مہنگائی سے لوگ پریشان اور ڈالر کہاں جا رہا ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار
10 اکتوبر 2018 (17:47) 2018-10-10

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ آج کل حالات بہت خراب ہیں، مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں اور ڈالر دیکھیں کہاں جا رہا ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی تین رکنی بینچ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ٹیکسوں کے معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایل این جی اور پیٹرول کی قیمتیں زیادہ کنٹرول نہیں کی جا سکتیں تاہم کچھ اقدامات کیے جا سکتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اقدامات حکومت کو ہی کرنے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا پی ایس او کے منیجنگ ڈائریکٹر 37 لاکھ تنخواہ کس مد میں لے رہے ہیں جس پر وکیل نے بتایا ایم ڈی کی تقرری وفاقی حکومت کرتی ہے، اس پر پی ایس او بورڈ کا کوئی کنڑول نہیں۔وکیل پی ایس او نے کہا کہ ایم ڈی عمران الحق کا باضابطہ طریقے سے تقرر کیا گیا اور تنخواہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق دی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا حکومت بتائے کس بنیاد پر ایم ڈی پی ایس او کو 37 لاکھ تنخواہ دی گئی، کوئی اور بندہ پاکستان میں اتنی تنخواہ نہیں لے رہا ہوگا۔ کہا جاتا ہے قیمتوں کے تعین میں ایم ڈی کا کوئی ہاتھ نہیں تو 37 لاکھ روپے پر ایم ڈی لگا کر ہمارے گلے مصیبت کیوں ڈالی؟ کیا یہ ملک پچاس لاکھ تنخواہ کا ایم ڈی برداشت کر سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ یہ اینگرو اور ایل این جی سیکٹر میں کام کرتے رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ایم ڈی پی ایس او کی تقرری کا معاملہ نیب کو بھجوا دیتے ہیں اور نیب ان کی تنخواہ اور مراعات کی تحقیقات کرے۔اٹارنی جنرل نے ایل این جی درآمد کے معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ کی استدعا کی اور کہا کہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے عدالت کو ان کیمرا بہت سی معلومات بتانا چاہتا ہوں جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرلی۔


ای پیپر