جھوٹے اور غدار کہیں کے !
10 اکتوبر 2020 2020-10-10

کہہ مُکرنیوں میں تو ہمارے موجودہ حکمران اپنی مثال آپ تھے ہی، اب ” کرمُکرنیوں“ میں بھی اپنی مثال آپ ہوتے جارہے ہیں، ظفراقبال کا شعر یاد آتا ہے”جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اِس پر ظفر.... آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے“ .... اتنے جھوٹے اور اتنے غیرسنجیدہ حکمران شاید ہی اپنی زندگی میں ہم نے دیکھے ہوں، صرف ایک کام سابق حکمرانوں کی طرح یہ بڑی سنجیدگی سے کرتے ہیں، وہ جھوٹ بولنے کا کام ہے، ہماری سیاست اور حکومت بغیر جھوٹ کے شاید چل ہی نہیں سکتیں، کسی کی حکومت میں یا کسی کی سیاست میں برکت شاید اِس لیے پیدا نہیں ہوتی اُس میں جھوٹ ہی جھوٹ ہوتا ہے، ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لیے یہ معمول کا ایک عمل ہے، حالانکہ آپ سے کسی نے پوچھا ” مجھ میں بے شمار خرابیاں ہیں، سب سے پہلے کون سی خرابی ترک کروں ؟“.... آپ نے فرمایا ”جھوٹ چھوڑ دو، یہ خرابیوں کی ماں ہے“ ....ہم نے جھوٹ کو خرابیوں کی ماں کے بجائے ”اچھائیوں کی ماں“ سمجھنا شروع کردیا، کچھ مہینے پہلے میں جاپان گیا۔ پاکستان کے علاوہ پہلی بار کسی ملک میں مستقل طورپر رہنے کو جی چاہا وہ جاپان ہے، وہ اِس لیے کہ وہاں لوگ جھوٹ نہیں بولتے، میں یہ سُن کر حیران رہ گیا جاپانیوں کو ”جھوٹ“ کا مطلب ہی معلوم نہیں، اُن کی لغت میں جھوٹ کے متبادل کوئی لفظ ہی نہیں ہے، شاید اِسی لیے اُن کے ہر کام ہرعمل میں برکت ہے، کسی نے جھوٹ سے مستقل طورپر چھٹکارا حاصل کرنا ہو، اِس لغت سے نجات حاصل کرنی ہو اُسے چاہیے کچھ مہینوں کے لیے جاپان چلا جائے، ہمارے حکمران ہمارے سیاستدان جاپان شاید اِسی لیے زیادہ نہیں جاتے کہیں اُنہیں سچ بولنے کی عادت نہ پڑ جائے، اور جاپان سے بہت بڑی تعداد میں لوگ شاید اِس لیے پاکستان نہیں آتے کہیں اُنہیں جھوٹ بولنے کی عادت نہ پڑ جائے، .... میں اکثر سوچتا ہوں ہماری حکومت ہرڈیڑھ دوبرسوں بعد غیر مستحکم ہوجاتی ہےں، مختلف مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں، خصوصاً ہمارے حکمران اپنی حکومت کے چلے جانے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اِس کی کیا وجہ ہے؟ ،میرے نزدیک اِس کی سب سے بڑی وجہ اُن کے بولے جانے والے وہ جھوٹ پہ جھوٹ ہیں جو اُن کی حکومت سے ہرقسم کی برکت ختم کردیتے ہیں۔ اتفاق سے کوئی اچھا کام بھی اُن سے ہو جائے، اُس میں بھی برکت نہیں ہوتی، .... اب تازہ ترین جھوٹ ہمارے حکمرانوں، بلکہ اپنی کمزور حکومت کے چلے جانے کے خوف میں مبتلا حکمرانوں نے یہ بولا کچھ سیاستدانوں کو غدار قرار دینے کی ایف آئی آر سے لاتعلقی کا اظہار کردیا، ....حکمرانوں کا خیال ہے اِس جھوٹ سمیت اُن کے ہر جھوٹ پر لوگ آنکھیں ودیگر اعضا ءوغیرہ بند کرکے اعتبار کرلیں گے کیونکہ جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں نہ صرف یہ کہ آج تک اُنہوں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا، اپنی کسی بات سے نہیں مُکرے بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ اُن کی پوری توجہ عوام کی حالت بدلنے پر رہی، اُنہوں نے ملک سے مہنگائی، کرپشن، لاقانونیت، سفارش، دھونس، دھاندلی جیسی لعنتیں مکمل طورپر ختم کردیں، لہٰذا اِس کے بعد اب وہ کوئی بھی جھوٹ بولیں لوگوں کے اُس پر اعتبار نہ کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی،.... اِس کے برعکس حقیقت یہ ہے جو درگت اِس ملک کی، اور اِس کے غریب عوام کی دوبرسوں میں اُنہوں نے بنادی ہے اُس کے نتیجے میں وہ غلطی سے کوئی سچ بول بھی دیں لوگ اُس پر اعتبار نہیں کریں گے، سوائے اُن کے جواُن کے تنخواہ دار ہیں یا اُن کے جنہیں سابقہ حکمرانوں سے کوئی ذاتی پرخاش ہے، دوبرسوں میں مختلف اقسام کی نااہلیاں دیکھا دیکھا کر، یا مختلف اقسام کے تماشے دکھادکھا کر مزید کوئی تماشا دکھانے کے لیے نہیں بچا تو اُسی طرح کی اوچھی حرکتیں شروع کردیں جو سابقہ حکمران کرتے رہے، بلکہ یہ دوہاتھ اُن سے بھی آگے بڑھ گئے، ”تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے“۔ اور وہ ”تبدیلی“ یہ ہے ہرشعبہ پہلے سے زیادہ بدحال ہے، خصوصاً مہنگائی نے عوام کا جینا تو ایک طرف مرنا بھی اِس اعتبار سے مشکل کردیا ہے حال ہی میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی فیس بڑھا دی ہے، جبکہ دوائیاں پہلے ہی مہنگی کردی گئی تھیں، .... یہ پہلی حکومت ہے جس نے آبادی کم کرنے کی پالیسی بلکہ ”کامیاب پالیسی“ یہ اپنائی ہے ہر شے مہنگی کردی، خصوصاً روٹی اتنی مہنگی کردی لوگ بھوک سے مرمرکر یہ ثابت کردیں سرکار کی مہنگائی زیادہ کرکے آبادی کم کرنے کی پالیسی واقعی کامیاب رہی ہے، جہاں تک غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا تعلق ہے، اِس ملک کے ساتھ جو کچھ ہم سب نے مل ملا کر کیا، اُس کے نتیجے میں ، کم ازکم میں یہ کہنے میں عارمحسوس نہیں کرتا اپنی اپنی طرز کے ہم سب ” غدار“ ہیں۔ میرے سمیت چوبیس کروڑ عوام پر غداری کی ایف آئی آردرج ہونی چاہیے ،اپنے اپنے طریقوں سے اِس ملک کو برباد کرنے ہر کسی نے کوشش کی، سوائے ہمارے موجودہ وزیراعظم کے، اِس وقت وہ اکیلے محب وطن ہیں، کیونکہ اِس وقت اُن کی حکومت ہے، ہم اُن کے ساتھ عشق کے درجے پر فائز تھے، ہم تب بھی اُنہیں ”محب وطن“ ہی سمجھتے رہے جب دھرنے میں کنٹینر پر کھڑے ہوکر وہ بجلی کے بل جلاتے تھے، لوگوں کو ہنڈی حتیٰ کہ سول نافرمانی پر اُکساتے تھے، اُن کے عشق میں گرفتاری سے ہرگز ہمیں رہائی نہ ملتی گر وہ اقتدار میں نہ آتے، ہماری بس آنکھیں ہی بندرہ گئی تھیں، اُن کے اقتدار میں آنے کے بعدوہ بھی کھل گئیں، اب اپنے اندر سے اُٹھنے والے ایک سوال کا جواب ہمیں نہیں مِل رہا، ماضی میں بجلی کے بِل جلانے، یا سول نافرمانی پر لوگوں کو اُکسانے کے عمل کو ہم نے غداری نہیں سمجھا تو اب کچھ سیاستدانوں کی محض اتنی سی بات پر غدار کیسے سمجھ لیں کہ ”قومی اداروں کو وہی کردار ادا کرنا چاہیے جو آئین کے تحت اُن کا بنتا ہے؟“ وزیراعظم خان صاحب نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں فرمایا ” مجھے کوئی شک نہیں اپوزیشن خصوصاً نواز شریف کے حالیہ بیانیے یا جارحانہ رویے کے پیچھے ہندوستان ہے“ .... خان صاحب نے گندی سیاست کو فروغ دینے کے لیے، یا اُس میں اپنا مزید حصہ ڈالنے کے لیے ایسے کہا تو اور بات ہے، لیکن اگر یہ درست ہے، اِس کے شواہد یا ٹھوس شواہد اُن کے پاس ہیں اور اِن شواہد کی تفصیلات وہ عوام کے سامنے نہیں لاتے پھر ایک ایف آئی آر اِس الزام کے تحت اُن کے خلاف بھی درج ہونی چاہیے کہ ایک ”تصدیق شدہ غدار“ کی غداری کے شواہد سامنے لانے میں نہ صرف اُنہوں نے غفلت برتی بلکہ اُس کے خلاف درج ہونے والی غداری کی ایف آئی آر سے لاتعلقی کا اظہاربھی کردیا .... یقین کریں ایک زمانہ تھا اپنے بزرگوں کی تربیت اور دین کے مطابق جھوٹ بولنے سے ڈرلگتا تھا، اب سچ بولنے سے ڈرلگتاہے کہ کہیں غداری کا کوئی الزام ہم پر بھی نہ لگ جائے .... ”سچ بولے گا قلم تیرا سر ہوجائے گا ....جھوٹ بول، زیادہ معتبر ہو جائے گا “ ....سو اِس معاشرے میں ”زیادہ معتبر“ ہونے کے لیے میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ” خان صاحب کی حکومت ہر معاملے میں پچھلی تمام حکومتوں سے بہتر جارہی ہے“!!


ای پیپر