تنگ آمد، بجنگ آمد……!
10 اکتوبر 2020 (14:06) 2020-10-10

کہا جا سکتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کا بیانیہ جو اپریل 1993ء میں ڈیکٹیشن نہیں لونگا سے شروع ہوا درجہ بدرجہ پہلے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور پھر عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے سے ہوتا ہوا ووٹ کو عزت دو کے پچھلے تین سالوں سے اپنائے ہوئے بیانیے تک ہی نہیں پہنچا ہے بلکہ اب اس نے عمران خان کو لانے والی قوتوں سے مقابلہ آرائی کی انتہائی صورت بھی اختیار کر لی ہے۔یہ ایک طرح کی " تنگ آمد بجنگ آمد " کی صورت حال کی نشان دہی کرتا ہے۔ایسا کیوں ہوا ایک بار پھر ماضی کے کچھ واقعات کو دہرانا پڑے گا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو اس لیے کہ حالات و واقعات اس کی بڑی حد تک تصدیق کرتے ہیں کہ عمران خان کو لانے میں کچھ خفیہ قوتوں جنھیں کبھی خلائی مخلوق کہہ کر پکارا جاتا ہے، کبھی خفیہ ایجنسیوں کی طرف اشارے کیے جاتے ہیں اور کبھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ یا عسکری قیات کا نام دیا جاتا ہے کا ہاتھ ضرور رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت (2008 تا 2013) میں کھلم کھلا کہا جاتا تھا کہ آئی ایس آئی اپنے سربراہ جنرل پاشا سمیت عمران خان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ بااثر سیاسی شخصیات بالخصوص الیکٹ ایبل (Electable) اُمیدواروں کو تحریک انصاف میں شمولیت کی ترغیب دینا اور 2011کے اواخر میں لاہور اور کراچی میں تحریک انصاف کے جلسوں کے کامیاب انعقاد وغیرہ کے پیچھے آئی ایس آئی اور جنرل پاشا کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔

مئی 2013کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت برسراقتدار آئی اور میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں عسکری قیادت اور آئی ایس آئی کی طرف سے عمران خان کی پشت پناہی میں کچھ مزید اضافہ سامنے آنے لگا۔ اگست 2014میں عمران خان اور طاہر القادری کا دھرنے دے کر اسلام آباد ریڈ زون میں آکر بیٹھ جانا، عمران خان کا کنٹینر پر چڑھ کر اپنی تقاریر میں مقتدر حلقوں (عسکری قیادت) کی طرف اشارے کرکے یہ کہنا کہ ایمپائر کی انگلی اُٹھنے والی ہے، عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں کی وجہ سے اسلام آباد میں نظام حکومت کا مفلوج ہونا اور اس پورے عرصے میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو مسلسل دباؤ میں رکھا جانا اور بالاخر انھیں غیر ملکی اقامہ رکھنے اور بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لینے کی پاداش میں سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دے کر گھر بھیج دینا وغیرہ ایسے حالات و واقعات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ ن جسے بلاشبہ عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی کے راستے میں رکاوٹیں ہی نہیں کھڑی کی جارہی تھیں بلکہ بالواسطہ عمران خان کی آئندہ انتخابات میں کامیابی اور حکومت میں آنے کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ جولائی 2018 کے عام انتخابات میں جو کچھ ہوا، آر ٹی ایس کو بند کیا گیا، انتخابی نتائج کے 

اعلان میں تاخیر کی گئی اور تحریک انصاف کو قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اکثریتی جماعت نہ ہونے کے باوجود محض چند ممبران کی اکثریت کی بنا پر بڑی جماعت سمجھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنانے میں جس طرح تعاون کیا گیا اور اس کے بعد جناب عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگانے کی جو کوششیں ابتک جاری ہیں یہ سب جہاں تاریخ کا حصہ ہیں ان سے بہر کیف یہ سوچ مستحکم ہوئی ہے کہ مقتدر حلقے عمران خان کی حمایت میں سب کچھ کرنے کے لیے تیاررہتے ہیں۔

