پالتو مرغیاں
10 نومبر 2018 2018-11-11

ہمارے ریاستی اداروں کو مرغیاں پالنے اور ان سے حسب ضرورت کام لینے کا بہت شوق ہے۔۔۔ یہ مرغیاں اگر سر کو آن چڑھیں تو انہیں ملیامیٹ کر کے رکھ دینے کا جان لیوا عمل شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ جسے قوم کے سامنے بہت بڑی کامیابی کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔۔۔ 1971ء کے بعد کے پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑایے تو ’ایم کیو ایم‘، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد ، پھر طالبان اور تازہ ترین پیشکش کے طور پر تحریک لبیک اسی ایک سلسلے کی کڑیاں ہیں۔۔۔ مارشل لاؤں کے ذریعے آئین پاکستان کو اکھاڑ پھینکنے اور منتخب پارلیمنٹ کے حق حکمرانی کو پامال کر دینے کا شغل بہت پرانا ہے۔۔۔ 1958ء سے چلا آ رہا ہے۔۔۔ 2008ء تک یہ کام اتنا بدنام ہو چکا تھا کہ جنرل مشرف کا دور صدارت ختم ہوتے وقت اس طرح کا براہ راست اقدام راندہ درگاہ بن چکا تھا کہ اس کی جانب رجوع کی کسی کو ہمت نہیں ہوتی۔۔۔مگر مارشل لاء اور فوجی حکومتوں کے دوران اور ان کے بعد بھی سیاسیات ملکی کے دھارے پر اثرانداز ہونے کے لیے پالتو مرغیوں کے طریق کار سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔۔۔ بعد میں ان کے خاتمے کی ضرورت پیش آئی تو مرغیاں حاصل کردہ طاقت کے بل بوتے پر مزاحمت پر اتر آئیں۔۔۔ ان کو نیست و نابود کرنے کی خاطر ریاستی طاقت کا بے محابا استعمال کرنا پڑا۔۔۔ ہزاروں جانیں تلف ہوئیں۔۔۔ املاک کا غیرمعمولی نقصان برداشت کرنا پڑا۔۔۔ کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں پر سخت برا اثر پڑا۔۔۔ ملکی پیداوار متاثر ہوئی اور ہمارے بہادر اور انتہائی محب وطن افسروں و جوانوں کی قابل لحاظ تعداد کو جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔۔۔ ’ایم کیو ایم‘ کی کہانی سب کے سامنے ہے۔۔۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء جوبن پر تھا۔۔۔ بھٹو کو پھانسی مل چکی تھی۔۔۔ پورے ملک کے علاوہ اندرون سندھ اس کا ردعمل سخت ترین تھا۔۔۔ 1983ء میں اپوزیشن جماعتوں نے ’ایم آر ڈی‘ کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر بحالی جمہوریت کی خاطر جو ملک گیر تحریک شروع کی پیپلز پارٹی اس تحریک کی روح رواں تھی اور اندرون سندھ اس کی اٹھان دیکھی نہ جاتی تھی۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دیہاتی سندھ کا بچہ بچہ بھٹو کی پھانسی پر سراپا احتجاج ہے۔۔۔ دیہی آبادی کی اس صوبے میں واضح اکثریت ہے لہٰذا پورا سندھ سیاسی اور عوامی سطح پر فوجی حکومت کے ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ سندھی قوم پرستی نعروں کی گونج ہرسو سنائی دیتی تھی۔۔۔ اس کا تریاق سوچا گیا۔۔۔ سندھیوں کے مقابلے میں مہاجر قوم پرستی کے جذبات کو خوب خوب ہوا دی جائے۔۔۔ شہری اور دیہاتی سندھ کو ایک دوسرے سے کاٹ کے رکھ دیا جائے۔۔۔ دونوں کا علیحدہ اور مدمقابل سیاسی تشخص ہو۔۔۔ سندھ کے عوام کبھی متحد نہ ہوپائیں۔۔۔ 1985ء کے بعد ایم کیو ایم نے سندھ کے شہری علاقوں خاص طور پر کراچی و حیدر آباد نیز دیگر مقامات پر زور پکڑا۔۔۔ مہاجر قوم پرستی کے نعروں نے مقبولیت حاصل کی۔۔۔ بانیان پاکستان کی وہ اولادیں جن کا طرۂ امتیازاپنے آباء کا عظیم کارنامہ تھا وہ لوگ پاکستان آ بسنے کے بعد قومی سیاسی دھارے کے ساتھ جڑے رہے۔۔۔ مگر صوبہ سندھ کے عوام کے درمیان نسلی تفریق کی خلیج کو وسیع تر کرنے کے لیے ان کے کچھ پس ماندگان اور زیادہ تر نئی نسل کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں سندھ کی اکثریتی آبادی نہیں عملاً پورے پاکستان کے قومی دھارے سے علیحدہ کر کے رکھ دیا اور باور کرانے کی کوشش کی گئی اپنا علیحدہ تشخص تسلیم کرا رہے ہیں ۔۔۔ پورا سندھ نسلی بنیادوں پر تقسیم ہوگیا۔۔۔ ایم کیو ایم کے قیام کا ایک اور مقصد بھی تھا۔۔۔ جماعت اسلامی کراچی اور حیدرآباد میں انتخابی مقبولیت رکھتی تھی۔۔۔ اس کی منصورہ لاہور والی مرکزی قیادت تو جنرل ضیاء الحق کی حامی تھی۔۔۔ لیکن کراچی میں پروفیسر غفور احمد، محمود اعظم فاروقی اور سید منور حسن جیسے رہنما سرتاپا جمہوریت دوست تھے۔۔۔ یہی حال وہاں کے کارکنان کا تھا۔۔۔ ایم کیو ایم کو شہری سندھ کی نئی سیاسی و انتخابی طاقت بنا کر جماعت اسلامی کا بھی ان علاقوں سے صفایاکرنے کا بیڑہ اٹھایا گیا۔۔۔ ایم کیو ایم صرف انتخابی معرکے نہیں لڑتی تھی۔۔۔ دہشت گردی کے میدان میں بھی پیش پیش تھی۔۔۔ اس نے خوف و ہراس کی ایسی فضا مسلط کر رکھی تھی جو مقابلے کی سوچتا جان ہاتھ سے گنوا بیٹھتا۔۔۔ اس ایم کیو ایم نے کراچی جیسے شہر قائد، رات کی روشنیوں سے جگمگاتے ملک کے سب سے بڑے مرکز اور پاکستان کی اقتصادی شہ رگ کو عملاً پورے ملک سے کاٹ کر رکھ دیا۔۔۔ ایم کیو ایم بزور ’’عوامی طاقت‘‘ پے در پے انتخابات جیتتی تھی۔۔۔ قتل و غارت گری کا بازار بھی گرم کر رکھا تھا اور اسمبلیوں میں پہنچ کر اوپر والوں کے اشارہ ابرو پر منتخب حکومتوں کے اکھاڑ پچھاڑ میں بھی

