امجد اسلام امجد ....اور جدامجد
10 اکتوبر 2019 2019-10-10

کچھ عرصہ پہلے ملک کے نامور معروف شاعر، جن کے شعروسخن کی داد وتحسین اور ان کی تعریفیں ”حدود وقیود“ میں رہ کر ملک کی سرحدیں پارکرکے بین الاقوامی شہرت حاصل کرچکی ہیں۔

گوان کے تعارفی کلمات کی ادائیگی ضرورت داستان ادب نہیں، کیونکہ ان کے قارئین کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ جس کا تصور مجھ جیسا لکھاری اس لیے نہیں کرسکتا، کہ میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کے باوجود شاید ایک شعر بھی نہ لکھ سکوں، البتہ میں یہ بات برملا کہتا ہوں، کہ الحمد للہ کالم سیاست سے لے کر صحافت بلکہ زرد صحافت کی مذمت میں ،میں بااحسن طریق لکھ سکتا ہوں، امجداسلام امجد نے بطور خاص ایک دن مجھے چند دوستانہ کلمات ادا کرنے کے بعد دانستہ اور شعوری طورپر بلکہ روحانی اور جسمانی ”کوچا“ مارتے ہوئے مجھے نفسیاتی طورپر پست، کرکے اپنے تئیں پسپائی پہ مجبور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ”بصورت احسان“ دعوت دے ڈالی کہ یار نواز.... واضح رہے کہ انہوں نے مجھے ”دوست“ نہیں کہا، بلکہ میری دانست میں مجھے ”دوست نواز“سمجھتے ہوئے یہ بات بھی کہہ دی کہ میری سالگرہ ہے تم ضرور آنا اور یاربھابی کو بھی ضرور ساتھ لانا میں نے جب یہ بات اپنی بیگم کو بتائی ، تو اس نے اس کو درازدستی سمجھتے ہوئے تبصرہ کیا ، کہ جہانیاں جہاں گشت کی بیگم نے اپنا استحقاق نسوانہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس دفعہ فردوس ارضی، نے خود فون کیوں نہیں کیا؟ میں نے یہ مطلب لیا کہ یہ تو ایل اوسی پہ فائرنگ کے جواب میں چوکیاں تباہ کرنے پہ تل گئی ہیں دراصل فردوس بھابی صاحبہ کانام ہے، اور یہ دونوں سہیلیاں ،تبدیل شدہ پاکستان میں اب تقریبات میں ملاقات تک محدود ہوگئی ہیں :

شاید اس لیے آل رسول سید مظفر علی شاہ کہتے ہیں کہ

بہت پر کیف ہے، منزل پہ آنا

غبار راہ کا منظر سوا ہے

بجا، مرنا کوئی آسان نہیں ہے

مگر جینا بہت مشکل ہوا ہے

لیکن نواسہ رسول امام حسن ؓ کا تو فرمان ہے، کہ دوستی دراصل ایسا جذبہ ہے جس کی پاکیزگی پرپوری دنیا کو قربان کیا جاسکتا ہے، مگر وہ ایسا نازک آئینہ ہے، جس کو ایک بار دھوکے کی ٹھیس پہنچ جائے تو پھر اصلی حالت میں قائم نہیں رہ سکتا۔ اور اپنے اس فرمان کو جناب امام حسنؓ نے اپنے عمل سے ثابت کردکھایا، چونکہ وہ اہل بیت سے تھے، اور اسی مناسبت ونسبت سے مسلمانوں، خواتین اور ان کے وارثین کی خواہش ہوتی تھی، کہ امام ابدحسنؓ سے ان کا نکاح ہو جائے، ان میں سے ہی ایک بدبخت بیوی نے انہیں سازش کے تحت زہر دے دیا، حضرت امام حسینؓ کو جب انہوں نے بتایا کہ مجھے زہر دے دیا گیا ہے۔ امام حسینؓ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ زہر کس نے دیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا، کہ میری ایک اہلیہ نے مجھے زہر دیا ہے، مگر مسلسل اصرار کے باوجود آپ نے اس کا نام نہیں بتایا .... اور اس طرح سے ایک سچا دوست ہونے کا ثبوت رہتی دنیا تک امت کو عفوودرگزر کرنے کا سبق دے کر ان کے دلوں میں ثبت کرگئے۔

قارئین میں جناب امجد اسلام امجد کے بارے میں یہ دعویٰ کررہا تھا، کہ میں ان کے ان ”یاروں“ میں سے ہوں کہ میں ان کے جدامجد سے اس طرح سے واقف ہوں، جیسے جناب عطا الحق قاسمی کے والد محترم سے تعلق پدرانہ کی سعادت اور ملاقاتیں رکھتا ہوں، امجد صاحب کے والد محترم جناب اسلام صاحب سے تو جب بھی میں امجد صاحب کو ملنے جاتا تو ہمیشہ ان سے ملاقات اور احوال جدوتدکا تبادلہ بھی ہوجایا کرتا تھا ایک بات جو خاص طورپر میں آج کل کے ان انسانوں کو جن کے والدین بفضل خدا بہ حیات ہیں کہتا ہوں کہ انہیں امجد اسلام کی تقلید کرنی چاہیے ،کیونکہ وہ اپنی ہرتقریب میں اپنے والد محترم کو ساتھ لے کر جاتے اور انہیں اپنے دوستوں سے ملواتے، اور انہیں وہ دعاﺅں سے نوازتے، امجد صاحب کے سسر اور سگے چچا جناب حاجی اشرف صاحب بھائی ہونے کے باوجود بالکل مختلف طبیعتوں کے مالک تھے، امجد صاحب کے والد بالکل سادہ شریف باریش مگر ہربات میں مفاد بزرگانہ کو مقدم سمجھتے اور نصیحتیں کرتے نظرآتے، جبکہ حاجی اشرف صاحب کی شرافت حاجی لکھنے سے ہی واضح ہوجاتی ہے، امجد صاحب کے چچا اکثر سفاری سوٹ پہنتے، اور عموماً اس کا رنگ ”بادامی“ ہوتا تھا، اور یہ رنگ ان کی جوانی کی ”وعدہ شہنائی“ کی چغلی کھاتا نظر آتا تھا، اور یہ بات اس لیے درست ہے کہ بوقت وفات بھی ماشاءاللہ یہ ”عمارت حسین“ ہی رہی، کوئین میری کالج کے ساتھ گھربنانے والے کے بارے میں میرا من چلا دل گواہی دیتا ہے ، کہ ان کو دیکھ کر مٹیاریں ، موسم برسات کی ملہاریں دیکھ کر ضرور گنگناتی ہوں گی ، بقول شاعر سید مظفرعلی شاہ

