جاڑے کے مشاغل
10 اکتوبر 2020 (13:37) 2020-10-10

ماحول خنکی کا لبادہ اوڑھنا شروع ہو چکا ہے۔ ہوا میں گرمی کا زور مدھم ہوتا جا رہا ہے۔ انسان بھی اپنا لباس موسم کی سختی اور نرمی کے مطابق تبدیل کرے گا۔ یعنی موٹے کپڑے پہننے کا وقت قریب ہے۔ آرام کے لئے گرمیوں میں لیا جانے والا کھیس یا سادہ کپڑا(چادر) سردیوں میں آوارہ جانور کی طرح دتکارا ہی جائے گا۔ لیکن کمبل، رضائی کو گھر کے تمام افراد انتہائی عزت و احترام کے ساتھ استعمال کریں گے۔اسی اثنا میں ہر گھر نئے موسم کی مناسبت سے اپنے ذخیرہ خانوں سے ایسے موسمی سامان نکالتا ہے جیسے صاحب ِ ایمان تھانے دار، ڈاکوؤں سے لوٹا ہوا مال۔ نہانے کے لئے گرم پانی سردیوں کا اہم جزو ہے۔کچھ بہادر اشخاص ٹھنڈے یخ پانی سے نہا کر اپنے دوستوں کو ایسے قصے سناتے ہیں جیسے سیاچن کے سب سے بالائی مقام پر غسل کیا ہو۔ جاڑے کی چاپ سنتے ہی معاشرے کا انتہائی حساس (فنکار صفت) طبقہ سردی سے بچاؤکی تیاری کا نرالااندازاپنائے گا۔ پنکھوں تک پہنچتے بٹن، ٹھنڈے پانی کے نلکے، کمرے کی کھڑکیاں، گویا ٹھنڈک کی آمد و رفت پر کرفیو نافذ ہوگا۔صرف گیس ہیٹرمعاشرے کے ہر گروہ کے لئے مقدم ہے۔ورنہ ہم ہر معاملے میں طبقات کی نذر ہیں۔

جسم کو ظاہری سردی سے بچانے کے لئے گرم کپڑے کار آمد ہیں۔ لیکن جسم کو اندرونی طور پر ٹھنڈ سے بچانے کے لئے طرح طرح کے پکوان مدد گار ہوں گے۔مچھلی، سری پائے۔۔۔۔ہائے۔ کون کون سی نعمت کو گنا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ گرم مشروبات، چائے، کافی سردیوں کا مزا دوبالا کر دیں گی۔جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے، ویسے ہی مصنوعی ستونوں پر کھڑی معیشت کھانستی جا رہی ہے۔ ان حالات کی وجہ سے بہت سی اشیاء ہماری دسترس سے ہزاروں میل دور ہو چکی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ خنکی کو جوبن پر دیکھتے ہوئے خشک میوہ جات خریدے جاتے تھے۔ اب صرف میوہ جات کی تصویر ہی اچھے فریم میں حرارت بخشتی ہے۔ غریبوں کا خشک میوہ ’مونگ پھلی‘ بھی اب امرا کی خوراک بن چکا ہے۔ ورنہ کیا زمانہ تھا جب ٹھیلوں پر صرف کھڑے ہوتے ہوتے پاؤ مونگ پھلی ہڑپ کر لی جاتی تھی۔نیزکاجو، انجیر، اخروٹ سب تصویری صورت میں قابلِ خرید ہیں۔

قدرتی گیس کو کیسے بھولا جا سکتا ہے۔ جن شہریوں کے گھروں میں گیس کی ترسیل ہو رہی ہوگی وہ اپنے آپ کودنیا میں جنتی سمجھیں۔ کیوں کہ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں قدرتی گیس نہیں آئے گی۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی نوید ابھی سے سنائی دے رہی ہے۔ ہاں!گیس کا استعمال ٹھنڈک سے بچنے کے علاوہ کھانا پکانے کے لئے بھی ہوتا ہے۔لیکن ہم روٹی بھی نہیں پکا سکتے کیوں کہ آٹے کی قیمت سنچری مکمل کرنے کے دہانے پر ہے۔ تندور پر روٹی آٹھ اور نان پندرہ روپے میں دستیاب ہے۔بھلا ہو سرکار کا جو ہمیشہ طفل تسلیاں دیتی ہے ’گھبرانا نہیں ہے‘۔

