Martial Law,Pakistan,Musharaf,
10 نومبر 2020 (23:04) 2020-11-10

صفدر محمود:

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں فوجی مداخلت اور مارشل لائوں کے نفاذ کا کوئی تعلق کمانڈر انچیف کی ملازمت میں توسیع یا ’’توسیعات‘‘ سے ہے؟ پاکستان اب تک 4مارشل لاء بھگت چکا ہے۔ مستقبل کا حال صرف ہمارا رب جانتا ہے۔ ان 4مارشل لائوں کے سربراہ  جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف تھے۔ ان چاروں میں سے صرف جنرل ایوب خان ایسے کمانڈر انچیف تھے جنہیں نوکری میں توسیع ملتی رہی، باقی تینوں جرنیلوں نے اپنی اپنی ٹرم یا معیاد کے اندر ہی مارشل لاء لگا دیئے اور حکومت پر قابض ہو گئے۔ ہر حکمران نے اپنی اپنی بصیرت اور فہم وفراست کے مطابق بہترین اور قابل اعتماد جرنیل کو آرمی چیف بنایا اور اپنے تئیں فوجی مداخلت کے امکانات ختم کرنے کی کوششیں کیں لیکن اس کے باوجود ایوب خان جیسے تجربہ کار جرنیل سے لے کر بھٹو جیسے ذہین اور شاطر سیاستدان تک اور میاں نواز شریف جیسے محتاط وزیراعظم تک سبھی اپنے ارادوں میں ناکام ٹھہرے اور فوجی مداخلت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جنرل پرویز کیانی خوش قسمت تھے، سروس میں توسیع بھی پائی، مداخلت کے مواقع اور جواز بھی پیدا ہوتے رہے لیکن انہوں نے سیاسی اقتدار کی خواہش سے دامن آلودہ نہ ہونے دیا۔ میں جب پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں اور فوجی مداخلتوں کے احوال پڑھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ’’ہونی‘‘ ہو کر رہتی ہے، انسان لاکھ تدبیریں کرلے، ہزار ’’احتیاطوں‘‘ کی دیواریں کھڑی کرلے، جب مداخلت ہونی ہوتی ہے تو پھر وہ ہو کر رہتی ہے اور حالات اُسی سمت میں استوار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ حادثے اور سانحے کے بعد ہم جیسے اُن کا تجزیہ کرتے رہتے ہیں، ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں، اندرونِ خانہ کے راز فاش کرتے رہتے ہیں اور وجوہ کے بخیے اُدھیڑتے رہتے ہیں۔ اقتدار والوں کا وہی حال ہوتا ہے۔

اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا

جہاں تک تدبیر کا تعلق ہے جنرل ایوب خان نے ’’آئوٹ آف دی وے‘‘ جا کر یحییٰ خان کو اپنا جانشین مقرر کیا کیونکہ یحییٰ خان اُس کا ’’قابل اعتماد ترین‘‘ ساتھی تھا لیکن ہزاروں شواہد گواہی دیتے ہیں کہ ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک اور بھاشانی کی جلائو گھیرائو مہم کو یحییٰ خان کی کھلی آشیرباد حاصل تھی۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کے اردگرد سازشوں کا جال بُن دیا تھا اور ایوب خان کے اعصاب کو توڑنے کے لیے اُسے تباہی وبربادی اور نذرآتش کی خبریں تواتر سے بھجوائی جارہی تھیں تاکہ ایوب خان مجبور اور بے بس ہو کر اقتدار ہو کر اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کردے۔ غلام احمد پرویز راوی ہیں کہ وہ ایوبی عہد حکومت کے آخری ایام میں صدر ایوب کے پاس بیٹھے تھے جب یحییٰ خان کی جانب سے لاہور ریلوے سٹیشن کو بلوائیوں کے ہاتھوں نذرآتش کی تحریری خبر ایوب خان کے کانپتے ہاتھوں میں تھمائی گئی۔ یحییٰ خان ملک توڑنے کے بعد بھی اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتا تھا لیکن فوج کے اندر بغاوت اور ایئرفورس کے تیوروں نے اُسے اقتدار کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا۔ ضیاء الحق جونیئر جرنیل تھا لیکن بھٹو جیسے ذہین وفطین سیاستدان نے اُسے ’’قابل اعتماد ترین‘‘ جانا۔ تاریخ کی شہادت دستیاب ہے کہ ضیاء شروع شروع میں بھٹو کو پھانسی لگانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا لیکن بقول جنرل چشتی جس دن بھٹو نے لاہور کے جلسہ عام میں جرنیلوں کو پھانسی چڑھانے کا جذباتی اعلان کیا، ضیاء الحق کے چہرے کا رنگ پہلے زرد اور پھر غصّے سے سرخ ہو گیا۔ اسی لیے قبر ایک اور لاشے دو کے عوامی مفروضے نے شہرت پائی۔ جنرل پرویز مشرف بھی جونیئر تھے لیکن ان کے مقدر میں صدر بننا لکھا تھا۔ میاں نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کو رُخصت کر کے اپنے ہر قسم کے پیاروں سے طویل مشورے کرنے کے بعد اُسے قابل اعتماد ترین سمجھا اور کندھوں پر ستارے سجا دیئے۔ فرعون کی بیوی کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے بچے پر اس قدر پیار آیا کہ اُسے گود بٹھالیا۔ کیا اُسے خبر تھی کہ یہ بچہ جوان ہو کر ہمارے تخت وتاج کو دریا بُرد کردے گا۔

