کرکٹ: ناقص حکمتِ عملی
10 اکتوبر 2019 2019-10-10

پاکستان جیسے منقسم مزاج لوگوں کے ملک میں قوم اور ریاست کو جوڑے رکھنے میں کچھ دیگر عوامل کے ساتھ کرکٹ کا بھی بڑا اہم حصہ ہے۔ کسی بھی ملک کے مقبول کھیل میں وہاں کی مختلف قومیتوں، گروپوں اور کمیونٹیز کی یکساں دلچسپی ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں دوسرے شعبے شخصی فیصلوں کی وجہ سے برباد ہوئے سو ہوئے، کھیلوں کو بچانے کی کوشش بھی نہیں کی جا رہی ہے۔بد قسمتی سے کرکٹ کے ماہرین، مبصرین اور سپورٹس سے تعلق رکھنے والے صحافی حضرات بھی سامنے کی باتیں دانستہ یا نا دانستہ نظر انداز کر کے عوام کے سامنے غلط تصویر پیش کرتے رہتے ہیں۔ کرکٹ پاکستان کے لئے صرف ایک کھیل کا درجہ ہی نہیں رکھتی بلکہ یہ پوری قوم کے مورال کو ہائی اور اسی تناسب سے ڈاؤن بھی کرتی ہے۔ جب قومی ٹیم ناقص حکمتِ عملی کی وجہ سے ہارتی ہے تو پوری قوم غم و غصہ میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ ون ڈے میں وننگ کمبینشن بنا ہوا تھا اسے نظر انداز کر کے احمد شہزاد اور عمر اکمل کو بالترتیب 2برس اور 3 برس کے بعد ٹی ٹونٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ دو نوں کم بیک کرنے والے کرکٹر سری لنکا کے خلاف پہلے دونوں میچوں میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ عمر اکمل تو دونوں میچوں میں پہلے پہلے بال پر ہی صفر سکور پر آؤٹ ہو گئے، اس طرح انہوں نے صفر سکور پر 10 بار آؤٹ ہو کر تلکا رتنے دلشان کا ٹی ٹونٹی میں صفر پر 10 بار آؤٹ ہونے کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔ عمر اکمل 100 فیصد فٹ بھی نہیں تھے اور گزشتہ کافی عرصہ سے ان کی فٹ نس کی صورتحال یہی ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ کھلاڑی جو گزشتہ دس سال سے زائد عرصہ سے ٹیم کے ساتھ ہیں، جن کی پرفارمنس بھی کچھ بہت خاص نہیں، جن کی فٹ نس کا معیار بھی بہت مثالی نہیں اور جن کے نامناسب رویے کا ماضی میں سب روناروتے رہے ہیں انہیں ٹیم میں دوبارہ سے کیوں شامل کیا گیا۔ ملک میں ایک ایسی ٹیم آئی ہے جو کہ ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور اوپر سے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ بھی سر پر ہے ساری کرکٹ ٹیمیں اس بڑے معرکے کے لحاظ سے تیاریاں کر رہی ہیں، بڑے ٹورنامنٹ وہی ٹیمیں جیت پاتی ہیں جو بہترین کمبی نیشن بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر ٹی ٹونٹی تو نوجوانوں کا کھیل ہے جب کہ ہم ہیں کہ دہائیوں سے ناکام چلے آ رہے کھلاڑیوں کو بار بار آزما رہے ہیں۔

پاکستان سری لنکا سیریز تاریخی اعتبار سے بھی بہت اہمیت کی حامل بن گئی ہے یعنی سری لنکا کی ٹیم نے ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک کے خلاف کلین سویپ کیا بالخصوص جب اس کے سینئر کھلاڑی شامل نہیں تھے اور مصباح الحق کو ایک ہی وقت میں سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں دی گئیں اور ایسا بھی کرکٹ کی حالیہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ خود کرکٹ کے مبصرین بھی اس بات پر حیران ہیں کہ ایک ہی شخص کے پاس ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر جیسے دو عہدے ہوں گے تو معاملات کیسے چل سکتے ہیں۔ سلیکٹرز نے ٹیم سلیکٹ کرنی ہوتی ہے جس میں کیپٹن کے ساتھ کوچ کی مشاورت بھی شامل ہوتی ہے۔ اب کوچ کا کام ہوتا ہے کہ اس نے ٹیم کی کوچنگ کرنی اور ٹیم کو کھلانا ہوتا ہے ،جب دونوں عہدے ہی ایک شخص کے پاس ہوں گے تو ٹیم اچھی پرفارمنس کیسے دے سکے گی مشاورت کا عمل متاثر ہو گا۔ ٹی ٹونٹی سیریز کلین سویپ پر سوشل میڈیا پر شائقین اور ناقدین کی جانب سے بھی مصباح الحق کی تقرری پر سوالیہ نشان اٹھائے ہیں اور انہیں ٹیم کے لئے غیر موزوں کوچ قرار دیا ہے۔ یہ بات ہے بھی درست ٹیسٹ کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اگر ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں ان کی پر فارمنس کا مشاہدہ کیا جائے تو وہ اتنی متاثر کن نہیں ہے وہ جب کپتان تھے تو انہوں نے ون ڈے اور ٹی ٹونٹی ٹیم کو تباہ کر دیا تھا۔

دنیا بھر میں پروفیشنل کوچز ہی کام کرتے ہیں۔ صرف پاکستان ہی ہے جہاں نا خواندہ سابق کرکٹرز پڑھے لکھے کوچز پر لیپ ٹاپ کوچز کی پھبتی کستے ہیں۔ ہمارے بلے بازوں کی تکنیک درست نہ ہونے کی وجہ سے بڑے ٹیلنٹڈ بیٹسمین بھی میچ جتوانے سے قاصر رہتے ہیں۔ مسئلہ فارم نہیں بلکہ ان کی خامیوں پر مخالف ٹیمیں ورک کر کے انہیں ایکسپوز کر دیتی ہیں۔ ہمارے پاس جو دستیاب ٹیلنٹ ہے اس کی تکنیک تو درست ہونی چاہئے۔ مکی آتھر بہترین کام کر رہے تھے کھلاڑی روز بروز امپروو کر رہے تھے۔ ہماری ماضی کی سلیکشن کمیٹیوں نے بھی کم و بیش ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے سٹرکچر اور سلیکشن کے عمل میں خامیاں ہیں۔ پہلے مرحلے میں تو ایسے کھلاڑی ڈھونڈنے چاہئیں جو منظرِ عام پر نہیں آ سکے، مگر وہ کم از کم پانچ سات سال مزید کھیل سکتے ہوں۔ اگلے مرحلے میں انڈر ٹونٹی تک کے لڑکوں پر محنت کرنی ہو گی۔ سب سے بڑھ کر ڈومیسٹک کرکٹ میں مسابقت لائے بغیر ہم اچھی قومی ٹیم نہیں بنا سکتے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ڈومیسٹک کا ٹاپ پرفارمر انٹرنیشنل سطح پر جا کر بری طرح ناکام ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے اس مقبول کھیل کو بچانا ہے تو میری ذاتی رائے میں ہمیں اپنے کرکٹ سٹرکچر میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سابق کھلاڑیوں اور کرکٹ کی حقیقی سمجھ بوجھ رکھنے والے آرگنائزرز پر مشتمل ایک تھنک ٹینک بنایا جائے۔ کھیل اور کھلاڑیوں کی سمجھ رکھنے والے مضبوط اور با اصول سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے سلیکٹرز کی ضرورت ہے جو اچھی تکنیک والے با صلاحیت کھلاڑی ڈھونڈ کر کرکٹ میں لائیں۔ ایسے کھلاڑی جن پر کی گئی محنت بعد میں ضائع نہ ہو جائے۔ ٹیم کو سلیکٹر کے علاوہ علیحدہ سے مکی آتھر جیسے ایک اچھے کوچ اور پلانر کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے مسئلے ٹھیک ہونے والے ہیں۔ حالیہ ناقص کارکردگی کی ذمہ داری چیئر مین کرکٹ بورڈ پر عائد ہوتی انہیںخود ہی رخصت ہو جانا چاہئے کیونکہ ان کی عمر اور اعصاب اس بوجھ کو سہارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔


ای پیپر