برکت اور برائی…
10 اکتوبر 2019 2019-10-10

دوستو،علامہ فخر الدین رازی فرماتے ہیں۔۔ ایک مولوی صیب نے مجلس وعظ میں یہ بیان کیا کہ بندہ جب صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے پاس 70 شیطان آتے ہیں اور اس کے ہاتھ، پاؤں اور دل سے چمٹ کر اسے صدقہ کرنے سے روکتے ہیں۔۔ مجلس میں سے ایک صاحب یہ سن کر بولے کہ میں ان 70 شیطانوں سے لڑ کر انہیں شکست دوں گا۔ چنانچہ وہ صاحب مسجد سے چلے اور اپنے گھر آئے۔ دامن کو گندم سے بھرا اور صدقہ کرنے کے ارادے سے نکلنے لگے۔ ان کی بیوی نے دیکھا تو کود کر آئی اور میاں سے لڑنے جھگڑنے لگی، حتیٰ کہ ان کے دامن سے ساری گندم نکال ڈالی اور واپس گھر لے گئی۔ وہ صاحب شرمندہ شرمندہ سے ہوکر دوبارہ مسجد چلے آئے۔ مولوی صیب نے پوچھا میاں کیا کر کے آئے؟ بولے 70 شیطانوں کو تو میں نے شکست دیدی تھی، لیکن کیا کرتا، ان کی ماں آ پہنچی اور اس نے مجھے شکست دیدی۔۔

ایک معروف کالم نگار کے کالموں سے کچھ مزیدار جملے جو ہمیں اچھے لگے،آپ کی خدمت میں پیش ہے۔۔ وہ لکھتے ہیں۔۔بکتر بند گاڑیاں ہی نہیں بکتر بند بے غیرت بھی ہوتے ہیں۔۔سپیروں کا رزق، سانپوں کے پھن پر ہوتا ہے۔۔۔متمول ہر سال گاڑی، غریب ہر روز کئی ویگنیں تبدیل کرتا ہے۔۔معاشرے اپنی ’’نیوز‘‘ اور ’’نیوز میکرز‘‘ سے پہچانے جاتے ہیں۔۔۔وہ دن دور نہیں جب روپیہ اتنا حقیر ہو جائے گا کہ ڈاکو بینک نہیں اناج، سبزی اور کریانے کی دکانیں لوٹیں گے۔۔۔حرام مال سے صدقہ غلیظ پانی سے غسل کرنا ہے۔۔فاقوں کی فصل کو کوئی سنڈی کیوں نہیں پڑتی؟۔۔۔ایک طرف سے دین آرہاہے ،دوسری طرف سے چین آ رہا ہے۔ لگتا ہے کوئی گرما گرم سین آ رہا ہے۔۔۔نظام مصطفی تحریک کے دنوں میں بھٹو مرحوم کا تاریخی جملہ ’’انہیں اسلام نہیں اسلام آباد چاہئے۔ آج کل کا لیکن آئندہ ایک تاریخی بن جانے والاجملہ ’’ان کا مسئلہ ختم نبوت نہیں ختم حکومت ہے!۔۔۔

ویسے یہ بات سوفیصد حقیقت ہے کہ۔۔اس مہنگائی میں صرف ریاضی کااستاد گزارا کر سکتا وہ روٹی کے ساتھ دال، سبزی، گوشت وغیرہ فرض کر لے گا۔۔تاریخ گواہ ہے کہ سیاست دانوں کی باتوں کو اور صبا ایزی لوڈ کے ایس ایم ایس والی جس جس نے بھی سچ مانا دھوکا ہی کھایا۔۔اس بات میں ایک ہزار فیصد سچائی ہے کہ ۔۔ شادیوں پر عورتیں ایک دوسرے کا سوٹ دیکھ کر جل رہی ہوتی ہیں اور مرد دوسرے کی بیویاں دیکھ کر جل رہا ہوتا ہے۔۔والد اپنی ساری فیملی کے ساتھ ایک اجتماعی مشورہ کرنا چاہتا تھا ،لیکن کئی ہفتوں کے انتظار کے بعد بھی وہ کوئی ایسا وقت تلاش نہ کرپایا جب سب ایک ہی جگہ جمع ہوں۔ کوئی کچن میں ہے تو کوئی اپنے روم میں ، کوئی ٹوائیلٹ میں ہے تو کوئی ٹی وی لاونج میں۔ بالآخر اس نے ایک دن حل نکال ہی لیا۔۔ایک روز اس نے صرف WIFI بند کیا۔ اور 5 منٹ میں سارے فیملی ممبر اسکے سامنے جمع تھے۔۔ استاد نے فرط جذبات سے اپنے طلبا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔ تم ہی تو مستقبل کی امیدیں ہو، تم ہی تو آنے والے کل میں قوم کیلئے درخشاں ستارے اور امید کی روشنی ہو۔۔ایک طالب علم نے اپنے ساتھ والے بنچ پر سوئے ہوئے طالبعلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استاد سے کہا ۔۔استاد جی، مستقبل دا ہک فیوز بلب ایتھاں وی بیٹھا اے۔۔

