ملکی معیشت ، تا جر اور عوام
10 اکتوبر 2019 2019-10-10

کسی بھی ملک میں جب مہنگا ئی حد سے بڑھتی جا رہی ہو تو اس ملک میں جہا ں عوام کی مفلو ک الحا لی ا نہیں ذلت کے گڑھو ں میں دھکیل دیتی ہے تو وہیں صنعت کا پہیہ جا م ہو کر وہا ں کے تا جر وں کو بھی متا ثر کر نے لگتا ہے۔بد قسمتی سے اِن دنو ںو طنِ عز یز کی ملکی معیشت کو تاریخ اور عصر حاضر کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ واشگاف زمینی حقائق ہیں جن سے عوام کو سابقہ پڑتا ہے۔ ہرروز کسی نہ کسی بے بنیاد افواہ یا قیاس آرائیوں کے باعث تجارتی سرگرمیاں محدود ہونے اور بزنس کمیونٹی کی تشویش میں اضافے کی خبریں آتی ہیں۔ اقتصادی امور پر تضادات سے آلودہ تبصروں کا بازار گرم ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور جرائم ایسے لازم و ملزوم ایشوز ہیں کہ اسے بدقسمتی سے حکومت کے معاشی مسیحائوں میں کوئی پذیرائی نہیں ملتی۔ اسی طرح بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عام آدمی کی زندگی جن مصائب میں مبتلا ہے اس کا حکمرانوں کو کوئی ادراک نہیں۔ ادھر بے اندازہ قرض لینے سے پیداشدہ مسائل پر ارباب اختیار کا نقطہ نظر ایک ہی استدلال سے پیوست ہے کہ سب کچھ تو پچھلی دو حکومتوں کا بیس سال کا کیا دھر اہے، ہمارا اس سے کیا لینا دینا۔ جبکہ ماہرین معیشت کے نزدیک پہلوتہی اور حقیقت سے گریز کا رویہ اور حکمت عملی میں یکسانیت غیر حقیقت پسندانہ ہے اور یہی انداز فکر اس ساری خرابی کی جڑ ہے۔ یوں معاشی جمود اور اقتصادی بریک تھرو کا ہر امکان میڈیا میں لایعنی بحث اور کنفیوژن کی شکل میں نکلتا ہے۔ ایک طرف حکومت معاشی صورت حال سے غیرمعمولی الجھن کا شکار ہے۔ دوسری جانب معاشی مسیحائوں کے پاس کسی درد کا کوئی درمان نہیں کہ کریں تو کیا کریں۔ بنیادی حقیقت قطعی واضح ہے کہ معاشی پالیسیوں میں سمت کے تعین کا فقدان ہے۔ پالیسی یہی ہے کہ کوئی پالیسی نہیں جبکہ ایک مربوط اقتصادی، مالیاتی اور معاشی روڈ میپ کے بغیر کام کیسے چلے گا۔ یقینی معاشی سفر کے شاندار آغاز سے معذوری تو پوری معیشت کو مفلوج منظر سے جوڑ دے گی اس کا حکومت کوفوری احساس ہونا چاہیے۔بلاشبہ ہر ذی شعور پاکستانی کے لیے آج معاشی بے یقینی ایک سوالیہ نشان ہے۔ عوام معاشی ریلیف چاہتے ہیں۔ ایک ایسے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام سے جڑنے کا انہیں احساس ملنا چاہیے جو مملکت کے ستونوں میں یکجائی، استحکام اور ہم آہنگی کا مظہر ہو۔ جس کا سیاسی مفروضوں سے کوئی تعلق نہ ہو یا حکومتی اقتصادی سمت سازی سے کسی مخاصمت کا شائبہ نہیں ملتا۔ سب کو نظر آنا چاہیے کہ حکومت کس سمت ملکی معیشت کے قافلے کو لے جانے پر کمر بستہ ہے۔ یہ تو قوم کو یقین ہونا چاہیے کہ معاشی لحاظ سے ’’منزل کہاں ہے تیری اے لالہ صحرائی‘‘۔ مزید برآں حکومتی ترجیحات شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے ہوں۔ مہنگائی بے قابو ہے۔ ایک سال میں مہنگائی کی رفتار دگنی ہوگئی۔ ستمبر میں افراطِ زر کی شرح 11.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ کھانے پینے کی اشیاء، بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، صحت و تعلیم کے اخراجات اور تعمیراتی میٹریل بھی مہنگا ہوگیا۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر 2018ء میں افراطِ زر کی شرح 5.4 فیصد تھی۔ جولائی تا ستمبر میں افراطِ زر کی شرح 10.08 فیصد رہی۔ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح ستمبر میں 116 فیصد رہی۔ اگست میں شہری مہنگائی 10.6 فیصد تھی۔ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد رہی۔ ستمبر 2018ء کے مقابلے میں ستمبر 2019ء میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمت میں 15.83 فیصد اضافہ ہوا، پھر سبزیوں اور دیگر تازہ غذائی اجناس کی قیمت میں 26.68 فیصد، گھروں کے کرایوں، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 6.62 فیصد، صحت کے اخراجات ایک سال میں 11.67 فیصد، تعلیمی اخراجات میں 6.18 فیصد، ٹرانسپورٹ کی لاگت 17.76 فیصد، ملبوسات اور فٹ ویئرز کی قیمتیں 8.94 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک سال میں پیاز 109 فیصد، مرغی 78 فیصد، آلو کی قیمت 36 فیصد، دال ماش 36 فیصد، تازہ سبزیاں 28 فیصد مہنگی ہوئیں۔ خوردنی تیل کی قیمت 20 فیصد، گھی کی قیمت 18 فیصد بڑھ گئی۔ چائے کی پتی 16 فیصد، گوشت کی قیمت 14 فیصد، آٹا 12 فیصد مہنگا ہوا، خشک دودھ 11 فیصد، گندم کی قیمت میں 10.12 فیصد مہنگا ہوا۔ ستمبر 2018ء کے مقابلے میں ستمبر 2019ء میں گیس کی قیمت 115 فیصد بڑھ گئی۔ پٹرول کی قیمت میں 22 فیصد، تعمیراتی میٹریل کی قیمت 19 فیصد، ڈاکٹروں کی فیس 16 فیصد ، گاڑیوں کی قیمت میں 21 فیصد، گاڑیوں کے پرزہ جات کی قیمت میں 21 فیصد تک اضافہ ہوا۔ لازم ہے کہ بے روزگاری، جرائم کے خاتمے اور نتیجہ خیز و مربوط اقتصادی پالیسیوں میں استقامت ہو۔ جو پالیسی طے کی جائے اس پر ثابت قدمی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔ موسم یا محبوب کے مزاج کی طرح پالیسی بدلتی نہیں رہنی چاہیے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کے یوٹرن کی گنجائش موجود ہو۔ ان حقائق پر وفاقی کابینہ، بیوروکریسی، حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کے سامنے کھلی بحث اس لیے ضروری ہے کہ اس نے بزنس کمیونٹی کو ملک گیر معاشی صورتحال سے تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق تاجر اور صنعتکار برادری نے اپنی تشویش سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو آگاہ کیا ہے۔ پچھلے دنو ںکاروباری طبقے نے آرمی چیف سے ملا قات کی۔ جس میں تاجر برادری نے بعض مسائل بیان کیے۔ معاشی اور کاروباری مشکلات پر حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کیا اور تجارتی جمود سے متعلق بعض چشم کشا حقائق ان کے سامنے رکھے۔ تاجر برادری کا کہنا تھا کہ ایک طرف جی ڈی پی میں کمی آئی ہے، دوسری طرف ریونیو اور ٹیکسز میں اضافہ ہورہا ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، ان کے پاس تیار مال کا کوئی خریدار نہیں۔ تاجر کمیونٹی کے بقول آمدنی بڑھانے کے لیے بزنس کمیونٹی کو نچوڑا جارہا ہے۔ خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ کاروباری طبقہ نے آرمی چیف سے شکایت کی کہ ملک میں کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت سے انہیں بزنس کو معاشی لحاظ سے سازگار سطح پر رکھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ حکومت صرف زبانی یقین دہانیاں کرتی ہے عملاً کچھ نہیں ہورہا۔ مختلف صنعتی یونٹ بند ہورہے ہیں، مزدوروں کی چھانٹیاں ناگزیر ہوجائیں گی۔ سرمایہ کاری سکڑ گئی ہے، بزنس بڑھنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ یہا ں یہ امر با عثِ اطمنا ن ہے کہ آرمی چیف نے وفد کی معروضات کو ہمدردی و غور سے سنا۔ انہوں نے کاروباری طبقے کی قربانیوں اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ پاکستان سے سب کو محبت ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی مشکلات کو دور کرے گی۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ تاجر برادری حکومت مخالف قوتوں کی کبھی حمایت نہ کرے۔ وہ حکومت سے تعاون کریں۔ میڈیا کے مطابق ملاقات میں نامور کاروباری شخصیات سمیت پاکستان بزنس کونسل، ٹیکسٹائل اور دیگر ممتاز تاجر شخصیات شامل تھی۔ ادھر ترجمان چیئرمین پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو، مصطفی نواز کھوکھر نے ارباب اختیار پر کڑی نکتہ چینی کی کہ معیشت بیٹھ گئی ہے مگر حکومت کو کوئی ادراک نہیں۔ انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں دوسری بار اضافہ کو مسترد کیا اور کہا عوام پر بوجھ ڈالا جارہا ہے، عوام سے کاروبار چھینا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے حکومت ریلیف پر مبنی معاشی پالیسیوں کا اعلان کرے۔ عوام دوست اقدامات نہ ہوئے تو مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ ملکی معیشت کو بھنور سے نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہے۔


ای پیپر