اسلامی قوانین کے ذریعے بے حیائی کا خاتمہ ہو سکتا ہے، حریم شاہ
10 اکتوبر 2020 (21:18) 2020-10-10

کراچی: متنازع ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نے کہا ہے کہ اسلامی قوانین کے نفاذ سے بے حیائی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نے کراچی پریس کلب میں ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے پاکستان میں ٹک ٹاک ایپ پر پابندی لگا دی گئی ہے اور پابندی کی وجہ بے حیائی بتائی گئی ہے لیکن یہ بے بنیاد بات ہے۔ یہ کوئی پختہ وجہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ٹک ٹاک ایپ کو بین کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ٹک ٹاک کی انتظامیہ ایسے لوگوں پر خود ہی پابندی لگا دیتی ہے۔

حریم شاہ نے مزید کہا ایسے بہت سے سینسر بورڈ جیسے ادارے موجود ہیں، ایسے افراد جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں اور پہلے اسلامی قوانین نافذ کریں جس کے بعد بے حیائی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

حریم شاہ نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک جیسی ایپس کے ذریعے لوگوں کا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آتا ہے لہذا عمران خان صاحب سے اپیل ہے کہ اس پر سے پابندی ہٹائی جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے چین کی مشہور ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک پر غیراخلاقی اور نامناسب مواد شیئر کرنے کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی۔ پی ٹی اے نے ٹک ٹاک پر پابندی عوامی شکایات کے بعد لگائی ہے۔

ترجمان کے مطابق پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کو فائنل نوٹس اور جواب داخل کرانے کی مہلت دی تھی۔ ٹک ٹاک کی جانب سے شکایات کا ازالہ نہ کرنے پر پابندی لگائی گئی۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ٹک ٹاک انتظامیہ کو پابندی سے متعلق آگاہ کردیا۔ ترجمان کے مطابق غیراخلاقی مواد ہٹانے اور مناسب اقدامات اٹھانے پرپابندی کےفیصلے پرنظرثانی کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل مشہور ٹک ٹاک نے مضر مواد کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا الائنس تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک نے دیگر 9 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایک الائنس تشکیل دینے کی تجویز دی تھی تاکہ مل کر تیزی سے خودکشی پر مبنی مواد کو ہٹایا جاسکے۔ ٹک ٹاک کی جانب سے یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں ماہ ایک شخص نے فیس بک پر خودکشی کر لی تھی۔

چینی ایپ کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے فیس بک، انسٹاگرام، گوگل، یوٹیوب، ٹوئٹر، ٹوئچ، اسنیپ یٹ، پنٹریسٹ اور ریڈیٹ کے چیف ایگزیکٹیویز کو خطوط بھیج کر یہ تجویز دی گئی ہے۔


ای پیپر