ہمیں بھلاان سے واسطہ کیا !
10 نومبر 2018 2018-11-11

پوری مغربی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بڑے متکبر ممالک جو ہمارے بڑے بڑوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ان کے ایئر پورٹوں پر تذلیل کی کتنی ہی کہانیاں موجود ہیں۔ آج برطانیہ، امریکہ، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، ویٹی کن تک اچانک ہم پردادو تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ ہاؤس آف کا منز نے خوشی منائی۔ یورپین پارلیمنٹ کے صدر نے آسیہ اور نیم خواندہ خاندان کو آنے کی دعوت دی ہے! آسیہ کے شوہر عاشق مسیح نے بھی یہاں سے دہائی ٹرمپ و مغربی ممالک کو دی۔ جمائما نے رہائی کے بعد وقتی طور پر آسیہ کے پاکستان میں روک دیئے جانے پر شدید برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا ۔ یہ نیا پاکستان نہیں۔ تبدیلی نہیں آئی۔ آسیہ کو روکنا اس کے پروانہ موت پر دستخط کرنا ہے۔ جمائما کا شدید رد عمل اور آسیہ کے لیے مامتا بھرے جذبات لیے یوں پھٹ پڑنا ، تبدیلی اور نئے پاکستان کی حقیقت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ آسیہ، تیسری دنیا کے ایک کشکول زدہ ملک کے پسماندہ دیہات کی عورت، پوری دنیا کی آنکھ کا تارہ کیونکر بن گئی؟ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس، کی توسیع کا معاملہ آسیہ کی رہائی سے مشروط کیا ۔ ہماری تجارتی مراعات اور رعایتیں ہمارے مشکل معاشی حالات میںآسیہ سے نتھی ہو گئیں۔ اٹلی، سپین سبھی کی جان آسیہ کی رہائی میں کیوں ٹنگی رہی؟ آسیہ کا کمال کیا تھا ۔؟ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کر مرکز نبی معظمؐ کی حرمت کو داغدار کرنے کی جرات آسیہ مسیح نے کی۔ پھر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھی ڈٹ کر اعتراف کیا ۔ اتنی، بہادر، عورت نے پوری مغربی قیادت کے دل جیت لیے۔ اب وہ اعلیٰ ترین اعزازات، تحفظ، وی آئی پی بننے کی اہل قرار پائی۔ خصوصی طیارے، شہریت، عالمی میڈیا کی شہ سرخیاں، ڈالر، پاؤنڈز، یورو سبھی اس پر نچھاور ہوں گے۔ قبل ازیں ایک بے مایہ، کم نوا ملالہ کا سر پر بٹھانا بھی ایسا ہی تھا۔ اسلام سے ضد کا استعارہ۔ اکیسویں صدی کے ساتھ چھڑنے والی ( بش کے اقرار کے مطابق) صلیبی جنگ کا جزوِ لاینفک ادل دن سے توہین رسالت رہا ہے۔ پورے یورپ نے مذہبی جنون کے ساتھ اختلافات کی ساری دھجیاں بکھیر کر مسلسل اس کا ارتکاب کیا ۔ ایک پوری کھیپ دنیا بھر سے شائمان رسولؐ اور دشمنان اسلام کی پال پوس کر آزادی اظہار کے نام پر اپنے ہاں اکٹھی کی ہے۔ سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین سے لے کر پاکستانی بلاگرز اور آسیہ تک دنیا بھر میں یہ پیغام دیا گیا کہ یہ معرکہ جو سر کرے گا، وہ ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ انتہا پسندی، مذہبی جنون، تنگ نظری ، خبث باطن کا یہ اظہار مغرب میں روشن خیالی اور وسعت نظری کہلاتا ہے! اخلاق و کردار کی یہ بد ترین گراؤٹ، روحانی خلا کے مارے حیا سوز معاشروں میں ذرا بھی باعث عار نہیں۔ ان سے تہذیب، انصاف ، اخلاقیات کی تمام اپیلیں لا حاصل ہیں۔ یہ جو یورپ، امریکہ میں سُپربگ، سالانہ 33 ہزار اموات کا سبب بن رہا ہے۔ جس پر کوئی دوا ( اینٹی بائیوٹک ) اثر نہیں کر رہی۔ جس کے اثرات، فلو ، ٹی بی اور ایڈز کو ملا کر ان تمام بیماریوں کے برابر ہیں، سائنس ٹیکنالوجی، طبی ترقی کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سُپربگ صرف جسمانی نہیں روحانی بھی ہے۔ دنیا بھر میں مسلم ممالک پر قیامت بن کر ٹوٹنے والی مغربی طاقتیں، انسانی حقوق کا منہ چڑاتی رہیں۔ سپر بگ بن کر ہماری دنیا کو دکھوں عذابوں کی آما جگاہ بنا دینے والوں پر ان کے ہاتھوں کی کمائی ہے جو طرح طرح رب تعالیٰ نے مسلط کر رکھی ہے۔ موسمیاتی قیامتوں کی صورت ہو یا بیماریوں کے آگے بے بسی کی صورت۔ شانِ رسالت میں گستاخی پر آزادی فکر، سیکولر، لبرل ہونے کے فخریہ لیبل لگا کر شمالی افریقہ کے مسلم ممالک میں اسی توہین رسالت کے سپر گگ بگ نے ایک نئی شکل میں سر اٹھایا ہے۔ مومنوں بلا حدود ، کے نام سے ۔ یہ اصلاً گستاخان بلا حدود ہیں۔ تیونس، موریطانیہ الجزائر اور بالخصوص مراکش سے تعلق رکھنے والے بد باطن، بد نہاد مسلمان، ڈاکٹروں ، صحافیوں کی عالمی تنظیمیں بلا حدود، ( without borders ) تو موجود تھیں۔ جس کے تحت درد دل رکھنے والے ڈاکٹر اور صحافی رنگ نسل قومیت سے ماوراء انسانی خدمت/ حقائق، خبروں تک رسائی کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم مسلمانوں کی نسل نو کے جسے یہ بدنصیبی یقینی آئی کہ گستاخانہ تحریر و تقریر اس تنظیم کا بنیادی ایجنڈہ ہے۔ ان مسلم ممالک میں سالانہ کانفرنسیں منعقد کر کے دریدہ دہنی کی سپر بگ و با کو پھیلانے کے یہ اہتمام ہیں۔ یہاں بلا حدود ذو معنی ہے۔ وہ تمام معاملات جو ’حدود اللہ‘ ہیں۔ اللہ کی باندھی حدیں ہیں جنہیں پھیلانگنے، یا قریب جانے کی بھی ممانعت ہے۔ وہی پار کرنا توڑنا اس لعین گروہ کا موٹو ہے۔ فتنہ دجال یہود کی نبی کریمؐ سے دشمنی کے یہ عالمی مظاہر ہیں۔ ایک طرف مسلم ممالک میں اسرائل کو تسلیم کرنے کی مہم اور دوسری طرف مسلمانان عالم کی حب رسولؐ والی نشہ رگ کو دبوچنے کا یہ مزموم عمل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بد نصیبی تو یہ ہے کہ نظریہ پاکستان بھلا کر ، قومی عزت و وقار عقیدہ و ایمان نگل کر پم مالی پیکیج اور معاشی خوشحالی کی خاطر شان رسالت ؐ تک بیچنے پر آ گئے؟ اس کے حق میں دلائل دینے کی جرأت اور بے خوفی ہماری صفوں میں آن اتری؟ ہم انگاروں سے کھیل رہے ہیں۔ یہ ایشو مسلمانوں میں کبھی متنازع نہیں رہی۔ بانی پاکستان محمد علی جناح ، علامہ اقبال، سر محمد شفیع تک نے شان رسالت پر ساری دانشوری اٹھا کر ایک طرف رکھ دی۔ سادہ لوح عاشق رسول غازی علم الدین شہید کے لیے احساسات و جذبات اور احترام و محبت کا زمزمہ تھا جو بانیان کے رگ و پے سے پھوٹا پڑ رہا تھا۔ حکومت اور تمام مقتدرین نے آسیہ کیس میں پاکستان بھر کے عوام کے جذبات کا منہ چڑایا ہے۔ کراچی ملین مارچ میں عوام کا سمندر اور قبل ازیں بھی غلط فیصلے پر ریفرنڈم تھا۔ ایک طرف آسیہ کے لیے بی بی سی، رائٹر، دنیائے کفر کے سارے لیڈر اپنی بولیاں بول رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومت عوام کے دل بہلا وے اور ذہنی تیاری پر بیک وقت کام کر رہی ہے۔ آسیہ آزاد شہری ہے۔ ( پابند سلاسل تو سارے مومنین صالحین، باشرع ہیں!) ، نقل و حرکت پر پابندی نہیں جہاں چاہیں جا سکتی

