درسی کتابوں میں سنگین غلطیاں!
10 اکتوبر 2020 (12:13) 2020-10-10

تعلیم کے شعبے میں تباہ کاریاں‘ غفلتیں اور کوتاہیاں یکساں نصاب تعلیم کی تیاری کے وقت عیاں ہو کر سامنے آچکی ہیں اور پنجاب میں ٹیکسٹ بک بورڈ کی غفلتیں اور تباہ کاریاں بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کو انکے عہدے سے عجلت میں ہٹانے کے بعد خود ان کی زبانی سامنے آرہی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس اہم شعبہ زندگی اور تعلیم کے اس کلیدی ادارے میں مجرمانہ غفلت اور مفاد پرستی کس درجے کی رہی ہے۔

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے سابق منیجنگ ڈائرئکٹر رائے منظور حسین ناصر کو ہٹائے جانے کی بازگشت روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر کافی سنائی دیتی رہی ہے۔

رائے منظور حسین ناصر کا کہناہے کہ وہ صوبائی انتظامی سروس (پی ایم ایس) کے افسر ہیں اور اب تک چار اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سمیت کئی اہم عہدوں پر تعینات رہے ہیں انہیں اس سال فروری میں پنجاب ٹیکسٹ بورڈ میں منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ چارج سنبھالنے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تو ٹیکسٹ بورڈ کی تیار کردہ کتب پڑھائی جارہی ہیں جن کو ماہر اساتذہ تیار کرتے ہیں اور ماہرین کی کمیٹیاں ان کا ہر پہلو سے جائزہ لے کر قابل اشاعت قرار دیتی ہیں۔ لیکن پرائیویٹ اسکولوں اور انگریزی میڈیم اسکولوں میں تقریباً 10 ہزر ایسی کتب پڑھائی جارہی ہیں جو ٹیکسٹ بک بورڈ کی تیار کردہ ہیں نہ بورڈ کی باقاعدہ اجازت سے بچوں کو پڑھائی جارہی ہیں۔ ان کتب کو بورڈ کے علم میں لا کر ان پر این او سی حاصل کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں خصوصاً جدید اور مہنگے سکولوں نے یہ تردد ہی نہیں کیا اور اردو بازار کے پبلشرز کے ذریعے ان کتابوں کو دھڑا دھڑ چھپوا کر بچوں کے حوالے کر دیا۔ یہ کتب سالہا سال سے ان اسکولوں میں پڑھائی جارہی ہیں۔ رائے منظور ناصر نے ایسی بہت سی کتب اکٹھی کیں تو ایک نیا انکشاف ہوا کہ ان کتب پر نہ تو تاریخِ اشاعت درج تھی نہ تعدادِ 