حصہ لیتی تھی۔۔۔ قومی تاریخ کی تین دہائیاں اس میں صرف ہو گئیں ۔۔۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری نے کراچی جیسے شہر عظیم کو کچرے اور عملاً کھنڈرات کے ڈھیر میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔۔۔ انسانی جان کی حرمت باقی نہ رہی نہ کراچی شہر کی پہلی جیسی چمک دمک عنقا ہو گئی ۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا تو ’لندن‘ میں مقیم قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے بالآخر 23 اگست 2016ء کو وہ تقریر کر ڈالی جس میں قائداعظمؒ سے لے کر تمام بانیان پاکستان، ملکی وحدت اور ہر قومی علامت کے تقدس کو لتاڑ کر رکھ دیا۔۔۔ کارکنان سے کہا جو سامنے آئے اس پر یلغار کر دو۔۔۔ تب اس تنظیم کی تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوا۔۔۔ ایم کیو ایم میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔۔۔ لیکن اس نے اپنے پیچھے جو کراچی چھوڑا ہے اس کے حالات سدھرنے میں شاید اتنی دہائیاں لگ جائیں۔۔۔ جتنی اسے بنانے ، عروج دینے اور سندھ کو سیاسی تقسیم کی راہ پر گامزن کرنے میں صرف ہوئیں۔