ہاں جمہوری اور سیاسی ادوارِ حکومت کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں، انہیں فرعونی دورِ حکومت سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔ جان کی امان پائوں تو تاریخ سے ہٹ کر عرض کروں کہ میرے مطالعے اور مشاہدے کے مطابق فوجی مداخلت کا نشانہ بننے والے حکمران رویے اور سوچ میں فرعونی تکبر کی علامتیں بنے ہوئے تھے اور تکبر ہی عام طور پر حکمرانوں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ ایک ہوتا ہے تاریخی فیکٹر یا سیاسی عوامل اور دوسرا ہوتا ہے خدائی فیکٹر۔ ہم تاریخی وسیاسی عوامل پر تو بہت زیادہ روشنی ڈالتے ہیں لیکن دوسرے فیکٹر کو قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ تاریخی حوالے سے لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مضبوط ومقبول قیادت کے فقدان نے سول اور ملٹری بیوروکریسی کو اقتدار پر حاوی کردیا تھا۔ غلام محمد جیسے سول سرونٹ کا گورنر جنرل کے بااختیار عہدے پر تقرر نہ صرف سیاستدانوں کی کم فہمی اور سیاسی بصیرت کے فقدان کا نوحہ تھا بلکہ اقتدار پر بیوروکریسی کے چھا جانے کا الارم بھی تھا۔ بے شک ایوب خان میں سیاسی جراثیم موجود تھے اور قائداعظمؒ کی دوربین نگاہوں اور بصیرت نے ان جراثیم کو محسوس کرتے ہوئے ہی ایوب خان کی مشرقی پاکستان میں ٹرانسفر کے موقع پر لکھا تھا’’میں اس آرمی آفیسر کو جانتا ہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی رکھتا ہے‘‘۔ (بحوالہ جرنیل اور سیاستدان ازقیوم نظامی، صفحہ 22)۔

سردار عبدالرب نشتر کی سوانح عمری میں بھی سردار صاحب کا یہ بیان محفوظ ہے کہ جنرل ایوب خان اپنی نجی محفلوں میں حکمرانوں سیاستدانوں کی نالائقیوں کے قصے بیان کرتا ہے۔ اُس کے عزائم خطرناک ہیں۔ اگر پاکستان میں مارشل لاء لگا تو مشرقی پاکستان الگ ہو جائے گا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے خفیہ کاغذات جن سے اب پردہ ہٹا دیا گیا ہے۔ ان میں ایک میٹنگ کی کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ جب خواجہ ناظم الدین کے دور میں گندم کی شدید قلت پھیلی اور امریکہ سے گندم لی گئی تو ایک میٹنگ میں کمانڈر انچیف نے وزیر تجارت کو خوب جھاڑا جس کی صدارت وزیراعظم کررہے تھے۔ چودھری محمد علی مرحوم نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ غلام محمد کے 1954ء میں دستور ساز اسمبلی کی منسوخی کے فیصلے کے پس پردہ ایوب خان تھے اور جب دستور ساز اسمبلی کی منسوخی کے بعد وزیراعظم محمد علی بوگرہ کو غلام محمد وزیراعظم کی حیثیت سے جاری رکھنے کے لیے مجبور کررہا تھا تو چودھری صاحب نے خود دیکھا کہ پردے کے پیچھے جنرل ایوب خان رائفل پکڑے کھڑا تھا۔ اس کی تفصیل میری کتاب ’’مسلم لیگ کا دورِ حکومت‘‘ میں موجود ہے۔ گورنر جنرل غلام محمد نے 1953ء میں وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو کمانڈر انچیف ایوب خان کی حمایت حاصل کر کے ڈسمس کیا تھا۔ باوجود یہ کہ جنرل ایوب خان بُری طرح اقتدار کی سیاست میں ملوث ہوچکا تھا۔ 1958ء کا پہلا مارشل لاء صدر مملکت سکندر مرزا نے لگایا اور ایک دن کے لیے ایوب خان کو وزیراعظم بھی بنایا۔ جب سکندر مرزا کی نیت میں فتور آیا تو ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ایوب خان کو اس اقدام پر ملک بھر سے لاکھوں ٹیلی گرام موصول ہوئیں کیونکہ عام انتخابات نہ ہونے کے سبب اسمبلی اور سیاستدان اور حکمران عوامی نظروں میں ملعون ہوچکے تھے۔ انہیں عوامی تائید حاصل نہیں تھی۔ اسی طرح جمہوری اداروں کی کمزوری، سیاستدانوں کا باہمی نفاق اور عوامی تحریک بھٹو کی اقتدار سے محرومی کا باعث بنے۔ یہی اسباب ایوبی مارشل لاء اور یحییٰ خان کے مارشل لاء کے وقت نہ صرف موجود تھے بلکہ متحرک تھے البتہ پرویزی مارشل لاء کارگل مہم جوئی، وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان نفرت کی خلیج اور وزیراعظم کی طرف سے آرمی چیف کو غیرمعروف اور قدرے توہین آمیز انداز سے ہٹانے کا نتیجہ تھا جسے آپ حادثاتی مارشل لاء بھی کہہ سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں فوجی مداخلتوں کی کہانی کا آرمی چیف کی معیاد میں توسیع سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سے جونیئر افسروں کا حق مارا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں فوجی مداخلت ہمیشہ جمہوری اداروں کی کمزوری، عوامی تائید کی قلت، سیاستدانوں کے باہمی نفاق، عدلیہ اور میڈیا کی ابن الاقتی اور حکمرانوں کے تکبر اور نالائقیوں کا شاخسانہ تھی۔ الحمدللہ اب حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں۔ میڈیا کی مضبوطی اور آزادی اور عدلیہ کی آزادی اور آئین کی حفاظت کے واضح عہد نے فوجی مداخلت کے راستے میں بلند وبالا دیواریں کھڑی کردی ہیں جنہیں عبور کرنا بہرحال آسان نہیں۔ باقی غائب کا علم صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پاس ہے۔


ای پیپر