ڈیم ایک جرم
10 ستمبر 2018 2018-09-10



80ء کی دہائی میں ضیا الحق کو چیئرمین واپڈا تواتر کے ساتھ بریفنگز میں آگاہ کرتے رہے تھے کہ اگر ڈیم نہ بنایا گیا تو ملک میں پینتیس سالوں میں بجلی کا شدید بحران پیدا ہو جائے گا اور اس کے دس سالوں کے بعد پانی کا شدید بحران پیدا ہوگا۔ گویا واپڈا جو اس وقت ایک باوقار محکمہ تھا جس کے تحت کئی مایہ ناز انجینئرز اور اپنے شعبے کے نامور ماہرین خدمات سرانجام دے رہے تھے حکومت وقت کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے تھے مگر ان پر کان کون دھرتا، کانوں میں تو افغان وار کی گھن گھرج کے سوا کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ ضیا صاحب وہ واحد شخص تھے جو کالا باغ ڈیم بنا ڈالتے تو ان کے سامنے کوئی سر اٹھانے والا نہ تھا مگر ان کے قریبی رفقا انھیں قائل کرچکے تھے کہ کالا باغ ڈیم سے جیسے کوئی قیامت برپا ہوجائے گی جو ایک فوجی حکومت کا تختہ الٹ دے گی اور افغان وار کی بساط لپٹ جائے گی۔ لمبی کہانی کا مختصرخلاصہ یہ کہ ڈیم نہ بنا جہادی بنے۔ آج ہم بجلی کے بحران کے آر پار کھڑے پانی کے آسیب سے نبرد آزما ہیں اور افغان وار کی نحوست یعنی دہشتگردوں سے پلا چھڑا رہے ہیں۔ گویا خون اور پانی دونوں بہا دیے گئے اور وہ بھی کسی شہنشاہ کی منظور نظر لونڈی پر اچھالے گئے سکوں کی طرح بے وقعت اور بے حساب۔
چند دن قبل عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک قدم اور آگے جاتے ہوئے ڈیم فنڈ کی نا صرف تشہیری مہم کا آغاز کیا ہے بلکہ تمام بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس فنڈ میں زیادہ سے زیادہ چندہ جمع کروائیں تاکہ ڈیم بنایا جاسکے اور خاص کر مغربی ممالک میں پاکستانیوں سے ایک ہزار ڈالر جمع کروانے کی گزارش کی گئی ہے۔ اس سب پر ہونے والی سوشل میڈیا نقاد گیری کا جائزہ لینے سے پہلے یاد دلاتے چلیں کہ عمران خان محیرالعقول واقعات کا ماسٹر برینڈ ہے۔ اس نے کرکٹ ٹیم کو اس وقت بار بار کہا کہ ہم ورلڈ کپ جیتیں گے جب کہ ٹیم کے اکثر کھلاڑی بانوے کے ورلڈ کپ کے خواب بھی دیکھنا بند کرچکے تھے۔ اس نے پاکستان جیسے غریب ملک میں کہا کہ کینسر ہسپتال بنائیں گے وہ بھی عوام کے چندے سے تو اس کے بارے میں بڑے بڑے مذاق بنائے گئے اور باآاخر لوگ قائل ہوئے۔ وہ ڈٹا رہا۔ پیسے اکٹھے کرتا رہا اور بلآخر کینسر ہسپتال نہ صرف بنا بلکہ کامیابی سے لوگوں کے علاج کئے اور اب تیسرا شوکت خانم بننے جا رہا ہے۔ پھر اس نے سیاست میں قدم رکھا لوگوں نے پھر مذاق اڑایا سیاسی مخالفین نے ضمانتیں ضبط ہونے پر طعنے زنی کی سب حدیں پار کیں وہ ڈٹا رہا ملک میں احتساب کا عمل تیز تر ہوا۔ اور بلآخر وہ وزیر اعظم بن گیا۔ عمران خان غیر معمولی مقاصد سامنے رکھ کر انھیں حاصل کرنے کا ماہر ہے۔ لیکن اس مرتبہ جب اس نے ڈیم بنانے کو اپنا مقصد اولین چنا ہے تو فرق ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس کے معیاری سیاسی مخالفین بھی یہ دعا کر رہے ہیں کہ اللہ کرے پاکستان ڈیم بنانے میں کامیاب ہوجائے۔
