file photo

چارسدہ میں اڑھائی سالہ بچی سے زیادتی اور قتل،ایک شخص نے اعتراف جرم کرلیا
10 اکتوبر 2020 (12:42) 2020-10-10

چارسدہ: اڑھائی سال کی   بچی سے زیادتی  اور قتل معاملہ  پر پیش رفت،مشتبہ افراد میں سے ایک نے اعتراف جرم کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق 

چارسدہ میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی ڈھائی سالہ زینب کا قاتل پکڑا گیا، ملزم نے اعتراف جرم کرلیا ہے، آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔ پولیس کو تاحال بچی کی ڈی این اے رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق، پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا، جہاں ملزم نے جج کے سامنے جرم کا اعتراف کیا۔

چارسدہ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیر حراست ملزمان سے تفتیش کی جارہی ہے، میڈیکل ٹیم آج مزید 100 مشتبہ افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرے گی۔

دوسری جانب پولیس گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے۔ ڈی ایس پی سٹی سرکل بشیر یوسف زئی نے گرفتاری کی تردید کر دی، بتایا کہ زینب قتل کیس میں کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اب تک 385 افراد سے تفتیش کی گئی، جن میں سے 350 افراد کو چھوڑ دیا گیا۔

ڈی ایس پی سٹی سرکل نے بتایا 35 مشتبہ افراد ابھی پولیس کی حراست میں ہیں، ان سے تفتیش کی جارہی ہے، کوئی پیشرفت ہوئی تو عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز چارسدہ میں انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا تھا جہاں اغوا ہونے والی ڈھائی سالہ بچی کی لاش علاقہ جبہ کورونہ سے برآمد ہوئی ہے۔ معصوم کی لاش کھیتوں میں پڑی ہوئی ملی۔ زینب کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔ مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔

پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈھائی سالہ بچی زینب کو چند روز قبل اغوا کیا تھا۔ اسے قتل سے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ادھر ہسپتال انتظامیہ نے بھی بچی کیساتھ زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں جبکہ لاش پر کسی جانور کے پنجے کے بھی نشان موجود ہیں۔

ڈی پی او چارسدہ کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ جائے وقعہ کی جیو فینسنگ کر لی گئی ہے جبکہ بچی کے ڈی این اے سیمپلز فرانزک لیبارٹری بھجوا دیئے گئے ہیں۔ جبکہ مقدمہ درج کرکے پوری تندہی سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ مقدمے میں اغوا اور قتل کی دفعات بھی شامل ہیں۔ اس اندونہاک واقعے کی تحقیقات کیلئے ایس پی انویسٹی گیشن درویش خان کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اور دیگر حکام کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کسی صورت قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے اور ملزمان کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔


ای پیپر