ایسا کیوں نہ ہوتا
10 اکتوبر 2019 2019-10-10

خالد احمد صاحب کا شعر ہے کہ:

میری انا نے نہلایا ہے مجھ کو میرے خون میں

مجھ پر ہوا ہے اول و آخر وار میری تلوار کا

پنجاب کی انتظامی صورتحال تنزلی کا شکار ہو کر بدترین درجات پر کیوں فائز نہ ہوتی؟ جب حکمتِ عملی ہی ناقص ہو تو نتائج سے گلہ کیسا! محض ڈیڑھ سال قبل تک جو صوبہِ پنجاب انتظامی امور کے حوالے سے پاکستان کے دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل کی سی حیثیت اختیار کر چکا تھا آج وہی صوبہ انتظامی نااہلیوں کا شکار ہو کر کسی بھی دوسرے صوبے سے کچھ بہت پیچھے نہیں رہ گیا۔ عثمان بزدار صاحب نے وزیرِ اعظم کے سوچے سمجھے فیصلے کے تحت شہباز شریف کی جگہ پاکستان کے اہم ترین صوبے کی کمان سنبھالی تھی۔ عثمان بزدار صاحب کا انتخاب ضمانت تھا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت شہباز شریف صاحب کے قائم کردہ شو شا والے مصنوعی انتظامی معیارات کو پچھاڑ کر پنجاب کے عوام کے لئے طرزِ حکمرانی اور حقیقی انتظام کے نئے اعلی ترین معیار مقرر کرے گی۔ ستم ظریفی لیکن یہ ہے کہ 14ماہ کی بدترین کارکرگی بے قابو ہوئے ڈینگی مچھر، چار سو پھیلی گندگی، بڑھتے جرائم، پھلتی پھولتی بیماریوں، پولیس گردی، ناقص سکیورٹی اور علاج کی دگرگوں سہولیات کی صورت میں عوام کا منہ چڑانے کے باوجود بھی وزیرِ اعظم پاکستان اپنے اس نونہال کو دنیا میں بے مثال ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں حالانکہ پنجاب کی عوام بزدار صاحب کو واقعتا بے مثال ہی سمجھتے ہیں لہٰذا مزید کچھ ثابت کرنا وقت کا ضیاع اورعوام سے زیادتی کے مترادف ہے۔ شہباز شریف جیسے کامیاب اور تجربہ کارمنتظم کے بعد عثمان بزدار جیسے نا تجربہ کار اور غیر آزمودہ شخص کی تعیناتی کپتان کی صوبہ پنجاب کے حوالے سے فاش ترین غلطی ثابت ہو رہی ہے جس کے لئے وہ چاہتے ہوئے بھی پچھلی حکومتوں کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے۔

پاکستان کی معیشت کا بھٹہ کیوں نہ بیٹھتا؟ جب وزیرِ اعظم معاشی امور سے نابلد ہو، ناتجربہ کار ہو، پیچیدہ مسائل کا حل ٹوٹکوں اور نسخوں میں ڈھونڈتا پھرے، مسیحائی کا دعویدار ہو اور ذاتی نظریات و مفروضات کو تمام مسائل کا آخری حل مانتا ہو تو معیشت کا بگڑ جانا طے تھا! مالی بدعنونی ختم کرنے کا ٹوٹکا سادہ سا تھا کہ اوپر والا نیک نیت، نیک سیرت اور ایماندار ہو جائے تو نیچے والے بد نیت، بد سیرت اور بے ایمان افراد سو دن کے اندر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں! معیشت ٹھیک کرنے کا سہل نسخہ یہ تھا کہ حکومت سنبھالتے ہی معیشت کی لگام شہرِ خام خیال کے باسی کو تھما کر ابتدائی چند ماہ دنیا کے ہر میسر چوراہے پر کھڑے ہو کر ملک میں انجام دئیے گئے تمام اچھے برے کاموں پر پوری قوت سے تھوک دیا جائے، جو شعبے اور صنعتیں ملک کی شرح نمو بڑھانے کا سبب بنی تھیں ان کی ترقی کا پہیہ روکنے کا بھرپور بندوبست کرتے ہوئے شرح نمو گرانے کی سر توڑ کوشش کی جائے، اسی دوران مسلسل روپے کی قدر گراتے ہوئے کامل یقیں سے تکرار کی جائے کہ بدقسمت روپے کی پولیو زدہ ٹانگوں کا پانچ سال تک اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑا رہنا مصنوعی عمل تھا، قرضہ جات سے شدید نفرت کا اظہار جاری رکھتے ہوئے صرف پچھلی دو بدعنوان ترین سیاسی حکومتوں کے سربراہان کو اس قماش کے قرض خور ثابت کیا جائے جو قرضے کی رقوم قومی خزانے سے نکلوانے اور لانچوں میں بھر کے غیر ممالک میں لے جا کر جائیدادیں خریدنے پرملکہ رکھتے تھے، اس اظہار کے ساتھ پوری نیک نیتی سے کربناک تاثرات دیتے ہوئے ملک میں چار سو پھیلی بدعنوانی، جعلی ترقی اور دیوالیہ ہونے کا راگ الاپنا جاری رکھا جائے تاکہ غیرملکی سرمایہ دار وطنِ عزیز سے اپنا سرمایہ نکالنے میں کوئی دیر نہ کریں۔ اس عمل کے بعد جب معیشت برباد ہونے لگے اور نظام کی ساکھ دنیا بھر میں اچھی طرح تباہ ہو جائے تو کبڑی ہو چکی معیشت کا ہاتھ انتہائی دردمندی سے تھام کر اسی مالیاتی ادارے کو سونپ دیا جائے جسے دن رات برائی اور مغربی سامراج کا استعارہ گردانا گیا ہو اوراسی استعارے کے روشن چہرے کو مرکزی دولت خانے کا سربراہ مقرر کر دیا جائے، یوں جب چھ آٹھ ماہ گزر جانے کے بعد سخت شرائط پر غاصب ادارے سے قرضہ حاصل ہو جائے تو کبڑی معیشت کو کاندھوں پر بٹھا کر تاریخی کامیابی کا ڈھول پیٹا جائے، تمام محصولات میں اضافہ کیا جائے، جب مہنگائی کو خوب جوش آ جائے تو مرکزی شرح سود کو ساتویں آسمان پر پہنچا کرمہنگائی کو مزید جوش دلایا جائے۔ وزیرِ اعظم کی سربراہی میں اس تجویز کردہ نسخے کے بارآور ہونے کے آثار یہ ہیں کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی، روزگار کا کال ہو گا، مہنگائی ناقابلِ برداشت ہو چلے گی، سفید پوشی کا بھرم جاتا رہے گا۔ تب اس بوجھ سے بالآخرعوام کا کچومر نکلنے کے باعث اشیاء کی طلب میں کمی پیدا ہو گی، قیمتیں بتدریج نیچے آئیں گی، جاری اکاونٹ کا خسارہ کم ہو جائے گا، برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو گا، معیشت سکڑ کر آدھی رہ چکی ہو گی، مقتدر حلقوں کو ملک کی کشتی گرداب میں پھنسی بے سمت سی محسوس ہونے لگے گی، پچھلی حکومتوں پر ملبہ گرانے کا بیانیہ دھول چاٹنے لگے گا اور پھر ملک میں لنگر خانوں کے فیتے کٹتے دکھائی دیں گے۔