اب تنقیدی جائزہ لیں۔ عمران خان نے نیا نظام نئے چہرے کا جو خواب عوام کو دکھاکر سیاست کی ابتدا کی وہ پورا نہ کیا۔ بلکہ پرانے چہروں سے نیا نظام لانے کی اختراہ کرتے ہوئے شدید تنقید برداشت کی اور آج بھی ملک بھر میں اس کا ساتھ دینے والے مفلوک الحال ورکر امیر زادوں کو پارٹی میں ڈورے ہلاتے دیکھ کر تقریباً ہارٹ اٹیک کی کیفیت سے دوچار ہیں بلکہ آپس میں لڑ مر رہے ہیں اور کوئی نہیں جو ان کی خبر گیری کرے۔ لیکن نیا نظام بحرحال اس کا مقصد ہے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی ہی بنائی گئی حکمت عملی کے پلان بی پر عمل پیرا ہے۔ دوسری اور اہم ترین بات یہ کہ اگر ڈیم کے لیے چندہ پالیسی پر صحیح معنو ں میں عمل کرنا ہے اور ساڑھے سات سو ارب روپے ابتدائی طور پر اکٹھے کرنا ہیں تو پھر تحریک انصاف کے ورکروں کی تنقید جائز ہے کہ پہلے احتساب کے عمل کو تیز تر کریں ملک سے لوٹی دولت وطن میں واپس لے کر آئیں اسے سرکاری خزانے میں جمع کریں۔ خواہ لٹیرا سیاستدان ہو ، بیوروکریٹ ہو یا پھر کوئی سرمایہ دار و شملہ دار اسے پکڑ کر عبرت کا نشان بنائیں اور پھر چھ ماہ بعد عوام سے چندے کی اپیل کریں شاید اپیل کرنی نہ پڑے اور کرنی پڑ بھی جائے تو عوام کے اعتماد کی بحالی کے بعد چندہ پالیسی کامیابی سے ہمکنار ہونے کے قریب تر ہوگی۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ عمران خان اپنے مقصد کے درمیان آنے والے کسی اپنے پرائے کو نہیں دیکھتا۔ وہ ایک مقصد کو چیلنج بناتا ہے پھر اس کی طرف طوفان کی رفتار سے بڑھنا شروع کردیتا ہے۔ اس پر پالیسی ٹو لانچ کرنی پڑے یا پالیسی تھری۔ اسے یو ٹرن خان کہا جائے یا پھر نیٹو لیڈر( نو ایکشن ٹالکس اونلی) آپ اسے کوئی الزام لگا دیں وہ اپنا مقصد حاصل کرکے اپنے مخالفین کو حیران کرنے کی بجائے اس سے بڑے مقصد کا اعلان کرکے پریشان کردیتا ہے۔ لوگ عمران خان کے بارے میں باتیں بناتے رہے ہیں اور وہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے محنت کرتا رہا ہے۔ ڈیم چندے سے بنانا کوئی جرم نہیں۔ کئی ممالک کامیابی سے یہ تجربہ کرچکے ہیں۔ اسے بھکاری کہنے والے حقیقت میں ملک کے غریب دکھا کر بھیک مانگتے رہے ہیں اور ستم ظریفی یہ کہ بھیک کا پیسہ اپنے غریب بچوں کے لیے بیرون ملک منتقل
کرتے رہے ہیں اور غریبوں کے لیے روٹی محال کرنے کے بعد پانی کا بحران پیدا کرکے اپنے محلوں میں بیٹھے موجودہ حکومت کو چندہ مانگنے پر طعنے دے رہے ہیں۔ شہباز شریف صاحب کوئی شک نہیں پنجاب کی پچ پر چوکے چھکے لگا کر سب سے زیادہ تعمیر و ترقی کے ساتھ سر فہرست ہیں لیکن ان سے کوئی پوچھے نو ہزار ارب پنجاب میں دس سالوں میں لگا نے کے بعد بڑے فخر سے پریس کانفرنس میں یوں گویا ہوئے ہیں کہ ہم نے ڈیم پر 122 ارب روپے لگائے ہیں تو حضور نو ہزار ارب روپے میں سے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بچا جاتے، ایک ڈیم ہی بنا جاتے شائید میٹرو اور اورنج لائین ٹرینوں اور حکومت کے ہیلی کاپٹروں اور جہازوں اور بیرون ملک جائیدادوں سے کہیں زیادہ ضروری تھا لیکن نواز شریف اینڈ کمپنی بھی تو ضیا دور سے حکومت میں تھے یہ بھی تو ان بریفینگز کا حصہ تھے جب واپڈا والے خطرے کی گھنٹی بجا رہے تھے اور یہ افغان وار میں جہادی بھجوا رہے تھے گویا پاکستان میں پیاس اور خون کے بیج بورہے تھے اور خود خوشحال سے خوشحال تر ہورہے تھے۔


ای پیپر