اشاعت۔ بیشتر پر قیمتیں بھی درج نہیں تھیں۔تب ان کتب میں درج مواد کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے  مختلف کمیٹیاں بنا دی گئیں۔۔ بورڈ کا عملہ ایک عرصے سے کام کرنے کا عادی نہیں رہا تھا۔ اکثر لوگ تفریحاً دفتر آتے‘ تنخواہ وصول کرتے اور چلے جاتے تھے۔ ان کمیٹیوں کے ذمہ داروں نے تین ماہ بعد رپورٹ پیش کرنے کا کہا جس پرایم ڈی نے ہدایت کی کہ روزانہ کی بنیاد پر کام کر کے رپورٹ مرتب کی جائے۔  ان کمیٹیوں نے پانچ سو کتب کا جائزہ لیا جن میں انکشاف ہوا کہ ان میں پروف کی ہزاروں غلطیاں ہیں‘ بہت سے غلط حقائق درج ہیں‘ بہت سے فیکٹس کو سالہا سال سے درست ہی نہیں کیا گیا‘ قرآنی آیات اور احادیث کی اشاعت میں سنگین غلطیاں کی گئی ہیں‘ بعض قرآنی سورتوں میں ایک آیت کے بعد اگلی آیت حذف ہے‘ بعض میں اگلی آیات کا ترجمہ موجود نہیں اور بعض کا ترجمہ مکمل طور پر غلط ہے جب کہ قرآنی آیات اور احادیث کی اشاعت میں اعراب کی اغلاط حد سے زیادہ ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت سے متعلق آیات اور احادیث کو حذف کر دیا گیا ہے‘ ماڈرن اور مہنگے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتب میں پاکستانی معاشرے کی نفسیات اور اخلاقیات کا سرے سے خیال نہیں رکھا گیا۔ ان کتب میں پڑھائی جانے والی کہانیوں کے تمام کرداروں کے نام انگریز بچوں یا بڑوں کے ہیں۔ پورا ماحول مغربی طرز کا ہے لیکن سب سے قابل اعتراض بات یہ ہے کہ ان میں بعض ایسی شرم ناک کہانیاں شامل ہیں جن کا تذکرہ بھی ہمارے معاشرے میں ممکن نہیں خصوصاً نوجوان بچیوں کو بعض ایسی کتابیں پڑھائی جارہی ہیں جن سے ان میں بے راہ روی اور جنسی آزادی کے خیالات پروان چڑھیں گے۔ چنانچہ رائے صاحب نے ایسی کتب کی اشاعت پر فوری پابندی لگا دی۔ ان کتابوں کی تعداد 100 ہے‘ یہ پابندی 23 جولائی کو لگائی گئی جس کے بعد ان کتب کی اشاعت اور فروخت جرم قرار پائی لیکن یہ تاحال مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں اور اسکولوں میں پڑھائی جارہی ہیں۔ رائے صاحب کے بقول ان کے اس اقدام کی زد میں آنے والے حلقے سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے یہ پابندی اٹھوانے کی کوشش کی اور ناکامی پر ائے صاحب کا تبادلہ کرا دیا جس کا انداز بہت دلچسپ ہے۔ ان کتب پر پابندی کے صرف 15 دن بعد 8 اگست 2020ء کو جب دفاتر میں ہفتے کی وجہ سے چھٹی تھی‘ دفتر کھلوا کر رائے صاحب کو اس عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن تیار کروایاگیا جو انہیں بھیجنے کے بجائے سوشل میڈیا‘ ٹی وی اور اخبارات تک پہنچا دیا گیا۔ رائے صاحب کو رات دس بجے بورڈ کے ایک ڈائریکٹر نے اسپیشل سیکرٹری ایجوکیشن کا پیغام پہنچایا کہ آپ فوراً عہدہ چھوڑ دیں ہمیں اوپر سے ہدایت آئی ہے۔ جس پر رائے صاحب نے کہا کہ وہ پیر کے روز قواعد کے مطابق دفتر آکر معاملے کو دیکھیں گے چنانچہ پیر کی صبح انہوں نے دفتر پہنچ کر اپنا چارج چھوڑ دیا۔ بدقسمتی سے ان 100 کتب کے علاوہ جن مزید 400 کتب کو گھنگالا گیا تھا یہ ریکارڈ اب بورڈ کے پاس ہے جس پر مزید کارروائی کی کوئی توقع نہیں۔ رائے منظور نے جن 100کتب کو بین کیا تھا وہ  مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں۔ اس سارے قضیے میں انتہائی سنگین قسم کی غفلت‘ کرپشن اور نااہلی کی بو آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ میں سالہا سال سے لمبی تنخواہیں لینے والے لوگ کیا کرتے رہتے ہیں جنہیں یہ بھی معلو نہیں کہ اسکولوں میں کیا پڑھایا جارہا ہے‘ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی پر مبنی کتب کس طرحٍ شائع ہو رہی ہیں اور سب سے اہم سوال یہ کہ تقریباً بیس سال سے پڑھائے جانے والے اس قابل اعتراض اور اغلاط سے پُر نصاب پر کسی استاد نے احتجاج نہیں کیا‘ لاکھوں والدین میں سے کوئی ایک بھی اس کے خلاف کھڑا نہیں ہوا‘ کسی بچے نے اس کی نشاندہی نہیں کی۔ کیا بورڈ کا عملہ محض غفلت کا شکار رہا یا اربوں روپے مالیت کی ان قابل اعتراض کتب کی اشاعت میں حصہ دار ہے۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ساتھ ہی پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھائی جانے والی دیگر کتب کے علاوہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اپنی تیارکردہ کتب کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔


ای پیپر