیران تھے کہ اس ایک پراٹھے کے پرت باوجود بے حد لذیزہونے کے پورا نہ کھایا جا سکا۔ اس کو سال بھر رکھ لو تو یہ سوکھ سکتے ہیں، سٹر نہیں سکتے اور اسے زدو ہضم کی بیماری سے اٹھے ہوئے مریض بھی اگر یہ کھالیں تو کوئی نقصان نہ ہو،ایسے قورمے سال بھر خراب نہ ہوتے اور ایک دو چمچہ دیگر سالن میں ڈال کر لطف اندوز ہوتے۔


ای پیپر