نومنتخب صدر عارف علوی پر ایک نظر
10 ستمبر 2018 2018-09-10



موجودہ صدر جناب ممنون حسین کی مدت 4 ستمبر کو پوری ہوگئی ان کے بعد نومنتخب حکومت نے نئے صدر کا انتخاب کیا ۔ جس میں تحریک انصاف کے امید وار ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہوگئے ۔
پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر 424 ووٹ کاسٹ ہوئے جس میں عارف علوی نے 212، مولانا فضل الرحمان نے 131 اور اعتزاز احسن نے 81 ووٹ حاصل کیے۔ نومنتخب صدر کل اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
نومنتخب صدر اعوان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی 29 جولائی 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔ کراچی سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ 1967میں مزید تعلیم کے حصول کے لیے لاہور آ گئے۔انہوں نے ڈی مونٹمورنسی کالج آف ڈینٹسٹری لاہور سے ڈینٹل سرجری میں بیچلر (بی ڈی ایس) کی سند حاصل کی۔ اور 1975 میں مشی گن یونیورسٹی سے پروستھوڈونٹکس میں ماسٹرز کیا۔ 1984میں سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف پیسفک سے ارتھوڈانٹکس میں ماسٹرز کیا۔
پاکستان واپس آنے کے بعد انہوں نے دندان سازی پریکٹس کرنا شروع کی اور علوی ڈینٹل ہسپتال قائم کیا۔ وہ پاکستان ڈینٹل کونسل اور ایشیا پیفیک ڈینٹل فیڈریشن کے صدر رہے۔
نومنتخب صدرعارف علوی کی شادی ثمینہ علوی سے ہوئی ۔ان کی اہلیہ ثمینہ علوی بھی متحرک خاتون ہیں ان کے چار بچے ہیں جواب شادی شدہ ہیں۔ان کے والد بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے دندان ساز تھے جو پاکستان کے قیام کے بعد کراچی ہجرت کر کے آئے تھے۔ ان کے والدحبیب الرحمان الٰہی علوی سیاسی طور جماعت اسلامی پاکستان سے منسلک تھے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جماعت اسلامی سے کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک ہوئے اور بعد میں کالج کے اسٹوڈنٹ یونین کے صدر بنے۔ اپنے ابتدائی ایام میں وہ ایوب خان نظام حکومت کے مخالف تھے اور سنہ 1969 میں مال روڈ لاہور کے مقام پر ایوب خان مارشل لا کے خلاف کرفیو کے دوران میں احتجاج کرنے پر انہیں دو مرتبہ گولیاں لگیں جن کے نشانات آج بھی ان کے جسم پر موجودہیں۔ذوالفقار علی بھٹو نے 7 جنوری 1977کو انتخابات کا اعلان کیا تو وہ ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک ہو گئے۔انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے 1979 میں کراچی سے سندھ صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن بھی لڑا مگر انتحاب میں کامیاب نہ ہو سکے۔ 1988 میں انہوں نے جماعت اسلامی کو خیر آباد کہہ دیا اور سیاست چھوڑ دی۔
1996ء میں دوبارہ سیاست کا آغاز کیا اور انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا شمار پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں ہوتا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کی جماعت کے آئین کی تیاری میں شریک تھے۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی سندھ کا پہلا الیکشن 1997ء میں مسلم لیگ ن کے سلیم ضیاکے خلاف لڑا اور 2200 ووٹ لے کر الیکشن ہار گئے۔ 2002ء میں پی ایس 90 سے دوبارہ الیکشن لڑا اور صرف 1276 ووٹ لے کر متحدہ مجلس عمل کے عمر صدیق سے الیکشن ہار گئے۔2013 کے انتخابات میں انہوں نے این اے250سے MQM کی خوش بخت شجاعت کو شکست دی اور 77659 سے ووٹ لے کر سندھ سے PTI کے اکلوتے MNA بنے۔
جناب عارف علوی حالیہ عام انتخابات میں کراچی کے حلقہ این اے 247 سے کامیاب ہوئے انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم ایم اے کے محمد حسین محنتی کو شکست دی۔یاد رہے ڈاکٹر عارف علوی 2006 سے 2013 تک تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل رہے اور 2016 میں جناب عارف علوی کو تحریک انصاف صوبہ سندھ کا صدر بنا دیا گیا۔
پاکستان کے نو منتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ترکمانستان کے ڈاکٹر گربانگولی بردیموہامیو کے بعد دنیا کی تاریخ کے دوسرے دندان ساز ہیں جو سربراہ حکومت ہوئے۔ نومنتخب صدرڈاکٹر عارف علوی نے سیاسی میدان میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھا ہے انہوں نے پچھلے پانچ سال اپوزیشن میں کاٹے اور ن لیگی حکومت کے خلاف میدان میں سرگرم رہے۔
نو منتخب صدر پاکستان اپنے عہدے کا استعمال کرنا جانتے ہیں اوروہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں علم بلند کریں گے۔ وہ اپنی نامزدگی پر عمران خان کے ممنون ہونے کے باوجود ممنون حسین ثابت نہیں ہوں گے اور اپنے مزاج کے مطابق حکومتی ایوانوں اپنی حاضری یقینی بناتے رہیں گے۔



ای پیپر