ایک شخص حضرت ابراہیم بن ادھم سے بحث کررہا تھا کہ’’ برکت ‘‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔۔ابراہیم بن ادھم نے کہا۔۔تم نے کتے اور بکریاں دیکھی ہیں؟؟ وہ شخص کہنے لگا۔۔ہاں۔۔ابراہیم بن ادھم نے پھر سوال کیا۔۔سب سے زیادہ بچے کس کے ہوتے ہیں کتے یا بکری کے؟؟وہ بولا۔۔کتے کے۔۔ابراہم بن ادھم بولے۔۔تم کو بکریاں زیادہ نظر آتی ہیں یا کتے؟؟ ۔۔وہ بولا۔۔بکریاں۔۔ابراہیم بن ادھم کہنے لگے۔۔جب کہ بکریاں ذبح ہوتی ہیں،مگر پھر بھی ان کی تعداد کم نہیں ہوتی، تو کیا یہ برکت نہیں؟؟اسی کا نام برکت ہے۔۔ پھر وہ شخص بولا۔۔ایسا کیوں ہے کہ بکریوںمیں برکت ہے اور کتے میں نہیں؟؟ ابراہیم بن ادھم نے جواب دیا۔۔بکریاں رات ہوتے ہی فوری سوجاتی ہیں اور فجر سے پہلے اٹھ جاتی ہیں،یہ نزول رحمت کا وقت ہوتا ہے،لہذا ان میں برکت ہوتی ہے، اور کتے رات بھر بھونکتے ہیں اور فجر کے قریب سو جاتے ہیں،لہذا رحمت و برکت سے محروم ہوتے ہیں۔۔پس غور و فکر کا مقام ہے،آج ہمارا بھی یہی حال ہے۔ہم اپنی راتوں کو فضولیات میں گزارتے ہیں، اور وقتِ نزولِ رحمت، سو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آج نہ ہی ہمارے مال میں اور نہ ہی ہماری اولاد میں اور نہ ہی کسی دوسری چیز میں برکت رہی ہے۔۔۔

پروفیسر نے سوال کیا۔۔برائی کیا ہے؟ ایک شاگرد اٹھا اور کہا۔۔سر میں بتاتا ہوں مگر پہلے مجھے کچھ پوچھنا ہے۔۔کیا ٹھنڈ کا وجود ہے؟ پروفیسر نے کہا ۔۔ہاں۔۔شاگرد بولا۔۔بالکل غلط،ٹھنڈ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ یہ حرارت کی عدم دستیابی کا نام ہے۔۔شاگرد نے دوبارہ پوچھا، کیا اندھیرا ہوتا ہے؟ پروفیسر نے پھر اثبات میں گردن ہلائی۔۔شاگرد نے کہا۔۔نہیں سر،اندھیرا بذات خود کچھ نہیں،بلکہ روشنی کی غیرحاضری کو اندھیرے کا نام دیاجاتا ہے،فزکس کے مطابق ہم روشنی اور حرارت کا مطالعہ تو کرسکتے ہیں مگر ٹھنڈ اور اندھیرے کا نہیں۔۔سو برائی کا بھی کوئی وجود نہیں،یہ دراصل ایمان، محبت اور اللہ پر پختہ یقین کی غیرموجودگی ہے،جسے ہم برائی کہتے ہیں۔۔محلے دار کی تدفین میں شرکت کے لئے باباجی کے ہمراہ قبرستان گئے ،جب مردے کو قبر میں رکھا جارہا تھا توہم نے باباجی کے کان میں سرگوشی کی۔۔یہ قبر جس میں مردہ کی تدفین کی جارہی ہے،بڑی عبرت ہے ہمارے لئے۔۔باباجی نے کہا۔۔نہیں،یہ جو خالی قبر پڑی ہے،وہ اس سے بڑی عبرت ہے ،کیونکہ خالی قبر اس شخص کے لئے وقف ہے جو اب بھی ہم لوگوں میں زندہ چل پھر رہا ہے لیکن اسے احساس تک نہیں کہ مجھے بھی ایک روز اسی قبر میں لیٹنا ہے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔کمپنی کا منیجر مہینہ بھر کام پر نہ آئے تو کسی کو بھی کوئی کمی محسوس نہیں ہوگی لیکن اگر صفائی والا دو دن کام پر نہ آئے تو سب کو اس کی کمی محسوس ہوگی۔۔پس ، لوگوں کی قدر و قیمت ان کے کام کی مناسبت سے ہوتی ہے نا کہ ان کے مناصب اور رتبوں کی مناسبت سے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر