”ولیم“
10 اکتوبر 2020 (13:29) 2020-10-10

میں لا ن میں بیٹھا اخبار پڑھ رہاتھا۔گھر میں کام کرنے والے لڑ کے نے آکر بتایا کہ گیٹ پر ’ولیم‘ آیا ہے۔ میں نے کہا اُسے بُلا لو۔ولیم کی حالت دیکھ کر میں پر یشا ن سا ہو گیا۔اُسکی قمیض پھٹی ہوئی تھی اور اُس کی آنکھوں میں آنسوتیر رہے تھے۔نجا نے کو ن لوگ ہوتے ہیں جو خو بصور ت آنکھو ں میں آنسو برداشت کر لیتے ہیں۔میں تو بکھر جاتا ہوں۔اُس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔میں نے پوچھا ولیم کیا ہوا ہے۔خیر توہے۔آؤ میرے پاس بیٹھو۔کہنے لگا صاحب جی آپ نے اِ س پو لیس والے کو نوکری سے ضرور نکلوا نا ہے۔میں نے کہا ولیم بات کیا ہے۔کچھ بتاؤ تو پتہ چلے۔ وہ بات کرنے لگاتو آنسواُسکی آنکھوں سے نکل کر اُسکے گالوں پہ لڑ یو ں سے گِرِ نے لگے۔ کہنے لگا صاحب جی میں اپنے پرمٹ کے مطابق اپنا سودا لیکر ایک کسٹمر (customer)کو دینے جا رہا تھا۔ہو ٹل سے نکلتے ہی دو موٹر سائیکل سوارپو لیس والوں نے روک لیا۔میری تلاشی لینے لگے۔اُنھوں نے میری جیب سے پندرہ سو روپے نکال لیئے اور میری دو بوتلیں بھی رکھ لیں۔میں نے اُنھیں پرمٹ دکھانے کی کوشش کی اور اُنھیں بتایا کہ سب کچھ قانون کے مطابق ہے۔اس پر اُنھوں نے مجھے تھپڑ مارنا شروع کر دئیے۔میرے پندرہ سو روپے بھی لے گئے اور دو بوتلیں بھی۔ لیکن مجھے اُن کا دُکھ نہیں کیونکہ ایسا تو یہ پولیس والے ہر روز کرتے ہیں۔لیکن اُنھوں نے مجھے تھپڑ مارے ہیں وہ معاف نہیں کر سکتا۔اُسکا دُکھ اور غصہ دیکھ کر مجھے احساس ہواکہ سب سے بڑے تخلیق کار نے ہر انسان کے اندر کتنی نازک چیز رکھ دی ہے جسے عزتِ نفس کہتے ہیں۔اسے کوئی مجروح کرے تو انسان کی روح سے چیخیں نکل جاتی ہیں۔ ولیم پطرس مسیح کا چھوٹا بھائی تھا۔ پطرس چار پانچ سال سے ہر اتوار میری گاڑی دھونے آتا تھا۔ کبھی کبھار اُسکے ساتھ ولیم بھی ہوتا تھا۔ ولیم بڑا سٹائلش سا لڑکا تھا۔ جینز (jeans) کے اُوپر خوبصورت میچنگ شرٹ اور پاؤں میں جوگر اُس کا پسندیدہ پہناوا تھا۔چُلبلا اور ہنس مُکھ سا۔اُس کی آنکھیں موٹی موٹی اور خوبصورت تھیں۔شکر ہے خوبصورت آنکھیں بازار میں نہیں بکتیں ورنہ قیمتی گاڑیوں کی طرح یہ بھی صرف امیروں کے پاس ہوتیں۔سانولے رنگ پر خوبصورت آنکھیں کچھ زیادہ ہی اچھی لگتی ہیں۔میں اُسے کہا کرتا تھا ولیم تم تو انگلش فلموں کے ہیرو لگتے ہو۔میں نے پہلی مرتبہ اُسے اتنے غصے میں دیکھا تھا۔اُس کے غصے میں بے بسی کی آمیزش تھی۔میں نے اُسے تسلی دینے کی خاطر کہاکہ ہاں ولیم اُس پولیس والے کا ضرور کوئی بندوبست کریں گے۔ولیم کہنے لگاصاحب جی آپ کو  تو معلوم ہے پطرس اپنے بیوی بچوں کے ساتھ علیحدہ رہتا ہے۔یہ اکیلا میں ہی ہوں جو بوڑھے ماں باپ اور تین بہنوں کا خرچہ اُٹھاتا ہوں۔صبح سے لیکر شام تک سارے شہر میں بھاگتا رہتا ہوں۔میری تو کوئی چھٹُی بھی نہیں ہوتی اور یہ جو میرے کسٹمر (customer)ہیں ان کا تو کوئی ٹائیم ہی نہیں ہوتا۔کوئی رات ایک بجے فون کر رہا ہے۔توکئی صبح ناشتہ ہی اِسی زہر سے کرتے ہیں۔ پرمٹ کے حساب سے جتنا میرا کوٹہ ہوتا ہے میں اُتنا ہی بیچتا ہوں۔ صاحب جی آپ حیران ہوں گے میں نے اس زہر کا آج 

