حَسین، حُسین
10 اکتوبر 2020 2020-10-10

شہادت اہل بیت پہ مسلمان تو مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائیوں نے بھی اپنے دلوں کے پھپھولے جلادیئے، کہ شام غریباں، کیلئے نیک ومعصوم ومعطر بیبیوں کے خیمے تک جلادیئے اور یوں واقفان حال نے گھر کے چراغ سے گھروں کو جلادیا، مگر مشیت ایزدی یہ تھی، کہ جلنے والوں کو نہ صرف تاقیامت اور آخر جہان بلکہ آخرت میں بھی ایسی ”جلا“ دی، کہ اُنہیں جنت کا سردار بنادیا ، یقینا یہ حقیقت ہے کہ انسانیت کے سردار محمد مصطفی کی سرداری تاابد قائم رہی، آفرین ہے، ان کی بہادری، شجاعت، عظمت، دلیری وفا اور عہدوپیماں کی پاسداری کی جن کی بدولت جناب حفیظ تائبؒ

سنایا کس نے کلام خدا بہ نوک زباں

یہ زیر تیغ قعود وقیام کس نے کیا؟

دل وجگر کے سبھی داغ بن گئے ہیں چراغ

یہ آج ذکر اسیران شام کس نے کیا 

قارئین، آپ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ‘ حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ سے لے کر حضرت علی ہجویریؒ اور تمام بزرگان‘ خدام و عاشقان کے دیوان پڑھ لیں، ان کا ہرہر لفظ حرمت حسینؓ پر رطب اللسان ہے۔ حضرت حسینؓ ہمیشہ متابعت حق میں مصروف رہے، اور جب حق مفقود ہوا تو شمشیربدست میدان میں نکل آئے اور راہ خدا میں خاندان سمیت سرقربان کیے بغیر نہ رہ سکے، پیغمبر خداحضرت محمد مصطفیٰ نے آپ کو متعدد نوازشات سے سرفراز فرمایا۔ حضرت امام حسینؓ طریقت میں کلام لطیف فرماتے تھے، بہت سے انمول اور بیش کام ارشادات ورموز ان سے مذکور ہیں ان کا قول ہے، تیرا سب سے زیادہ شفیق بھائی تیرا دین ہے، آدمی کی نجات دین کی متابعت میں ہے، دین کی مخالفت باعث ہلاکت ہے۔ 

دانائی یہی ہے کہ انسان اپنے شفیق بھائی کی مرضی پر چلے، اس کی دینی شفقت کا احساس اور یقین کامل رکھے۔ کہتے ہیں، ایک دفعہ ایک دن کوئی شخص حضرت امام حسینؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کی کہ میں درویش ہوں، اور میرے اہل عیال بھی ہیں، آج رات کے لیے کھانا کھانا چاہتا ہوں، آپ نے کہا کہ بیٹھ جاﺅ، میرا رزق آرہا ہے، تھوڑی دیر بعد خلیفہ وقت کی طرف سے پانچ تھیلیاں اشرفیاں (دینار) آئے، ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار تھے، لانے والے نے عرض کیا، کہ خلیفہ کہتے ہیں، کہ فی الحال آپ یہ رکھیں ، بقیہ اور انتظام کیا جارہا ہے، یہ رقم اپنے خدمت گزاروں پر خرچ کریں۔ حضرت امام حسین ؓ نے ساری تھیلیاں اتباع رسول میں اس سائل درویش کو دے دیں، بلکہ یہ بھی فرمایا کہ آپ کو بہت زحمت ہوئی، بہت انتظار کرنا پڑا، اگر ہمیں معلوم ہوتا، اس قدر تکلیف انتظار نہ دیتے، کیا کریں ہم ”بتلائے بلا“ ہیں اور دنیا کی راحتوں کو ترک کردیا ہے اس مقاصد کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، کہ زندگی کو اوروں کی خدا بسر کرنا چاہیے، آپ کے مناقب کسی سے بھی پوشیدہ نہیں اور اسی جماعت میں وارث نبوت ، چراغ امت، سید مظلوم، امام مرحوم ، عابدوں کے سرتاج ابوالحسن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ، جو اپنے زمانے میں سب سے زیادہ عابد اور مکرم تھے، اظہار حقیقت اور دقیقہ گوئی میں بھی مشہور تھے، لوگوں نے ان سے پوچھا ، دنیا اور آخرت میں زیادہ سعادت کس کو نصیب ہے، فرمایا وہ شخص جو راضی ہوکر باطل کی طرف مائل نہ ہو، اور ناراض ہوکر حق کو نہ چھوڑ جائے اور یہ اہل استقامت کا کمال ہے، باطل کو برداشت کرنا، باطل ہے، اور ناراض ہوکر حق کو بھی چھوڑ دینا باطل ہے، مومن کبھی مبتلائے باطل نہیں ہوتا، قارئین کرام، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے، کہ حضرت امام حسینؓ ، جب مدینے شریف سے چلے تھے، تو انہوں نے اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ کے مرقد مبارک پہ الوداعی حاضری کے وقت، جب ان سے اجازت مانگی تھی، تو نانا اور نواسہ کو انجام کوفہ، وکرب وبلا کا پتہ تھا ہمارے رسول پاک تو اس وقت سے باخبر تھے، جب حضرت امام حسن وحسین، ابھی نونہال بھی نہ تھے، تو ان کو ان کے رتبہ شہادت کا پتہ تھا، حتیٰ کہ انہوں نے اس وقت کربلا کی خون آلود مٹی بھی دکھا دی تھی، ظاہر ہے، انسانیت کی جان کے جان جہان حضرت امام حسنؓ اور حسینؓ کے درجات ، دنیا و آخرت اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس قدر بڑھا دیئے کہ نہ ان کے مثل کوئی اور ہے اور نہ کوئی مثال ہے کیا جنت کے سردار ہونا کسی اور کا ممکن ہے؟ یہ وہ منصب اور درجہ ہے کہ رسول پاک سے جسمانی مشابہت حسین اور دینی فہم رکھنے والی ہستی ہی اسی کی سزاوار ہے۔ 

چرچا ہے، جہاں میں تیری تسلیم ورضا کا

زیبا ہے ،لقب تجھ کو امام الشہدا کا!

کیا بات تیرے فرق شفق رنگ کی مولا

کیا کہتا ہے تیرے لب قرآن سرا کا 

(جاری ہے)


ای پیپر