معروضی حالات و واقعات کے اس تناظر میں میاں محمد نواز شریف اگر اپنے برادر اصغر میاں شہباز شریف کی مقتدر حلقوں سے مفاہمت اور تعاون کی پالیسی کو رد کرکے ٹکراو اور مقابلہ ارائی کی پالیسی کو اختیار کرنے پر چل پڑے ہیں تو اس کے لیے انھیں زیادہ قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاہم اسے انتہائی افسوس ناک  اور ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے۔ یقینا یہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوس ناک امر ہے کہ میاں محمد نواز شریف جو ملک کی سب سے بڑی جماعت یا دوسری بڑی سیاسی جماعت کے قائد اور رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تین بار وزارتِ عظمیٰ کے انتہائی باوقار اور بااختیار منصب پر فائز رہ کر ملک کی مقتدر ترین شخصیت کا درجہ بھی رکھتے ہیں اور لاکھوں بلکہ کروڑوں چاہنے والوں کی انہیں حمایت اور کھلا تعاون بھی حاصل  ہے۔ ان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ  یا دوسرے لفظوں میں عسکری قیادت سے تعلقات اس نہج تک پہنچ جائیں کہ وہ اسے کھلم کھلا چیلنج دینے یا دعوتِ مبارزت دینے لگیں تو اس سے بڑھ کر اور افسوسناک صورتحال کیا ہو سکتی ہے۔ 

یہ افسوسناک صورتحال یقینا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی فریقین (میاں محمد نواز شریف اور ان کی جماعت  اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ) بالخصوص مسلم لیگ ن کی قیادت کے حق میں ہے۔ فوج جو ملک کی سلامتی اور دفاع کی ذمہ دار ہے، جو دائمی ریاستی ادارے کی حیثیت رکھتی ہے جسے اپنی پیشہ وارانہ اور جنگی صلاحیتوں پر ناز ہے، جسے ملک و قوم کی سلامتی، دفاع اور بقاء کے لیے ہر دم تیار اور مستعد رہنا پڑتا ہے، جس نے حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے عفریت کو جڑوں سے اُکھیڑنے کے لیے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا ہے بلکہ اسے ان گنت جانی اور مالی نقصانات بھی برداشت کرنے پڑے ہیں۔ فوج جو وطنِ عزیز کو درپیش کسی بھی طرح کے ارضی و سماوی مصائب کا سامنے کرنے کے لیے کبھی بھی پیچھے نہیں رہی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے پاکستان کے ابدی و دائمی دشمن بھارت کے مقابلے میں ہمہ دم تیار، چوکس اور مستعد بلکہ حالتِ جنگ میں رہنا پڑتا ہے اس فوج کو یقینا غیر جانبدار ہی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسکی مسلمہ قومی حیثیت اور مقام و مرتبے پرحرف بھی نہیں آنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ فوج کو آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوتی ہیں۔ ان میں عوام کے ووٹوں سے منتخب آئینی حکومت کی حمایت اور اس کی طرف سے تفویض کردہ فرائض کی سر انجام دہی جہاں ضروری ہے وہاں اس کی اعلیٰ ترین قیادت کی طرف سے کوئی ایسا موقف یا طرز عمل بھی نہیں سامنے آنا چاہیے جس سے کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت یا سیاسی شخصیت کی حمایت کا تاثر ابھرے اور فوج کی قومی اور غیر منتازعہ حیثیت پر انگلی اٹھائی جا سکے۔ 

جہاں تک میاں محمد نواز شریف کے موقف کا تعلق ہے مان لیا کہ وہ تنگ آمد بجنگ آمد کی صورت حال کی وجہ سے یہاں تک پہنچے ہیں لیکن انھیں بھی چاہیے کہ وہ دائمی ریاستی اداروں خاص طور پر فوج یا اس کی ماتحت خفیہ ایجنسیوں سے مستقل بیر رکھنے کی بجائے ان کے ساتھ خوش گوار تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دیں۔ یہ حقیقت ذہن میں رہنی  چاہیے کہ فوج ایک انتہائی منظم اورمنضبط ادارہ ہے جس میں نیچے سے اوپر تک ایک ہی نظم و ضبط اور ایک ہی سوچ و فکر پروان چڑھتی ہے۔ اعلیٰ عسکری قیادت سے مقابلہ آرائی یا ان کی مخالفت کا مطلب یہ ہے کہ پوری فوج سے محاذ آرائی جو کسی بھی صورت میں ایک قومی جماعت یا قومی قیادت جسے عوام کی نمائندگی اور حمایت کا دعویٰ ہو کے لیے سود مند نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ملک و قوم کے لیے یہ صورت حال سود مند ہو سکتی ہے۔ اس سے اجتناب ملکی و قومی مفاد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ 


ای پیپر