تک ذائقہ تک نہیں چکھا۔ہاں کبھی کبھار میرا بوڑھا اور بیمارباپ شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ منڈلی سجاتاہے۔ صاحب جی اس شہر میں جتنے فائیو سٹار ہوٹل ہیں ان کے اردگرد پولیس والے چیلوں کی طرح،صبح سے شام تک جھپٹے رہتے ہیں۔ ان کی پوسٹنگ چاہے شاہدرہ میں ہو چاہے کاہنہ میں۔انھوں نے شکار کی تلاش میں ان ہوٹلز کا چکر ضرور لگانا ہے۔ مجھے ولیم کی بے بسی دیکھ کر اس ملک میں جاری نظام سے نفرت سی ہونے لگی۔ میں غریب خاندانوں کے اُن نوجوانوں کو بہت عزت وقدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جو سارا دِن محنت 

و مزدوری کر کے شام کو اپنے ماں باپ اور فیملی کیلیئ کچھ لے جاتے ہیں۔ بجاے ئ  امیروں کے اُن بے غیرت بچوں کے جو اپنے ماں باپ کی دولت پر عیاشی کرتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ولیم کہنے لگا مجھے نہیں معلوم کہ یہ سچ ہے کہ جھوٹ لیکن ہوٹلز کے لڑکے کہتے ہیں کہ اِن ہوٹلز والوں کی طرف سے متعلقہ تھانوں کو منتھلی بھی پہنچتی ہے۔ صاحب جی سُنا ہے پولیس کے محکمے میں کچھ افسران اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مقابلے کے امتحان کے ذریعے آتے ہیں، کیا اُنہیں رشوت لیتے اُن کا ضمیر مُلامت نہیں کرتا۔ کہنے لگا ہمارے ملک میں شراب پینا قانوناًجُرم ہے۔لیکن یہ کیسا قانون ہے جس کی خلاف ورزی ہر طبقے کے لوگ کر رہے ہیں۔کسی اور کی کیا بات کروں خود میرے کسٹمر اعلٰی افسران،کاروباری حضرات، ڈاکٹرز اور کِس کِس کا نام لوں خود پولیس والے بھی اپنی محفلیں اِسی سے سجاتے ہیں۔لیکن اِن کی کوشش ہوتی ہے کہ کہیں سے مفتا لگ جائے۔اِسی لیے کوئی لڑکا اِن کودینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ صاحب جی کیا بتاؤں اِسکی کتنی ڈیمانڈہے۔اپنے ملک میں اِسے تیار کرنے والی فیکٹریاں رات دِن کام کر رہی ہیں لیکن ڈیمانڈ پوری نہیں ہو پاتی۔ائیر پورٹ پر باہر سے آنے والی پروازوں کی آمد کے وقت دیکھیں۔کسٹم والے کچھ نکال رہے ہوتے ہیں اور کچھ پکڑ رہے ہوتے ہیں۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ چونکہ ڈیمانڈ پوری نہیں ہو تی اسلیے لوگوں نے اپنے گھروں میں جعلی شراب کی فیکٹر یاں لگا رکھی ہیں اور اِسے غیر ملکی اور لوکل شراب کی بوتلوں میں ڈال کر بیچتے ہیں۔آپ اخباروں میں پڑھتے ہوں گے کہ اِسکے پینے سے کئی کی آنکھیں ضائع ہو گئیں تو کئی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ کیسا قانون ہے جس کا مذاق صبح و شام اُڑایا جا رہا ہے،لیکن ہماری برادری کیلیئے تو یہ بہت اچھا دھندہ ے ورنہ آپ لوگوں کے پاس تو ہمارے لیے سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ اور میونسپل کارپوریشنوں کی نوکری کے سوا کچھ بھی نہیں۔آپ تو اخبارہر روز پڑھتے ہیں آپ کو تو معلوم ہو گا کہ دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک میں زیادہ شراب پینے والوں میں ہمارے ملک کا آٹھواں نمبر ہو گیا ہے۔ولیم کھڑا ہو گیااور کہنے لگا صاحب جی کل میں چکر لگاؤں گا۔آپ نے اِن پولیس والوں کا کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔آپ نے کچھ نہ کیا تو میرا ایک کسٹمر ہے جو پہلے کسی ڈویژن میں کمشنر تھا اور اب سکریٹریٹ میں ایک اہم محکمہ کاسکر یٹری ہے۔پھر اُس کے پاس جاؤں گا۔ صاحب جی میرے کسٹمر مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے دِن ولیم نہ آیا۔میں نے سوچا کہ ولیم بھی اِس ملک کے لاکھوں شہریوں کی طرح صبر کا پیالہ پی کر غم کی چھاؤں میں سو گیا ہو گا۔


ای پیپر