”خوش قسمت اور عقل مند ترین شخص“
10 نومبر 2019 2019-11-10

میں بلاخوف تردید مسلم لیگ نون کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کو پاکستان کا خوش قسمت ترین شخص قرار دے سکتا ہوں ، بھلا پاکستان میں کون دوسرا ایسا ہے جس کے گردکم و بیش چار عشروں سے پاکستان کی سیاست گھوم رہی ہو، پاکستان کی سیاست کی سب سے بڑی حقیقت اسٹیبلشمنٹ ہے جس کی گزشتہ پینتیس، چالیس برسوں سے دو ہی مصروفیات ہیں، پہلی یہ کہ نواز شریف کو لانا ہے اور جب آ گیا تو اسے نکالنا ہے۔ یہ اسی کی دہائی تھی جب ضیاءالحق کا مارشل لاءاپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا اور اسے ایسے چہروں کی ضرورت تھی جو اس وقت کے فوجی اقتدار کی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بن سکیں۔ اس وقت سیاست جاگیرداروں کا مشغلہ تھی جبکہ نواز شریف ایک کاروباری خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ اس خاندان کے سربراہ میاں محمد شریف بہت مذہبی، فراخ دل اور سمجھدار شخص تھے۔ وہ جانتے تھے کہ عزت، محبت اور تحفوں سے دل جیتے جا سکتے ہیں، ان کا یہ فارمولا کچھ استثناو¿ں کے ساتھ بہت کامیاب رہا، استثنائی ناموں میں طاہر القادری ، عمران خان اور کچھ سول و ملٹری شخصیات کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ فیصلہ سازوں نے نواز شریف کو لانے کے لئے بہت محنت کی ۔ نواز شریف شکل وصورت اور انداز و گفتار سے بہت بھولے لگتے تھے اور جس نے بھی ان کی سادگی کو معصومیت یا بے وقوفی سمجھا دراصل وہ خود احمق ثابت ہوا۔ نواز شریف کو نواز شریف بنانے میں جماعت اسلامی نے بھی کردارادا کیا مگرپروین شاکر کے شعر کے مصداق، ’ جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی‘۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

جماعت اسلامی کی طرف سے محبت کا ترک ہونا علامت تھی کہ نواز شریف اب فیصلہ سازوں کی چوائس نہیں رہے،انہیں اپنی عوامی مقبولیت کا زعم ہونے لگا ہے لہٰذا انہیں سب سے پہلا سبق 1993 میں سکھانے کی کوشش کی گئی اور پھر یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب تک آئین میں اٹھاون ٹو بی برقرار رہی تب تک مسئلہ نہیں ہوا مگر1999 میں نواز شریف سے کہا گیا کہ وہ اسمبلیاں توڑ دیں اور گھر چلے جائیں، انہوں نے حسب فطرت انکار کر دیا اور یوں ان کی زندگی کا مشکل ترین دور شروع ہوا۔ پرویز مشرف کی خواہش تھی کہ نواز شریف کا انجام ذوالفقار علی بھٹو والا ہی ہومگراسی دوران بیگم کلثوم نواز میدان میں آئیں اور انہوں نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ پیپلزپارٹی بھی نوابزادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں مسلم لیگ نون کی ہم سفر بن گئی۔ اس اتحاد کو الائنس فاردی ریسٹوریشن آف دی ڈیموکریسی کانام دیا گیا۔ آج لوگ حیران ہوتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان میدان میں موجود ہیں، وہ حکومت کو زچ کئے ہوئے ہیں اور اس کا سب سے بڑا فائدہ نواز شریف اٹھا رہے ہیں کہ وہ نہ صرف خود ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں بلکہ مریم نواز کی بھی ضمانت پر رہائی ہوچکی ہے تومیرا سوال یہ ہے کہ کیا نوابزادہ نصراللہ خان ایک انتہائی معاملہ فہم بلکہ شاطر سیاستدان نہیں تھے ، تاریخ بہت دلچسپ ہوتی ہے کہ جب نوابزادہ نصراللہ خان پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی سربراہی سنبھال کر پھولے نہیںسما رہے تھے تو چند ہی دنوں میں انہیں اطلاع مل گئی تھی کہ مشرف حکومت نواز شریف کو جلاوطن کرنے پر مجبورہو گئی ہے۔

