درختوں کے بارے میں فرمان رسولﷺ
10 اکتوبر 2018 2018-10-10

میں نے پیروں فقیروں پہ ابھی مزید لکھنا ہے، مگر حالات حاضرہ کا تقاضاہے کہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے پر بقول عطاءالرحمن صاحب نیب نے جو”چوں چالاکی“ دکھائی ہے وہ بالکل حالات کے برخلاف اقدام ہے، دوسرا موضوع تحریک انصاف کا این جی اوز پر پابندی لگانے کا نہایت مستحسن فیصلہ ہے میں نے جس کی تعریف کرنا اور اسے سراہنا ہے مگر چونکہ موسم کا خیال رکھتے ہوئے شجرکاری زیادہ سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے، جس پر پاکستان بلکہ بقول قاری سعید احمد خان جنہوں نے بتایا ہے کہ افغان عوام نے شجرکاری مہم پہ پچھلے سال کی طرح بھرپور حصہ لیا ہے، عمران خان کے درخت لگانے کی بات پر کوئی مسلمان ان سے متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دراصل موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی پہ قابو پانے کے لیے درخت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قدرتی تحفہ اور ذریعہ ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ لاہور کا موسم گرما میں درجہ حرارت کبھی 100، درجہ فارن ہائیٹ سے نہیں بڑھا تھا، مگر جنگ عظیم میں انگریزوں نے بڑی بیدردی سے جنگلات کاٹ کر اپنے فوجیوں کی ضرورت کوپورا کیا جس کی وجہ سے گرمی بڑھ گئی ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے شجرکاری کا ذکر کیا ہے، ارشاد ربانی ہے۔
”پس ذرا انسان اپنے کھانے کو ہی دیکھ لے کہ ہم نے اوپر سے خوب پانی برسایا پھر ہم نے زمین کو عجیب طرح سے پھاڑا، پھر ہم نے اس میں غلے اُگائے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے گھنے باغات اور میوے اور چارہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کی خاطر!
اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے درختوں ، جھاڑیوں اور پودوں کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح مختلف آیات میں باغات کھیتوں اور پھل کی مختلف اقسام کا ذکر کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پودے اور درخت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہیں۔ ایک اور جگہ پہ اللہ تعالیٰ نے درختوں اور ان کے نظام کو اپنی نعمت قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ درختوں اور دیگر اشیاءکے سائے کا بطور احسان تذکرہ کرتے ہیں، اور اللہ ہی نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لیے سائے پیدا کئے۔
جنگلات اور آبادیوں میں موجود سرسبز شاداب درخت ماحولیاتی کثافتوں کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں۔ اسلام میں درختوں کو کاٹنے سے منع کردیا گیا ہے، حتیٰ کہ جنگ جیتنے کے بعد مفتوحہ علاقے میں بھی درختوں کی کٹائی سے منع کیا گیا ہے، اور درختوں کی حفاظت کرنے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ درخت لگانے کی ترغیب دی گئی ہے، اور اسلام کی روسے کھیتوں اور پودوں کو برباد کرنا منافقین کا شیوہ ہے، اللہ تعالیٰ نے درختوں کو زمین کی زینت قرار دیا ہے۔ درختوں اور پودوں کی وجہ سے آسمان سے پانی برستا ہے ، درختوں سے جان داروں کو آکسیجن ملتی ہے، اور ہواﺅں میں اعتدال پیدا ہوتا ہے اور درجہ حرارت میں کمی آتی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ جوکوئی درخت لگائے، پھر اس کی نگرانی اور حفاظت کرتا رہے، حتیٰ کہ درخت پھل دیناشروع کردے، اور اگر اس درخت کا کوئی نقصان ہوجائے، تو وہ اس شخص کے لیے صدقے کا سبب بن جاتا ہے حضورﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگائے، اور اس میں سے کوئی انسان، درندہ، پرندہ، یا چوپایہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے بنجر زمین آباد کرنے، اور بے استعمال زمین کو قابل استعمال کرکے یعنی کاشت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا، جس کے پاس زمین ہو، اسے اس میں کاشتکاری کرنی چاہیے، اگر وہ اس میں خود کاشت نہ کرسکتا ہو، تو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے، تاکہ وہ اس میں کاشت کرسکے (مسلم شریف) حضورﷺ کی اسی ترغیب کے نتیجے میں صحابہ کرامؓ درخت لگانے کا اہتمام کرتے تھے، جلیل القدر صحابی ایک بار دمشق میں پودے لگارہے تھے یہ دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا، آپ صحابی رسولﷺ ہیں، اور پھر بھی پودے لگا رہے ہیں یہ اس کا طنز تھا کہ آپ دنیا کی حرص میں مبتلا ہیں، انہوں نے جواب دیا میں نے آپﷺ سے سنا ہے کہ اسلام صفائی ستھرائی اور نظامت پر زور دیتا ہے تاکہ نجاست کی وجہ سے ماحول گندا اور آلودہ نہ ہو، آب وہوا متاثر نہ ہو، حضورﷺ نے فرمایا کہ قیامت برپا ہورہی ہو، اور تمہیں درخت لگانے کی نیکی کا موقعہ مل جائے، تو فوراً نیکی کر ڈالو ، موجودہ جدید ترین سائنس کے مطابق درخت لگانے کے 60مثبت فوائد دریافت کئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک درخت کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے 18افراد کی ایک سال کی آکسیجن کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے، لکڑی سے غریب لوگوں کے ایندھن کے علاوہ انسانوں، حیوانوں اور پرندوں کی خوراک پوری ہوجاتی ہے۔ درخت لگانے سے سیلاب کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ درخت قحط اور خشک سالی سے بچاتے ہیں۔ اور بادلوں کی تشکیل کا باعث بنتے ہیں۔ درخت ڈیپریشن اور ذہنی تناﺅ کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ درختوں کے سائے سے دیہاتوں اور گاﺅں کے لوگ اور مسافر فائدے اٹھاتے ہیں، درخت ماحول میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے صوبے خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے ہیں، درخت کوئی بھی پانچ سال کی مدت میں مکمل جوان ہوجاتا ہے، مخالفین کا اعتراض ہے کہ وہاں ایک ارب نہیں بلکہ بہت کم تعداد میں درخت لگائے ہیں، اب جبکہ صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ تفتیش کے لیے جیل پہنچ جاتا ہے، تحریک انصاف کو ان کے اس سوال کا تسلی بخش جواب دینا چاہیے، آج کراچی جو گرمی کے بدترین موسم کی سزابھگت رہا ہے اس میں وزیراعظم نے ایک ارب درخت بطور کراچی کے عوام کے لیے تحفہ دینے کا اعلان کیا تھا، اس وعدے کو کب پورا کیا جائے گا؟
حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جودرخت لگانے کے بعد اس کی حفاظت اور نگرانی اس کی جوان اور مکمل درخت اور پھل دینے تک کرے اس کے لیے بہت ثواب ہے۔ بعض پھل دار درخت ایسے ہیں کہ جن کی اولاد کی طرح حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً آم کا درخت، افغانستان ، اور پشاور خشک میوہ جات سے کثیر زرمبادلہ کماتے ہیں، درخت ہمیشہ وہ لگانے چاہئیں جن کا کوئی فائدہ ہو مثلاً پھل دار درخت، اور سہانجہ ، جس کے اتنے فائدے ہیں کہ جن کا شمار ہی نہیں، اس کے پتوں سے بھی ”گرین ٹی“ بنتی ہے، جو انسان کی صحت کے لیے بے حد فائدہ مند ہے، بھارت اس درخت کی وجہ سے سالانہ کثیر زرمبادلہ کما رہا ہے، پاکستان میں درخت لگانے کے بعد اس کا باقاعدہ اعدادوشمار کا حساب رکھنا چاہیے، اور محکمہ جنگلات کے اہل کار اس کی حفاظت کے ذمہ دار قرار دیئے جائیں۔ چند درخت ایسے بھی ہیں کہ جن کا کوئی فائدہ نہیں، مثلاً ”سنبل“ کے درخت جوجنرل ایوب خان نے سیم وتھور زدہ زمین کے خاتمے کے لیے پاکستان میں لگوائے تھے۔ جو زمین سے ہزاروں گیلن پانی چوس لیتے ہیں۔ یہ درخت لاکھوں روپوﺅں میں پٹھان آج کل خرید لیتے ہیں اس سے ماچس کی تیلیاں بنتی ہیں، مگر زمین کے لیے سخت نقصان دہ ہے، یہ کتنے افسوس کی بات ہے، کہ ہمارے گاﺅں میں اور شہروں میں بچوں کی تربیت ایسی ہے کہ وہ پودوں کی حفاظت کرنے کے بجائے اکھاڑ پھینکتے ہیں، خدارا اپنے وطن کے ننھے منے پھول ، جو اللہ کے دوست ہوتے ہیں، ہندودانشور بھرتری ہری کہتے ہیں ، سورج خودبخود پھول کھلا دیتا ہے چندرما آپ ہی آپ چاندنی پھیلا دیتی ہے، بادل بن مانگے ہی پانی برسا دیتا ہے، اسی طرح نیک انسان بغیر کہے ہی خود بخود دوسروں کی بھلائی کے کام کرتا ہے، قارئین یہ تو تھا کافر کا قول۔ مگر ہمارا ایمان ہے کہ خوشبو جب قرآن سے نکلتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے محبت اور قرب کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور اللہ کا فرمان ہے کہ درخت لگا کر اس کی حفاظت کریں ، تحریک انصاف کا شجرکاری کے علاوہ صاف ستھرے پاکستان کا فیصلہ بہت ہی اچھا فیصلہ ہے، بس ذہن بھی اپنے جیسے” انسانوں“ کے لیے کینے اور بغض سے صاف کرنے کی ضرورت ہے، مگر یہ بھی اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔


ای پیپر