انسان اور جانور !
10 اکتوبر 2019 2019-10-10

گزشتہ کالم میں ، میں نے اپنے لالے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا ذکر خیر کیا تھا۔ آخری بات اُن کے حوالے سے میں یہ کرنا چاہتا ہوں اُن کی آواز کا جادو آج بھی صِرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں برقرار ہے۔ میں جب پچھلے برس برطانیہ گیا۔ اُن دِنوں برطانیہ کے مختلف شہروں میں اُن کے شوز ہو رہے تھے۔ لندن کے شو میں اُنہوں نے مجھے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا۔ راستے میں، میں یہ سوچ رہا تھا اِس ” بوڑھی آواز“ کو اب کون سننے آئے گا؟ میں جب ”جائے شو“ پر پہنچا میری حیرت کی انتہا نہ رہی ایک بہت بڑا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہم آدھا گھنٹہ گاڑی پارک کرنے کے لئے جگہ تلاش کرتے رہے۔ کچھ تو لوگ لالے کی آواز کے دیوانے ہیں اور بہت سارے اُن کی شخصیت کے شیدائی ہیں جو عاجزی اور انکساری سے لبالب بھری ہوئی۔ اِسی طرح کوئی دو ماہ قبل لاہور آرٹس کونسل کی جانب سے اُن کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا تو الحمراءہال ون بھی کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ایک اور پہلو جو لالے کی شخصیت کا چُھپا رہا یا شاید جان بوجھ کر وہ چھپاتے رہے وہ یہ ہے کہ مستحقین کی مدد کے لئے نہ صِرف ذاتی جیب وہ ہلکی کرتے رہتے ہیں بلکہ کسی بھی نیک مقصد کے لئے دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی اُنہیں مدعو کرے وہ انکار نہیں کرتے۔ بلکہ اُس شو کا معاوضہ بھی قبول نہیں کرتے۔ اُن کی شخصیت کا یہ پوشیدہ پہلو پہلی بار مجھ پر اپنے دوست دلدار پرویز بھٹی کی وفات پر آشکار ہوا تھا۔ دلدار پرویز بھٹی، عمران خان کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے امریکہ گئے۔ وہاں ایک شو میں جھولی پھیلائے ناچتے ناچتے اچانک اُن کے دماغ کی نس پھٹ گئی۔ وہ گِر پڑے۔ عارف لوہار نے اُن کا سر اپنی گود میں رکھا اور کہا ” دلدار تمہیں کچھ نہیں ہوگا“ .... دلدار بولا ” نئی یار عارفہ اج دلدار دا شو مُک گیا ای“.... پھر محض تسلی کے لئے اُس کی ڈیڈ باڈی کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے رسمی کارروائی کے بعد اُس کی موت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ وہ بہت کمال کے انسان تھے۔ ساری عمر دوسروں کے لئے سوچتے رہے۔ دوسروں کے لئے جیتے رہے۔ مرحوم اشفاق احمد نے یہ جملہ شاید اُن ہی کے لئے کہا تھا” اصل درد دوسروں کا ہوتا ہے ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی ہوتا ہے“۔ ویسے ذاتی طور پر میں اشفاق صاحب کی اِس بات سے مکمل اتفاق نہیں کرتا تھا۔ اِس حوالے سے ایک بار ایک سوال میں نے اُن سے پوچھا وہ جواب دینے لگے مگر پھر اچانک نواز شریف اُن سے ملنے آگئے اور بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ دوبارہ موقع نہیں ملا۔ میں اُن کی خِدمت میں عرض کرنا چاہتا تھا ” اِس دور کے انسان دوسروں کا درد محسوس کریں نہ کریں جانوروں کو میں نے خود دوسروں کا درد محسوس کرتے دیکھا ہے۔ ایک کوا جب مرتا ہے سینکڑوں کوے اُس کی ” لاش “ کے اِرد گرد کتنی ہی دیر شور مچاتے رہتے ہیں۔ یہ شور اصل میں اُن کے ” بین“ ہوتے ہیں۔ اُن کی چیخ و پکار ہوتی ہے۔ جِس سے ظاہر ہو رہا ہوتا ہے مرنے والے کا اُنہیں کتنا درد ہوا ہے۔ ایک اور واقعہ میں آپ کو سناتا ہوں۔ میری والدہ صبح سویرے فجر کی نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد گھر کے لان کے ایک کونے میں (پکے فرش پر) چڑیوں اور کبوتروں کو دانا وغیرہ ڈالتی تھیں۔ وہ بڑے اہتمام سے اکبری منڈی سے باجرہ، چنے کی دال اور چاولوں کا ٹوٹا وغیرہ منگواتیں، قریب ہی ابو جی بھی اُن کے ساتھ کُرسی پر بیٹھ کر قرآن پاک پڑھتے۔ یہ حسین ترین منظر ہوتا جِس سے میں مستقل طور پر اب محروم ہوگیا ہوں۔ اِک روز رات کو اچانک ہارٹ فیل ہونے سے اماں جان وفات پا گئیں۔ اُن کی ڈیڈ باڈی باہر لان میں پڑی تھی۔ اچانک میں نے محسوس کیا وہ گھڑی آن پہنچی ہے جب امی اپنے ”دوستوں“ کبوتروں اور چڑیوں وغیرہ کو دانا ڈالتی تھیں۔ میں سٹور میں گیا۔ ایک برتن میں دانا ڈالا اور باہر لا کر چڑیوں کبوتروں کو ڈال دیا۔ حسبِ معمول تمام کبوتر اور چڑیاں وہاں موجود تھے۔ میں نے محسوس کیا آج مختلف آوازیں نکال رہے ہیں۔ جیسے ہمارے ساتھ وہ بھی رو رہے ہوں۔ وہ دانا بھی نہیں کھا رہے تھے۔ تین یوم تک مسلسل دانہ ڈالتا رہا کسی نے نہیں کھایا۔ مجھے لگا ہماری طرح یہ بھی سوگ کی حالت میں ہیں۔ .... تب بھی مجھے اشفاق احمد کے احساس سے زرا مختلف احساس یہ ہوا ” اصل درد دوسروں کا ہوتا ہے ورنہ اپنا درد تو ” انسانوں“ کو بھی ہوتا ہے“.... بہت حال یہ ایک الگ موضوع تھا۔ بات کہاں سے کہاں نکل جاتی ہے.... ابھی میرے محترم بھائی آر پی او شیخوپورہ، ایک انتہائی نفیس پولیس افسر سہیل حبیب تاجک نے چونیاں