آنکھیں جب ملہار آلاپیں

آگ لگائے سرگم دل کا !

جاں لیوا ہے موسم دل کا

کونا کونا برہم دل کا !

تیرا نام کسی سے سن کر

لازم ہونا برہم دل کا !

اس لیے اس سے پہلے معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا، فردوس بھابی اور امجد بھائی نے یہ سوچے بغیر کہ ایسا کام احتیاطً سات گھر چھوڑ کر کرنا چاہیے، بیک وقت ایک ہی گھر میں پلنے بڑھنے والوں نے ”ہمیشہ“ کے لیے ایک ہی گھر میں رہنے کا فیصلہ کرلیا، اور ہماری دعا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے امجد صاحب کو جیسے اس دنیا میں ”فردوس“ عطا کی آخرت میں بھی فردوس کے ساتھ فردوس بریں عطا فرمائے کیونکہ یہی تقاضا عشق و الفت ہے جیسے ہیررانجھا، سوہنی مہینوال ، سسی پنوںاور فردوس امجد نے امر کردیا، اور یہ انعام دیوان ہے کہ جس کا ہر شعر بطور شاعر نہیں بلکہ بطور ”شوہر“ لکھا گیا ہے۔

قارئین جیسے میزبان کہتے ہیں کہ مجھے اشارہ ہورہا ہے کہ بریک لے لی جائے، ایسے مجھے پتہ چلا کہ صفحہ ختم ہوگیا ہے لہٰذا قارئین آخر میں، میں آپ کو بتاتا چلوں کہ گو اس میں شک نہیں کہ وہ حمدونعت پہلے بھی کبھی کبھی بوقت ضرورت لکھ لیتے تھے مگر اس کا عقدہ تقریب سالگرہ پہ بھی کھلا، اور جب ان کی عمر ساٹھ پینسٹھ کی ہوئی تھی تب بھی یہ راز، راز نہیں رہا تھا، ایک دفعہ میں نے بھابی صاحبہ کو بتایا تھا کہ کچھ تو خیال کریں یہ آئے روز ، کبھی انگلینڈ، کبھی امریکہ، اور کبھی کسی یورپین ملک، حتیٰ کہ سویڈن اور ناروے تک پہنچ جاتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ اظہار تعجب کرتیں، بولیں نواز بھائی ”اب“ خیر ہے ۔ اب سالگرہ کی تقریب میں جہاں میں نے ایک آدھ بن بلائے مہمان کو بھی دیکھا اور وہاں سیاہ پوش بھی ملے، جو بوصف چاپلوسی، ہرایک کو مختلف انداز سے ملتے اور جو ہمیشہ کہتے ہیں، میں نے ”اشفاق احمد کی کوئی کتاب نہیں پڑھی بلکہ انہوں نے میری ہر کتاب پڑھی ہے، مجھے یہ اختلاف ہے کہ اگر ایسا ہے بھی سہی تو بتانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ فیصلہ تو قوم کرے، کہ کون بڑا ہے، بلکہ یہ فیصلہ تو اللہ تعالیٰ کو کرنا ہے۔

بہرکیف تقریب سالگرہ پر خاص طورپر شاعرات، امجد صاحب سے بغل گیر ہورہی تھیں، اور کچھ دوسری خواتین اس سے بڑھ کر سنسر بورڈ والوں کا منہ چڑا رہی تھیں، یہ جلوے دیکھ کر میں تو جل بھن کر ایک کونے میں کھڑا ہوگیا، .... اور منہ پر ہاتھ پھیر کر اور اوپر دیکھ کر کہا ان شاءاللہ اوپر والے نے اگر مجھے بھی پچھترویں سالگرہ کی توفیق دی تو دیکھا جائے گا، مگر خدشہ یہ ہے کہ اس وقت تک تبدیل شدہ پاکستان پھر سے تبدیل نہ ہوجائے، اللہ کرے یہ مشرقی انداز تقریب اور ”محبت کا پھیلاﺅ“ دیکھ کر میں بھاگا اور بھابی سے کہا کہ ”محبت کا پھیلاﺅ“ تو رات گئے مزید بڑھنا شروع ہوگیا ہے، آپ دیکھ رہی ہیں انہوں نے جواب دیا، میں تو جوانی سے دیکھ رہی ہوں، آپ غور سے دیکھیں تو مجھے دفعتاً خیال آیا ، ایک دفعہ بھابی کا فون آیا تھا کہ امجد کوئٹہ گئے ہوئے ہیں بھابی اگر گھر پہ ہوں تو میں آجاﺅں، میں نے انہیں کہا کہ آپ ساتھ نہیں گئیں، انہیں اکیلے نہ جانے دیا کریں تو انہوں نے ”ذومعنی“ بات کی تھی کہ جانے دیں، اب کچھ نہیں ہوتا ....


ای پیپر