ملکی قرضوں کا بوجھ کیوں نہ بڑھتا؟ جب ملک کا سربراہ رائج معاشی نظام کی ساخت، ملکی معیشت کے حقائق اور سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں قرضہ جات کی مرکزی حیثیت کا ادراک ہی نہ رکھتا ہو تو شکوہ کیسا! فیصلہ ساز نہ صرف یہ کہ جدید معیشت کے اس لازمی جز کی اہمیت، افادیت اور استعمال سے لا علم ہو بلکہ قرضہ جات کو اس کائنات کی آخری برائی کے طور پر پیش کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کے خلاف اشتہار بازی اور حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ہر حد تک استعمال کرے تو قرضے کا لفظ گالی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے جس پر کوئی سنجیدہ بامعنی بحث نہیں ہو سکتی۔ وزیرِ اعظم قرضہ جات کے شرح نمو، شرح سود، مجموعی قومی پیداوار، قوتِ ادائیگی اور زر کی قدر سے تعلق ہی کو نہ جانتا بوجھتا ہو تو کاہے کا رونا۔ وہ اتنا بے خبر ہو کہ اپنے ملک کی سالانہ آمدن اور غیرترقیاتی اخراجات کے حجم کا حساب کتاب کر کے یہ اندازہ بھی نہ لگا پائے کہ ملک کی سالانہ آمدن کا بمشکل غیر ترقیاتی اخراجات کو پورا کر پانے کے سبب ترقیاتی اخراجات اور معاشی نمو کے حوالے سے قرض کی اہمیت اور افادیت کیونکر اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ وزیرِ اعظم یہ بھی سمجھنا نہ چاہے کہ آج کی عالمی سرمایہ دارانہ معیشت بہترین مالی انتظام اور بندوبست کی متقاضی ہے۔ قرضہ اس انتظام کا اہم ترین رکن ہے جبکہ اس انتظام کو چلانے کا کام مالی و زری معاملات کے ماہر پیشہ ور ترین افراد کو سونپا جاتا ہے جبکہ ہوائی گھوڑے کے شہسوار کو وزارتِ خزانہ جیسی اہم ترین وزارت پر تعینات کرنا تباہی کا رستہ طے کرتا ہے۔ آگہی اور اہلیت کی ایسی قحط زدہ صورتحال میں ایک سال کے اندر ہی وزیرِ اعظم کی ناک کے نیچے سے پاکستان کے قرضوں میں دس ہزار ارب روپے کا تاریخی اضافہ ہو جانا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ پچھلی حکومت کے اضافہ کردہ تیرہ ہزار ارب روپے کے قرضوں کے بدلے ملک میں بجلی و توانائی کی مکمل دستیابی، دہشت گردی کا خاتمہ، سی پیک کے منصوبے، لاتعداد تعمیراتی کام، سہولیات اور معاشی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں جبکہ موجودہ حکومت کے اضافہ شدہ تاریخی قرضے کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق محض حکومت کی مالی بدانتظامی، کم علمی، بے خبری اور نااہلی کا نتیجہ ہیں۔

عثمان بزدار کا انتخاب ہو، پاکستانی معیشت کے لئے اپنایا گیا لائحہ عمل یا ایک سال کے دوران بڑھ چکے تاریخ کے بلند ترین قرضے، عمران خان صاحب کی فیصلہ سازی، حکمتِ عملی، انا پرستی، بے ترتیب نظریات اور اہلیت نے حالات جس نہج پر پہنچا دیے ہیں اس سے آگے عوام کی طرف سے مزید کسی عذر کا قبول کیا جانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ کارکردگی آگے بڑھنے کا واحد رستہ ہے جس پر چلنے کا ہنر لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کے پاس نظر نہیں آتا۔


ای پیپر