اسّی کی دہائی کے آغاز میں انقلاب ایران نے تقریباً پوری دنیا کی نظریں اپنی جانب مبذول کر لی تھیں۔۔۔ عالمی حالات کو گرفت میں لے لیا تھا۔۔۔ ایران اور سعودی عرب و عراق کے مابین بھی کچھ فرقہ وارانہ بنیادوں پر، کچھ خطے میں اپنی اپنی بالادستی قائم کرنے کی دوڑ میں اور کچھ تیل کی عالمی تجارت میں فائدہ مند سبقت حاصل کرنے کی مقابلہ بازی کی وجہ سے سخت چپقلش شروع ہو گئی۔۔۔ انقلاب ایران کو ہمسایہ مسلم ممالک کے اندر ایکسپورٹ کیا جا رہا تھا۔۔۔ سعودی عرب اور عراق بھی اس زیرزمین مقابلے میں آن کھڑے ہوئے۔۔۔ رنگ اس کا فرقہ وارانہ تھا۔۔۔ پاکستان میں سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد نام کی تنظیمیں سینہ تان کر آمنے سامنے کھڑی تھیں۔۔۔ فرقہ وارانہ فسادات نے تیزی سے جنم لیا۔۔۔ ان کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کی بجائے ہمارے ریاستی اداروں نے ان کے اندر بھی پس پردہ رسوخ بڑھا لیا۔۔۔ قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو ان کے ذریعے بھی آنکھیں دکھائی گئیں۔۔۔ سپاہ صحابہ ہر انتخاب میں قومی اور پنجاب میں دو چار نشستیں حاصل کر لیتی تھی۔۔۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد جنرل مشرف کو اپنی مرضی کا وزیراعظم منتخب کرانے کی مشکل پیش آئی تو سپاہ صحابہ کے اس وقت کے سربراہ اعظم طارق نے اپنا ووٹ ڈال کر ایک نشست کی اکثریت ممکن بنا دی۔۔۔ یہ جماعتیں پہلے کی مانند اگرچہ اپنا وجود نہیں رکھتیں مگر اپنے پیچھے سرزمین پاک کو فرقہ وارانہ فسادات سے خون آلود کرنے کی تاریخ چھوڑ گئی ہیں۔۔۔ سپاہ صحابہ کے پیشتر اور تربیت یافتہ کارکنان اس تھریک طالبان میں شامل ہوئے جسے کبھی ہمارے ادارے اپنا سٹریٹجک اثاثہ قرار دیتے نہیں تھکتے تھے لیکن جولائی 2007ء کے لال مسجد کے بہیمانہ اور ظالمانہ آپریشن کے بعد ان لوگوں نے جن کی ماقابل سرگرمیوں کا اصل مرکز سرزمین افغانستان تھی، تحریک طالبان پاکستان کے نام سے نیا تشخص اختیار کیا اور ملک بھر میں دہشت گردی کا وہ طوفان اٹھایا کہ الامان و الحفی٭۔۔۔ کچھ بھی محفوظ نہ رہا۔۔۔ بڑے بڑے ادارے اور ان کے دفاتر نشانے پر تھے۔۔۔ بم دھماکے ہوئے۔۔۔ خود کش حملوں نے زور پکڑا۔ جہاں تہاں خون کی ندیاں بہا کر رکھ دی گئیں۔۔۔ بے گناہوں کی زندگیاں تلف ہوئیں۔۔۔ پھر اس کے تدارک کے لیے آپریشن ضرب عضب شروع ہوا۔۔۔ ہمارے درجنوں سے زائد فوجی سپوتوں نے جانوں پر کھیل کر اس فتنے کو جڑوں سے اکھاڑ دینے کے مشن میں حصہ لیا بقیہ کام آپریشن رد الفساد کے ذریعے کیا گیا اس دوران جان و مال کا جو ناقابل تلافی و ناقابل بیان نقصان ہوا۔۔۔ اس کا صحیح معنوں میں ابھی تک اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔۔۔ پالتو مرغیوں کو ملیا میٹ کر کے رکھ دینے کی ہمیشہ بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔۔۔ مندرجہ بالا آپریشن جاری تھا کہ نواز شریف کو سیاسی و انتخابی شکست سے دو چار کرنے کا مشکل ترین مرحلہ آ گیا وہ تین مرتبہ انتخابات جیت کر ملک کا وزیرعظم بن چکا تھا۔۔۔ اب چوتھے انتخابات میں شکست دینا آسان معلوم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ ووٹ بینک اس کا مضبوط تر تھا۔۔۔ اسے پہلے پانامہ اور پھر اقاما کے الزامات کی لپیٹ میں لے کر نا اہل تو قرار دیا جا چکا تھا۔۔۔ لیکن انتخابی طاقت پوری طرح قائم تھی۔۔۔ اسی دوران سپریم کورٹ کے حکم پر ممتاز وقادری کی پھانسی سے پیدا ہونے والے جذبات کی لہر سے فائدہ اٹھا کر تحریک لبیک وجودمیں آ گئی۔۔۔ اس کے ذریعے ہر نشست پر نواز شریف کی جماعت کے ووٹ بینک کاٹ