عمران خان کو نواز شریف کے معاملے میں پرویز مشرف کی نقل سمجھا جا سکتا ہے۔وہ نواز شریف سے نفرت کا ووٹ لے کر اقتدار میں آئے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ وہ مرجائیں گے مگر این آر او نہیں دیں گے بلکہ وہ امریکا تک جا کے یہ کہتے رہے کہ وہ نواز شریف کے کمرے سے ٹی وی اٹھا لیں گے اور ائیرکنڈیشنر اتار لیں گے مگر پھر یوں ہوا کہ انہیں بھی نواز شریف کو گھر ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی بھیجنا پڑ رہا ہے اور وہ فیصلوں پر ایک کلرک کی طرح دستخط کر رہے ہیں۔ میں نے نواز شریف کے حامیوں کو سوشل میڈیا پر دیکھا ہے، وہ تمام جو چند روز قبل تک انہیںجمہوریت اور نظرئیے کا سرخیل قرار دے رہے تھے اب’ جان ہے تو جہان ہے‘ جیسی باتوں کے ساتھ ان کی بیرون ملک روانگی کوکامیابی قرار دے رہے ہیں۔ و ہی لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جو دنیا میں اپنے اپنے حصے کے بے وقوف ساتھ لے کر آتے ہیں۔ نوازشریف ہی نہیں بلکہ عمران خان بھی اس حوالے سے بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کے وہ حامی جو ا ن کی طرف سے این آر او نہیں دوں گا کے نعروں خوشی اور جوش سے اچھلا کرتے تھے اب خود ثابت کر رہے ہیں کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ کچھ اپنے دل کو اطمینان دینے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے چودہ ارب ڈالر کے بدلے یہ رہائی لی ہے۔ کیا خود فریبی ہے کہ ایک حکومت قسطوں میں ملنے والے صرف چھ ارب ڈالر کے لئے اپنی پوری معیشت اور انتظامیہ کو آئی ایم ایف کے سامنے گروی رکھے ہوئے ہے اور اسے صرف ایک بیمار کو علاج کی سہولت دینے کے نام پر چودہ ارب ڈالر مل گئے ہیں۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جہاں نواز شریف پر قومی خزانے میں ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت نہیں کی جا سکی وہاں انہوں نے ایک دمڑی بھی ادا نہیں کی ہو گی ۔

نواز شریف آج اتوار کے روز نہیں جائیں گے تو اسی ہفتے کے کسی دوسرے دن روانہ ہوجائیں گے کہ ان کی روانگی طے شدہ امر بن چکی ہے۔ یہ ہماری تاریخ کا پہلا مریض ہے جو تشویشناک حالت میں ہسپتال سے گھر منتقل ہوا ہے۔ یہ وہ مریض ہے جس نے اس وقت تک ہسپتال نہیں چھوڑا جب تک اسے اپنی بیٹی کی رہائی کا پروانہ بھی ہاتھ میں نہیں تھما دیا گیا۔ مجھے انیس ، بیس برس پہلے کاوہ وقت یاد آ گیا جب محترمہ کلثو م نواز اٹک قلعے میں میاں صاحب سے ملاقات کر کے آئی تھیں اور بتایا تھا کہ ان کاآدھا جسم سُن ہو چکا ہے، وہ باقاعدہ رو رہی تھیں اور ڈاکٹر ہمیں میاں نواز شریف کی بیماری کے پیچیدہ نام بتا رہے تھے جس کا علاج پاکستان میں ناممکن تھا۔ اس وقت الیکٹرانک میڈیا نہیں ہوتا تھا اور پرنٹ میڈیا کے ہم نصف درجن کے لگ بھگ رپورٹروں نے بہت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا مگرپھر گنتی کے دنوں میں ہی نواز شریف ملک سے چلے گئے تھے ۔ نواز شریف کی بیماری اس وقت بھی ایسی ہی ہے کہ جس کی سمجھ پاکستان میں کسی کو نہیں آ رہی تھی، تشخیص نہیں ہو پا رہی تھی ،علاج نہیں ہو پا رہاتھا۔

مجھے ببانگ دہل یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ نواز شریف پاکستان کی تاریخ کے خوش قسمت ترین شخص ہیں جو تین مرتبہ وزیراعظم بھی رہے اور اب بھی سیاست ان کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ پاکستان کی ایسی سربراہی تو پاکستان کے خالق کو بھی میسر نہیں ہوئی۔ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے لائے گئے اورپھر یہ وقت آیا کہ وہ نظریہ کہلانے لگے۔ انہیں ایک آمر نے قتل کرنا چاہامگر پھر وہ آمر بھی جان بچا کے بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ نواز شریف، جمہوری رہنماو¿ں کے بجائے بادشاہوں جیسی انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو ناراض کرنے ہی نہیں بلکہ اس کے بعدحالات کو اپنے حق میں ڈھالنے کی بھی عجب صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اتنے خوش قسمت اور عقل مند ہیں کہ پرویز مشرف اور عمران خان جیسوں کو ان کی اوقات دکھا سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب وہ پہلے کی طرح ایک مرتبہ پھروا پس آئیں گے تو ان کے لئے تالیاں بجانے اور نعرے لگانے والے بہ سروچشم موجود ہوں گے کہ میرے رب نے نواز شریف کے حصے کے بے وقوف انہیں نسل در نسل عطا کر رکھے ہیںجن کی تعداد میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔


ای پیپر