میانمار یورپی یونین کی طرف دیکھنا چھوڑ دے
10 اکتوبر 2020 (13:01) 2020-10-10

روہنگیا کے خلاف نسل کشی کی حوالے میں میانمار اور دیگر عالمی کھلاڑیوں کے مابین تعلقات کے ارتقا کا ایک سب سے اہم پہلو اسے یورپی یونین کی طرف سے مستقل تعاون کا حاصل ہونا ہے۔ اس صورتحال میں یورپی رہنما غیر اخلاقی فیصلے کر رہے ہیں۔2008 میں طوفان (نرگس) کے معاملہ میں بدانتظامی کے بعد، میانمار پر حکومت کرنے والے فوجی آمر کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہ رہ گیا لہٰذا یہ ملک نئے آئین کے ساتھ جمہوریت کی راہ پر چل نکلا۔ مغرب میں اس کو انقلاب کی حیثیت سے پیش کیا گیا، جس کی اخلاقی اور مالی مدد کی جانی چاہئے تھی۔ جمہوری عمل کے لئے صعوبتیں برداشت کرنے پر نوبل انعام یافتہ آنگ سان چوچی سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں کہ وہ سویلین حکومت میں عوام کے بنیادی حقوق کی حفاظت کی ضامن ثابت ہوں گی۔ مغربی طاقتوں اور عالمی برادری نے بڑی فراخ دلی کے ساتھ میانمار کو امداد فراہم کی، یورپی یونین اس سلسلہ میں سب سے بڑا حصہ دار تھا۔ سوکی حکومت 2016 میں برسراقتدار آئی۔ کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ جس سویلین حکومت کی اس کی توقعات سے بڑھ کر امداد کر رہے ہیں وہ اپنے قیام کے صرف ایک سال بعد، افواج کے ذریعے بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ روہنگیا مسلم اقلیت کی نسل کشی اور میانمار کی تاریخ کی انسانی حقوق بدترین پامالی کرے گی۔اس صورت حالات نے واضح کیا کہ آئینی تبدیلیوں کے باوجود، یہ اب بھی پرانا میانمار ہی ہے۔ لیکن وہ بات جس سے مغربی مبصرین کو انگشت بدندان کیا وہ یہ ہے کہ سوکی نے نا صرف اس نسل کشی کی مذمت نہ کی بلکہ وہ فوج کے اقدامات کی مغرب بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے وکالت بھی کرتی رہی۔

میانمار میں روہنگیا کے خلاف ”کلیئرنگ آپریشنز“ سے 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جو 2017 کے شروع میں ہی باقی رہ جانے والی مسلم آبادی کی بڑی اکثریت ہے لیکن میانمار کی فوج اور سویلین حکومت نے اسی پر بس نہیں کی اور روہنگیا عوام کی شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس افسوسناک کہانی میں تازہ ترین اضافہ ایک انتخابی ایپ ہے جو ملک میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں میانمار کے رائے دہندگان کو اپنے علاقے میں دستیاب امیدواروں کے بارے میں آگاہی دینے کے حوالے سے  تیار کی گئی ہے۔ اس ایپ میں جان بوجھ کر چند روہنگیا افراد کو بھی ”بنگالی“ کے طور پر انتخابات کے لئے کھڑے ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ فوج اور خود سوچی نے یہ لفظ استعمال کیا ہے کہ روہنگیا ”غیر ملکی“ اور ناجائز تارکین وطن ہیں اسی وجہ سے انہیں ان کے باپ دادا کی سر زمین کی طرف بے دخل کر دیا جائے گا۔ایپ کو یورپی یونین کی مالی اور تکنیکی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ میانمار میں ترقی اور استحکام کے لئے یونین کی دیرینہ پالیسی کا حصہ ہے، جو طوفان نرگس کے بعد جمہوریت کے آغاز اور فوجی حکومت کے خاتمہ کے حوالے سے ترتیب دی گئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں، یورپی یونین نے ایک ایسی ایپ کی تیاری میں مدد کی ہے جسے میانمار کی حکومت اب روہنگیا شناخت کو مٹانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔

بدقسمتی سے، یورپی یونین کا ابھی تک یہی خیال ہے کہ اس کی میانمار میں نام نہاد ”جمہوریت نواز“ اقدامات کی مسلسل حمایت کسی نہ کسی طرح ”بہتری اور بھلائی“ کا باعث ہے۔ یہ دیوار پر لکھی اس حقیقت کے برعکس ہے کہ میانمار کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں سوچی کی ”جمہوری“ حکومت کے وجود میں آنے کے بعد رونما ہوئی ہیں اور وہ اور اس کی پوری جماعت دونوں ہی اس رویہ پر معذرت خواہ ہونا تو کجا بلکہ روہنگیا نسل کشی کے حامی ہیں۔ یہ پاگل پن ہے اور اخلاقی طور پر ناقابل معافی۔ کبھی بھی نسل کشی ہوتے دیکھ کر اس کی طرف سے آنکھیں بند کرنے سے بڑی اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی ہے۔ یورپی یونین کے پاس روہنگیا نسل کشی کے بعد میانمار کے حوالے سے اپنے موقف کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے دو سال کا وقت تھا۔ یہ وقت گزر چکا، برسلز اِدھر اُدھر کی ہانکنا بند کرے اور اپنی بنیادی اقدار پر قائم رہتے ہوئے روہنگیا نسل کشی کی واضح مخالفت کرے۔ اس حالیہ واردات کے بعد، جب میانمار کی حکومت نے فوج کو روہنگیا نسل کشی کی کھلم کھلا اجازت دے دی ہے اور ان کو بنگالی قرار دیا جا رہا ہے تو یورپی یونین کو میانمار کی حمایت اور امداد سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔ میانمار کو دی جانے والی امداد کو روہنگیا سمیت تمام ریاستی باشندوں اور مکمل جمہوریت سے مشروط کیا جانا چاہیے تاکہ نسل کشی کی حوصلہ شکنی کی جا سکی۔

(بشکریہ: عرب نیوز08۔ اکتوبر2020)


ای پیپر