پاکستان میں آلودگی کی سطح تیزی سے ترقی کرتی نظر آ رہی ہے۔امریکی ادارے کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے سر فہرست آلودہ ترین ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ صرف لاہور کی ہی بات کریں تو یہاں کا ماحول آلودگی سے لت پت ہے۔ یہ صورت اس بار جاڑے کی سختی کی بازگشت دے رہا ہے۔سائنسی اعتبار سے سردیوں میں آلودگی کا تناسب بھی بڑھ جاتا ہے۔ پہلے تو کورونائی عہد کے عروج میں ہم گھروں تک محدود تھے لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ ماسک کا استعمال ہمیں نہ صرف کورونا سے بلکہ آلودگی سے بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اب یہ عمل بھی جاڑے میں کام آئے گا۔

اگر آپ موٹر سائیکل سوار ہیں، تب تو گرم کپڑے اشد ضروری ہیں۔ وگر نہ گاڑی میں سفر کرنے والے مناسب لباس میں بھی گزارہ کر سکتے ہیں۔یعنی آپ کا صاحب ِ استطاعت ہونا بھی سردیوں میں نعمت ہے۔ اور اگر آپ سرکاری عہدے پر ہوں تو آپ کی ذہانت آپ کی سواری تبدیل کر سکتی ہے۔چاہے آپ نے سرکاری وسائل بچانے کے لئے ہی کیوں نہ گاڑیاں نیلام کروائی ہوں۔ سنا ہے کہ ایوان ِ صدر کے لئے تینتس بلٹ پرو ف گاڑیوں کی منظوری ہوئی ہے۔لوگ تو جاہل ہیں، سوچتے ہیں کہ یہ عمل عوام کے پیسے کا زیاں ہے۔اصل میں سردیوں میں موٹر سائیکل پر سفر مشکل ہوتا ہے تو اس لئے ایوان ِ صدر نے تینتس گاڑیوں کی منظوری دی ہے۔ اب کوئی سرکاری اہلکار موسمی بیماری کا شکار ہو گا، نہ چھٹیاں کرے گا، اس طرح بنائیں گے بیماریوں سے پاک’نیا پاکستان‘۔

سیاسی اعتبار سے آنے والی سردیاں گرم مرطوب ماحول فراہم کریں گی۔ اپوزیشن کا اکٹھ اور ملاقاتیں ابھی سے ہی زور پکڑ رہی ہیں۔سیاسی ناقدین درجہ ِ حرارت میں تیزی کا اشارہ دے چکے ہیں۔موجودہ ایام میں تو ایک قیمتی پتھر سے مشاہبہ نامی کارکن نے تھرتھلی مچائی ہوئی ہے۔ لوگ بچوں کو ہیرے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس ایک سیاسی ہیرا ہے، جسے نہ حکومتی ارکان اپنا رہے ہیں،نہ ہی اپوزیشن اراکین۔ بے چارہ ہیرا، لوہا بن کے نظروں سے اوجھل ہے۔قارئین سے التماس ہے کہ سردی سے بچاؤ کے لئے مہنگے جتن نہ کیجئے گا، نہ ہی زیادہ خریداری کیجئے گا، بسیار خوری سے تو کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ بس ایک عمل آپ کو آنے والے موسم میں شمسی درجہ حرارت عطاء کرے گا۔ سادہ سا نسخہ ہے، ٹی وی لگایئے گا، اچھا سا نیوز چینل ٹیون کیجئے گا۔ مہنگائی اور سیاسی منظر نامے کی چٹخارے دار خبریں ملیں گی کہ آپ آگ بگولہ ہو جائیں گے۔ اب بتائیے، آپ کو سردی سے بچاؤ کے لئے قدرتی گیس اور گرم کپڑوں کی ضرورت رہے گی؟


ای پیپر