پلک جھپکتے ہی!
10 اکتوبر 2020 (13:13) 2020-10-10

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کئی بار یہ محاورہ سنتے ہیں کبھی خبروں میں کبھی گفتگو کے دوران کہ مجرم پلک جھپکتے ہی فرار ہوگیا، صحافی نے پلک جھپکتے ہی سامعین تک عدالتی کاررائی پہنچا دی یا مجرم پلک جھپکنے ہی اجنبی بچے کو لے کر راہ فرار اختیار کرگیا۔  یا کسی اشتہار کے الفاظ جادوئی ایلو ویرا کے پلک جھپکتے میں ملنے والے فوائد۔

اسی طرح اس محاورے کو کئی شاعروں نے اپنے اشعار میں استعمال بھی کیا ہے پروین شاکر کا ایک شعر دیکھیے! 

وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا

پلک جھپکتے، ہَوا میں لکیر ایسا تھا

کچھ نے تو پلکوں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد کردی ہے یہ ہمارے خوابوں کی محافظ بن بیٹھی ہیں۔

خواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چنے رہتے ہیں 

کون جانے وہ کبھی نیند چرانے آئے

اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم ے تو بس آج تک اللہ کی نعمتوں کو استعمال ہی کیا ہے کبھی ان پر غور نہیں کیا کہ ان کا مقصد کیا ہے اور ان کا کبھی بھی باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا کبھی اس پر اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔ 

پلک جھپکنے کا تذکرہ اللہ نے قرآن پاک کی سورہ النمل آیت چالیس میں کچھ یوں کیا ہے۔

جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بولا ''میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں '' جونہی کہ سلیمانؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اٹھا ''یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے۔

بے شک اللہ پلک جھپکنے کی دیر میں بھی بہت کچھ کر سکتا ہے۔  ہماری پلکوں میں چند عضلات ہوتے ہیں۔ یہ عضلات ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج 

نہیں۔دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اِس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لئے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لئے تیار ہیں۔

ہم جب تک جاگتے رہتے ہیں ہماری پلکیں خود بخود جھپکتی رہتی ہیں‘ جب ہم سوجاتے ہیں تو وہ ہماری آنکھوں کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ہماری پلکیں وہی کام کرتی ہیں جو کیمرے میں شٹر کرتا ہے۔ شٹر کیمرے کے لینسز کو ڈھانپنے کے کام آتی ہیں اور وہ صرف اس وقت کام کرتا ہے جب ہم تصویر لینے کیلئے اس کا بٹن دباتے ہیں۔ شٹر کیمرے کے اندر فلم کو گرد و غبار سے محفوظ رکھتا ہے۔ پلکوں اور پپوٹوں سے سوتے وقت بھی ہماری آنکھوں کو بہت آرام ملتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنی ایک پلک کے اشارے پر ایک صحافی جان بوبی نے پوری کتاب لکھ ڈالی۔ 

“The Diving Bell and the Butterfly”

فالج کے باعث بوبی کی جسمانی صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ گرد و پیش کی آوازیں سن سکتا تھا بائیں آنکھ سے دیکھ سکتا تھا اور پلک جھپک کر اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار بھی کر سکتا تھا۔ بوبی کی زندگی اب ایک پلک پر کھڑی تھی اس نے باقی زندگی ایک پلک کے ذریعے گذارنی تھی۔ بوبی ایک ایسی کتاب لکھنا چاہتا تھا کہ رہتی دنیا تک اس کا نام قائم رہے لیکن معذوری کے بعد اس کی خواہش کی تکمیل ممکن نہیں تھی۔ اس نے پلک کے ذریعے کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا اس کی بیوی نے اس دوران اس کے ساتھ کمیونیکیشن کا طریقہ ایجاد کر لیا تھا وہ بوبی سے سوال پوچھتی تھی اور بوبی جس بات پر پلک جھپکا دیتا تھا اس کا مطلب ہاں ہوتا تھا اور جس بات پر وہ پلک نہیں جھپکتا تھا اس کا مطلب انکار ہوتا۔ اس کی بیوی نے کتاب لکھنے کے سلسلے میں اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اس نے ایک اسسٹنٹ ہائرکیا یہ اسسٹنٹ ٹائپ رائٹر لے کر بوبی کے سامنے بیٹھ جاتا۔ اسسٹنٹ A سے لے کرZ تک حروف تہجی بولتا بوبی کی بیوی اس کی پلک کی طرف دیکھتی رہتی اور جس حرف پر وہ پلک جھپک دیتا یہ لوگ وہ حرف ٹائپ کر دیتے۔

اس کے بعد دوبارہ حروف تہجی بولے جاتے اور بوبی جس حرف پر پلک جھپک دیتا وہ بھی ٹائپ کر دیا جاتا یہ حروف آہستہ آہستہ لفظ بن جاتے اور لفظ تھوڑی دیر بعد فقرے بن جاتے یہ لوگ روزانہ چارگھنٹے کتاب لکھتے تھے یہ مشق ایک سال تک مسلسل جاری رہی۔ بوبی دو منٹ میں ایک لفظ مکمل کرواتا تھا اس نے ایک سال میں 2 لاکھ مرتبہ پلک جھپکائی یہ کتاب 1997 میں مکمل ہوئی اور 6 مارچ 1997 کو اس کا پہلا ایڈیشن مارکیٹ میں آ گیا۔ پہلے دن اس کی 25 ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں ہفتے میں اس کی فروخت ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی اور ایک ماہ بعد یہ کتاب یورپ کی بیسٹ سیلر بن گئی یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو پلک سے لکھی گئی اور لکھنے والوں نے یہ کتاب ایک ایک حروف جوڑ کر مکمل کی اور بوبی نے ثابت کر دیا  کہ اگر آپ کی ایک پلک بھی سلامت ہے تو آپ اس سے بھی کمال کر سکتے ہیں۔ یہ کتاب 6 مارچ کو مارکیٹ میں آئی بوبی کی بیوی نے بازار سے ایک کاپی خریدی اور بھاگتی ہوئی اس کے کمرے میں گئی یہ کتاب بوبی کی زندہ آنکھ کے سامنے رکھی اور چلا کر بولی بوبی تم کامیاب ہو گئے دنیا میں اب تمہارا نام ہمیشہ قائم رہے گا بوبی کی زندہ پلک رقص کرنے لگی وہ تیزی سے پلک جھپک رہا تھا۔ بوبی کی بیوی کو محسو س ہوا کہ وہ پلک کے ذریعے اپنی کا میابی پر تالیاں بجا رہاہے اس کی بیوی نے بھی تالیاں بجانا شروع کر دیں تالیوں کی اس گو نج میں بوبی کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اس کتاب کی تکمیل کے لیے زندہ تھا۔

ادھر ماہرین نے کئی سال کی محنت کے بعد چپ پر مصنوعی آنکھ بھی تیار کرلی ہے جو پلکوں سے لیس ہے۔ القرآن پرعمل غیرمسلم کر رہے ہیں اورادھر ہم سوشل میڈیا، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے دجالی فتنوں میں الجھے ہیں۔

  پلک جھپکتے ہی وقت بیت جانا ہے 

قدر کرو جو رب نے دیا خزانہ ہے


ای پیپر