میں بچوں سے زیادتی اور قتل کے ملزم کے بارے میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو اسلام آباد میں بریفننگ دیتے ہوئے فرمایا ”ہمارے ہاں انسانوں اور جانوروں سے زیادتی کا ایک جیسا قانون موجود ہے“ .... وہ شاید یہ کہنا چاہ رہے تھے انسانوں کے ساتھ ” زیادتی “ کا قانون زیادہ سخت ہونا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ انسانوں یا بچوں کے ساتھ ” زیادتی “ کا قانون زیادہ سخت ہونا چاہئے۔ مگر میرے نزدیک جانوروں سے ” زیادتی“ کا قانون اُس سے بھی زیادہ سخت ہونا چاہئے۔ جانوروں کو ہم ” بے زبان“ کہتے ہیں۔ وہ بے چارے تو کِسی زیادتی پر احتجاج بھی نہیں کر سکتے۔ کوئی وکیل بھی نہیں کر سکتے جس کے ذریعے قانون سے ” بچت“ کی کوئی گنجائش نکال لیں۔ کوئی جج بھی نہیں کر سکتے جس کے بعد وکیل کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو.... جانور کسی اور کی نہیںاُسی اللہ کی مخلوق ہیں جس کی ہم انسان ہیں۔ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوق بنایا۔ مگر کیا ہم خود کو اشرف المخلوق ثابت کر رہے ہیں؟ کوئی تحقیق ہو کہ پاکستان میں آج تک جانوروں نے انسانوں کے ساتھ کتنی زیادتیاں کیں؟ اور انسانوں نے جانوروں کے ساتھ کتنی زیادتیاں کیں؟ تو انسانوں کی ”زیادتیاں“ جانوروں کی زیادتیوں کے مقابلے میں شاید کئی گنا زیادہ نکلیں گی۔ میں ایک بار آسٹریلیا کے ایک چڑیا گھر میں گیا۔ وہاں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے بورڈ لگے تھے جِن پر لکھا تھا ” ہمارے جانوروں کی عزت کریں “ ( Please respect our Animals)۔ ” عزت“ کے لفظ نے مجھے بہت متاثر کیا۔ مجھے اپنا چڑیا گھر یاد آگیا جہاں جگہ جگہ بورڈ نصب ہوتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے ” جانوروں کو تنگ نہ کریں“ کیونکہ چڑیا گھر کی انتظامیہ کو یقین ہوتا ہے چڑیا گھر میں آنے والے اپنی فطرت کے مطابق جانوروں کو لازماً تنگ کریں گے“.... اِس لئے کہ وہ جانتے ہیں پنجرے میں قید جانور اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ .... مجھے یوں محسوس ہوا آسٹریلیا کے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے یہ تحریریں آج بطور خاص میرے لئے لکھوائی ہیں ” ہمارے جانوروں کی عزت کریں“.... چڑیا گھر کی انتظامیہ کو شاید معلوم ہوگیا ہوگا آج کچھ ”پاکستانی“ یہاں آرہے ہیں جو یہاں بھی جانوروں سے وہی سلوک کریں گے جو وہ اپنے ہاں کرتے ہیں۔ میں یہ کالم ”دھرتی کے لعل اور لالے “کے عنوان سے اپنے دوسرے لالے جناب اجمل نیازی کے لئے لکھنا چاہتا تھا جو آج کل شدید علیل ہیں۔ بات کہیں اور نکل گئی۔ اگلی بات اب اگلے کالم میں ان شاءاللہ !!


ای پیپر