کیا شہباز شریف نے واقعی علم بغاوت بلند کر دیا ؟گھر کی خبر باہر آگئی
10 اکتوبر 2019 (22:28) 2019-10-10

لاہور :لاہور میں ہونے والے اہم اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماﺅں کی اکثریت نے آزادی مارچ اور دھرنے میں شمولیت کی حمایت ظاہر کر دی ۔

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماﺅں کا اہم اجلاس میاں شہباز شریف کی قیادت میں ہوا جس میں شہباز شریف نے آزادی مارچ اور دھرنے میں شرکت کی مخالفت کی ،ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماﺅں کی بیٹھک میں آزادی مار چ میں شرکت کرنے اور دھرنے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے جس میں شہباز شریف نے آزاد ی مارچ اور دھرنے میں شرکت دونوں کی مخالفت کی ،شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اگر آزادی مارچ مس فائر ہوا تو حکومت کو نئی زندگی مل جائیگی ،اپنے موقف کے حق میں شہباز شریف نے ماضی کی مثالیں بھی دیں ۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہباز شریف نے اس اجلاس میں ٹکراﺅ کی پالیسی سے اب تک ہونیوالے نقصانات سے بھی رہنماﺅں کا آگاہ کیا ،انہوں نے سینٹ الیکشن کی مثال بھی دی ، شہباز شریف نے بھٹو اور بے نظیر کی ٹکراﺅ کی پالیسی کا انجام بھی بتایا ،اب تک جو نواز شریف کو مشورہ دئیے ان سے بھی پارٹی رہنماﺅں کو آگاہ کیا گیا ، شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ چار بار وزیر اعظم کی پیشکش ہوئی جسے میں نے ٹھکرادیا ، شہباز شریف نے اپنے خدشات ،تحفظات کے باوجود نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا میں سیاست چھوڑ دونگا نواز شریف سے اختلافات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ،نواز شریف سے بغاوت کا تصور بھی ناممکن ہے ،نواز شریف سے بغاوت کر کے منصب لوں تو میری اولاد قبر میں بھی معاف نہیں کریگی ،انہوں نے کہا نوا زشریف مجھے جو حکم دینگے وہی میرا فیصلہ ہوگا ۔

شہباز شریف نے کہا میری رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن فیصلے کا اختیار نواز شریف کا ہی ہے ،لاہور میں ہونے والی اس بیٹھک میں اکثریت نے آزادی مارچ اور دھرنے میں شمولیت کی حمایت ظاہر کی ،اجلاس کے منٹس تحریری شکل میں نواز شریف کو بھیجے گئے ،منٹس میں لکھا گیا کہ اکثریت آزادی مارچ اور دھرنے میں شرکت کی حامی ہے ۔


ای پیپر