دینے کے فریضے کی ادائیگی کی شروعات کی گئیں۔۔۔ پھر فیض آبادکے دھرنے نے آن لیا۔۔۔ انہیں سر عام تھپکی دی گئی۔۔۔ پیسے تقسیم کیے گئے۔۔۔ 2018ء کے چناؤ میں اس پالتو مرغی نے مسلم لیگ (ن) کی کئی نشستیں ہڑپ کر لیں ۔۔۔ اب جو سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی دہائی کا فیصلہ صادر کیا ہے۔۔۔ تو لبیک والوں نے تین روز تک ملک کو اپنی جکڑ بندی میں لے لیا۔۔۔ ججوں سمیت مقتدر حضرات گرامی کو ایسی ایسی دھمکیوں اور القابات سے نوازا کہ قلم کو بیان کرنے کا یارا نہیں۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کچھ باقی نہیں بچے گا۔۔۔ آخر کار آصف علی زرداری کے بقول حکمران طبقہ ان کے ساتھ ’’این آر او‘‘ کرنے پر مجبور ہوا۔۔۔ یہ ہے مختصر داستان ہمارے ملک کے اندر پالتو مرغیوں کی۔۔۔

عطاء الحق قاسمی فیصلے کی زد میں

سپریم کورٹ نے اپنے ایک تازہ ترین فیصلے میں پچھلی حکومت کے دوران عطاء الحق قاسمی کو بطور چیئرمین تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں دو سال سے زائدہ کی مدت ملازمت کے دوران 19 کروڑ کے قریب تنخواہوں اور طے شدہ مراعات کی شکل میں جو رقم دی گئی۔۔۔ اس کا وافر حصہ عطاء قاسمی اور بقیہ اس وقت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید اور تب وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد سے وصول کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔۔۔ سپریم کورٹ ارض وطن کی سب سے بڑی عدالت انصاف ہے۔۔۔ اس کا فیصلہ سر آنکھوں پر۔۔۔ تاہم حیرت اس بات پر ہے ایک شخص جو زندگی بھر ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اردو ادب پڑھاتا رہا۔۔۔ شاعری کی اور دنیا بھر کے مشاعروں میں حصہ لیا۔۔۔ پی ٹی وی کے لیے وقت کے مقبول ڈرامے لکھے۔۔۔ مزاح نگاری میں اپنے معاصرین کو پیچھے چھوڑ گیا۔۔۔ آج بھی اردو پڑھنے والی دنیا کے قارئین کی بہت بڑی تعداد اس کے کالموں اور مزاحیہ جملوں سے روزانہ کے حساب سے لطف اندوز ہوتی ہے۔۔۔ مزید براں اس نے دو ممالک کے اندر پاکستان کا سفیر بن کر اس میدان میں بھی خدمات سر انجام دیں۔۔۔ اگر وہ پی ٹی وی کا چیئرمین مقرر نہیں ہو سکتا تو کیا صرف ’بابو‘ اس کام کے لیے باقی رہ گئے ہیں جو ہر آنے والی حکومت کے وفادار بن جاتے ہیں۔۔۔ امید ہے سپریم کورٹ کے عالی مرتبت جج اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے کم از کم جائز طور پر وصول کردہ تنخواہوں کا بوجھ قاسمی صاحب اور دوسرے لوگوں کے کندھوں پر نہیں ڈالیں گے۔


ای پیپر