ہیں۔ اٹلی: ہم آسیہ کی پاکستان چھوڑنے میں مدد کریں گے، ایسی ہی دیگر خبریں بتا رہی ہیں کہ تادم تحریر تیاری مکمل ہے۔ کسی سفارت خانے کی محفوظ چار دیواری میں آؤ بھگت ہو رہی ہے۔ اسلامیان پاکستان پر بھلے وہ ایم ایم اے کے ملین مارچ میں لاکھوں ہوں بالآخر لاٹھی چارج، آنسو گیس ، پکڑ دھکڑ تیار ہے۔ مولانا سمیع الحق کا نمونہ سامنے رکھ دیاگیا ہے قیادتوں کے لیے۔ لگے ہاتھوں حملہ آوروں نے ایک تیر سے ہمہ جہت بوڑھے شیر کو نشانہ بنایا۔ قندھار میں جنرل عبد الرزاق اور امریکیوں کو لگنے والے زخم کا بدلہ، امریکہ حقانیوں کے درپے تھا۔ ہم سے سارے مطالنے حقانیوں کے گرد گھومتے تھے۔ لو حقانیوں کا باپ ( آسیہ کے بعد) ایک اور گراں قدر ہدف! کفر کا بھی عجب معاملہ ہے جس سے دشمنی کرتا ہے اسے جنت پہنچا کر دم لیتا ہے۔ تاہم یہ بہادر خون لاکھ موجب غم سہی۔ مبارک بہت ہے۔ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔ یہ پاکیزہ خون حرمت رسول ؐ کی پامالی کے سوگواروں کے رگ و پے میں اتر کر تہلکہ برپا کر ے گا۔ تمہاری دنیا زیر و زبر ہو گی۔ کفر دوستی اور دنیائے کفر سے محبت کی پینگیں بڑھانے والے ابنوہ درانبوہ کم نصیب مسلمانوں کے بیچ حق پرستی کے ایسے شیر دل جاں سے گزرنے والے ! یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ دوسری طرف شرالبریۃ (بد ترین خلائق)، اصحاب المشائخہ ( بد بخت ، بائیں ہاتھ والے ) کے ساتھی ! شان رسالت ؐ ایمان و کفر مابین حد ہے۔ سوشل میڈیا ، فیس بک سے اسلام پڑھ کر بے دریغ ، بے خوف بحثیں کرنے والے ذرا جان لیں۔ آخرت پر ایمان رکھنے والے ہر مسلمان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ نبیؐ کے فرمان کے مطابق، آدی اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھے گا ۔ آخرت میں آج آسیہ کے حق میں دلیل بازی بحث مباحثہ خوفناک دن دکھائے گا۔ کوئی اس حال میں اٹھنا چاہے گا کہ اس کے چہار جانب تمام ازلی ابدی شائمان رسول ؐ اور گستاخان نبوت ہوں ؟ کعب بن اشرف ، ریجنالڈ، راجپال سے لے کر سلمان رشدی آسیہ مسیح تک ؟ بتاؤ تم کس کا ساتھ دو گے؟ ادھر قبیلہ ابوجہل کا ، ادھر محمدؐ کا قافلہ ہے۔ وہ جن کے نزدیک جہل اور لا علمی کی بنا پر موت آخری سٹیشن ہے آگے کچھ نہیں۔ وہ دن تو ان کے روکے نہیں رکے گا۔ سیکولرازم، کے جتنے مٹکے چاہیں پی لیں۔ کیونکہ الساعتہ حق! قبر ہی سے اگلی زندگی شروع ہو کر رہے گی ، حکومت نے قوم کا دھیان بٹانے کو عافیہ کہانی شروع کر دی ! 15 سالوں کی بھولی عافیہ عین 8 نومبر کو یاد آئی آسیہ کے تنازع بیچ۔؟ عافیہ اس قوم کے دل کا پھوڑا ہے مگر اسے توجہ بٹانے کے لیے استعمال نہ کریں۔ عافیہ کی رہائی بھی آسیہ کے ہاتھوں مقتدر بن کے منہ پر ملی سیاہی دھو نہیں سکتی ۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں مشرق وزیر فواد چوہدری نے عافیہ کو واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا ! پچھلی وزارت میں عافیہ بیچی تھی؟ تمہی دوا دو گے ۔ مشرف دور علماء کی شہادتوں ، مغرب کی کاسہ لیسی اور ملک فروش سے عبادت تھا۔ مشرفی وزراء کے بیچ عمران خان کی ملک کی آزادی و خود مختاری کے لیے امریکہ یا ڈرون حملوں کی مخالفت والے جزبات اور گھن گرج گھٹ کر ختم ہو گئی ہے ۔ توہین رسالت ؐ ، رب کائنات کے آخری مکرم فرستادہ ؐ کی شان کا تحفظ نہ کر پانا خوفناک جرم ہے۔ اللہ پاکستان پر رحم فرمائے، آمین)

یہ زائرین حریم مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے۔ ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ ؐ سے نا آشنا رہے ہیں۔محمدؐ سے ناشنا سائی ؟ 22 کروڑ اسلامیان پاکستان کی قیادت کی دعوے داری؟


ای پیپر